نہیں خوش بخت محتاجانِ عالم میں کوئی ہم ساملا تقدیر سے حاجت روا فاروقِ اعظم سا ترا رشتہ بنا شیرازۂ جمعیتِ خاطرپڑا تھا دفترِ دینِ کتابُ اﷲ برہم سا مراد آئی مرادیں ملنے کی پیاری گھڑی آئیملا حاجت رَوا ہم کو درِ سلطانِ عالم سا ترے جود و کرم کا کوئی اندازہ کرے کیوں کرترا اِک اِک گدا فیض و سخاوت میں ہے حاتم سا خدارا مہر کر اے ذرّہ پرور مہر نورانیسیہ بختی سے ہے روزِ سیہ میرا شبِِ غم سا تمہارے دَر سے جھولی بھر مرادیں لے کے اُٹھیں گےنہ کوئی بادشاہ تم سا نہ کوئی بے نوا ہم سا فدا اے اُمّ کلثوم آپ کی تقدیر یاوَر کےعلی بابا ہوا ، دُولھا ہوا فاروق اکرم سا غضب میں دشمنوں کی جان ہے تیغِ سر افگن سےخروج و رفض کے گھر میں نہ کیوں برپا ہو ماتم سا شیاطیں مضمحل ہیں تیرے نامِ پاک کے ڈر سےنکل جائے نہ کیوں رفّاض بد اَطوار کا دم سا منائیں عید جو ذی الحجہ میں تیری شہادت کیالٰہی روز و ماہ و سن اُنھیں گزرے۔۔۔
مزید
معروضہ ببارگاہ امیر المؤمنین عمر ابن خطاب بہارِ باغِ ایماں حضرتِ فاروقِ اعظم ہیں چراغِ بزمِ عرفاں حضرتِ فاروقِ اعظم ہیں نمایاں آپ کی ہر ادا سے شانِ فاروقی خدا کی تیغِ برّاں حضرتِ فاروقِ اعظم ہیں اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّار کے مصداق اعلیٰ ہیں مذلِّ کفر و طغیاں حضرتِ فاروقِ اعظم ہیں رسول اللہ ﷺ نے فاروق کو اللہ سے مانگا عطاءِ رب سبحان حضرتِ فاروقِ اعظم ہیں چنا اس پاک نے دیں کیلئے اس پاک ستھرے کو حبیبِ دینِ واراں حضرتِ فاروقِ اعظم ہیں حبیبِ حق ہیں طیّب ان کے ساتھی بھی طاہر ہیں چنیدہ بہرِ پاکاں حضرتِ فاروقِ اعظم ہیں نہ کیوں وہ ذات چمکے جس نے دین پاک چمکایا جہاں کے مہرِ تاباں حضرتِ فاروقِ اعظم ہیں عمر عامر ہیں دین کے حق تعالیٰ ان کا ناصر ہے دل مومن کے تاباں حضرتِ فاروقِ اعظم ہیں رہے گا نام انکا تا ابد کونین میں روشن سپہرِ دین پہ رخشاں حضرتِ فاروقِ اعظم ہیں عمر کافی نبی۔۔۔
مزید