آتے رہے انبیا کَمَا قِیْلَ لَھُمْوَالْخَاتَمُ حَقُّکُمْ کہ خاتم ہوئے تم یعنی جو ہو دفترِ تنزیل تمامآخر میں ہوئی مہر کہ اَکْمَلْتُ لَکُمْ شب لحیہ و شارب ہے رُخِ روشن دنگیسو و شبِ قدر و براتِ مومنمژگاں کی صفیں چار ہیں، دو ابرو ہیںوَالْفَجْر کے پہلو میں لَیَالٍ عَشْرٍ اللہ کی سر تا بہ قدم شان ہیں یہ اِن سا نہیں انسان وہ انسان ہیں یہ قرآن تو ایمان بتاتا ہے انھیںایمان یہ کہتا ہے مِری جان ہیں یہ بوسہ گہِ اصحاب وہ مہر سامیوہ شانۂ چپ میں اُس کی عنبر فامییہ طرفہ کہ ہے کعبۂ جان و دل میں سنگِ اسود نصیب رکنِ شامی کعبے سے اگر تربتِ شہ فاضل ہے کیوں بائیں طرف اُس کے لئے منزل ہے اس فکر میں جو دل کی طرف دھیان گیا سمجھا کہ وہ جسم ہے یہ مرقدِ دل ہے تم چاہو تو قسمت کی مصیبت ٹل جائےکیوں کر کہوں ساعت سے قیامت ٹل جائےللہ اٹھا دو رُخِ روشن سے نقاب مولیٰ مِری آئی ہوئی شامت ٹل جائے یاں شبہ شبیہہ کا گزرنا ۔۔۔
مزید
تابِ مرآتِ سحر گردِ بیابانِ عرب غازۂ روئے قمر دودِ چراغانِ عرب اللہ اللہ بہارِ چمنستانِ عرب پاک ہیں لَوثِ خزاں سے گُل و رَیحانِ عرب جوشِش ابر سے خونِ گلِ فردوس کرے چھیڑ دے رگ کو اگر خارِ بیابانِ عرب تشنۂ نہرِ جِناں ہر عربی و عجمی! لبِ ہر نہرِ جِناں تشنۂ نیسانِ عرب طوقِ غم آپ ہوائے پرِ قمری سے گرے اگر آزاد کرے سروِ خرامانِ عرب مہر میزاں میں چھپا ہو تو حمل میں چمکے ڈالے اِک بوند شبِ دے میں جو بارانِ عرب عرش سے مژدۂ بلقیسِ شفاعت لایا طائرِ سدرہ نشیں مرغِ سلیمانِ عرب حسنِ یوسف پہ کٹیں مصر میں انگشتِ زناں سر کٹاتے ہیں تِرے نام پہ مردانِ عرب کوچے کوچے میں مہکتی ہے یہاں بوئے قمیص یوسفستاں ہے ہر اِک گوشۂ کنعانِ عرب بزمِ قدسی میں ہے یادِ لبِ جاں بخش حضور عالمِ نور میں ہے چشمۂ حیوانِ عرب پائے جبریل ۔۔۔
مزید
واہ کیا جود و کرم ہے شہِ بطحا تیرا’’نہیں‘‘ سنتا ہی نہیں مانگنے والا تیرادھارے چلتے ہیں عطا کے وہ ہے قطرہ تیراتارے کھلتے ہیں سخا کے وہ ہے ذرّہ تیرافیض ہے یا شہِ تسنیم نرالا تیراآپ پیاسوں کے تجسّس میں ہے دریا تیرااَغنیا پلتے ہیں در سے وہ ہے باڑا تیرااَصفیا چلتے ہیں سر سے وہ ہے رستا تیرافرش والے تِری شوکت کا عُلو کیا جانیںخسروا! عرش پہ اڑتا ہے پھریرا تیراآسماں خوان، زمیں خوان، زمانہ مہمانصاحبِ خانہ لقب کس کا ہے تیرا تیرامیں تو مالک ہی کہوں گا کہ ہو مالک کے حبیبیعنی محبوب و محب میں نہیں میرا تیراتیرے قدموں میں جو ہیں غیر کا منہ کیا دیکھیںکون نظروں پہ چڑھے دیکھ کے تلوا تیرابحر سائل کا ہوں سائل نہ کنوئیں کا پیاساخود بجھا جائے کلیجا مِرا چھینٹا تیراچور حاکم سے چھپا کرتے ہیں یاں اس کے خلافتیرے دامن میں چھپے چور انوکھا تیراآنکھیں ٹھنڈی ہوں جگر تازے ہوں جانیں سیرابسچے سورج وہ دل آرا ہے اجالا تیر۔۔۔
مزید