احمد اشرف اشرفی
جیلانی، اشرف المشائخ سیّد شاہ
نام: احمد
اشرف
کنیت: ابو محمد
لقب: اشرف
المشائخ
والدِ
محترم: خلیفۂ حضور اشرفی میاں قطبِ ربّانی حضرت سیّدشاہ
محمد طاہر اشرف اشرفی جیلانی
نسب:
آپ نسباًجیلانی ساداتِ کرام سے ہیں، ستائیس
ویں پشت میں سرکار غوثِ اعظم شیخ عبدالقادرجیلانی بغدادی
قُدِّسَ
سِرُّہُ الْعَزِیْزکی اولاد سے ہیں۔
سلسلۂ
نسب:
آپ کا سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
اشرف المشائخ حضرت ابو محمد
سیّد احمد اشرف اشرفی جیلانی بن قطبِ
ربّانی حضرت ابو مخدوم شاہ سیّد محمد طاہر اشرف اشرفی جیلانی (متوفّٰی 1381ھ) بن حضرت
حافظ سیّد حسین اشرف اشرفی جیلانی (متوفّٰی 1318ھ) بن حضرت سیّد محمود اشرف اشرفی
جیلانی بن حضرت سیّد حامد اشرف اشرفی جیلانی اِلٰی
آخِرِہٖ۔
تاریخِ ولادت: 17؍ محرم الحرام 1350ھ مطابق5؍ جون 1931ء، بروزِ جمعہ
مقامِ ولادت: محلہ چوڑی والاں، دہلی (انڈیا)۔
تعلیم
و تربیت:
ابتدائی تعلیم والد محترم و والدہ محترمہ
سے حاصل کی۔ حضرت حافظ بھورے سے قرآنِ مجید حفظ کیا۔ مدرسۂ عالیہ فتحپوری دہلی سے
درسِ نظامی سے فراغت حاصل کی۔
بیعت
و خلافت:
اپنے والدِ محترم حضرت سیّد محمد طاہر اشرف اشرفی جیلانی(خلیفۂ حضور اشرفی میاں) سے
سلسلۂ عالیہ چشتیہ اشرفیہ میں دستِ بیعت ہوئے۔ حضرت نے اپنے لختِ جگر کو خلافتِ
اشرفیہ اور تمام سلاسلِ طریقت کی خلافت
سے نوازا اور خرقۂ کلاہِ اشرفی پہنایا۔
ان کے علاوہ حضرت مخدوم المشائخ سیّد محمد مختار اشرف اشرفی جیلانی (نبیرۂ و جانشینِ حضور
اشرفی میاں)نے بھی خلافتِ اشرفیہ سے نوازا۔
تحریکِ
پاکستان:
خاندانِ اشرفی نے تحریکِ پاکستان میں بڑھ
چڑھ کر حصہ لیا ۔ اس وجہ سے ہندو بلوائیوں
نے دہلی کے قطب روڈ پر آپ کے چچا سیّد سلطان اشر ف کو نہایت بے دردی سے شہید کر
دیا اور اس وقت مسلمان علاقوں پر ہندوؤں کا تشدد بڑھنے لگا تو آپ کا خاندان دہلی
سے نقلِ مکانی
کر کے پاکستان آ گیا۔ آپ نے پہلے لاہور پھر کراچی میں مستقل قیام فرمایا، پھر مسکنِ سادات
فردوس کالونی میں مقیم ہو گئے۔ خانقاہِ اشرفیہ قائم کرکے رُشد و ہدایت کا سلسلہ والد
صاحب کے ہمراہ جاری تھا کہ والدِ ماجد علیل ہو گئے اور تمام ذمّے داری اپنے جانشین
یعنی آپ کے سپرد فرمادی۔ حضرت طاہر اشرف نے باقاعدہ علما و مشائخ کی موجودگی میں
آپ کو اپنا جانشین بنایا اور خود گوشہ نشین ہوگئے۔
مجاہدات:
آپ نے اپنے پیر و مُرشِد حضرت سیّد طاہر
اشرف اشرفی جیلانی کی زیرِ نگرانی صرف ’’اَللہُ الصَّمَد‘‘کے
ستر (۷۰) چلّے مکمل کیے۔ اس کے علاوہ حزب البحر، سورۂ
مزمّل، دعائے سیفی، دعائے حیدری اور سورۂ اخلاص کے چلّے بھی کیے۔
سفر ِحرمین
شریفین:
جب تک صحت نے ساتھ دیا آپ نے ہر سال
حرمین شریفین کا سفر اختیار کیا۔ اس طرح سترہ بار (۱۷) حجِ بیت اللہ و مدینۂ منوّرہ میں روضۂرسولﷺ کی حاضری کی
سعادت حاصل کی۔
تصنیف
و تالیف:
آپ کو لکھنے پڑھنے سے شغف رہا۔ اسی کا
نتیجہ ہے کہ ۱۹۷۹ء کو
ایک علمی ، روحانی اور ادبی مجلہ بنام ’’الاشرف، کراچی‘‘ کا
اجرا فرمایا جو کہ گزشتہ ۲۶ سال
سے اہلِ سنّت
و جماعت اور سلسلۂ اشرفیہ کی ترویج و اشاعت میں مصروف ہے۔ اس کے علاوہ درجِ ذیل تحاریر
بھی آپ کی یادگار ہیں:
1.
روضۃالمحدثین
2.
حیات و اَفکارِ
حضرت مخدوم سمنانی
3.
حضرت قطبِ ربّانی،
علمائے اہلِ سنّت کی نظر میں
4.
بے نمازی کی سزا
5.
فضائلِ رمضان
6.
اظہارِ حقیقت
7.
فضائلِ عیدین
8.
صراطِ مستقیم
9.
روحانی تربیت کورس
10.
نمازِ مترجم
11. مقبول
دعائیں
12.
وظائفِ اشرفیہ
13.
سوانح داتا گنج
بخش
14.
تذکرۂ مشائخِ
اشرفیہ
15.
حیات و افکارِ
اشرفی میاں
16.
حیاتِ قطبِ ربانی
خلفاء:
آپ کے خلفائے کرام میں سے بعض کے نام درجِ
ذیل ہیں:
1.
خطیبِ
اسلام علامہ سیّد محمد مدنی میاں اشرفی (انڈیا)
2.
شیخ
الحدیث علامہ عبدالحکیم شرف قادری(لاہور)
3.
مُناظرِاہلِ سنّت علامہ عبدالتوّاب صدّیقی(لاہور)
4.
مُناظرِ
اہلِِسنّت علامہ سعید احمد اسعد(فیصل
آباد)
5.
علامہ
پیر سیّد منوّر علی شاہ جیلانی (پیرآف نورائی شریف، حیدر آباد، سندھ)
6.
علامہ
عبدالرشید اسماعیل اشرفی(افریقہ)
7.
علامہ
محمد عباس قادری اشرفی
خدمات:
آپ نے پاکستان کے علاوہ بیرونِ ممالک مثلاً
ہالینڈ، جرمنی، فرانس، بیلجئم، بنگلہ دیش، ہندوستان، متحدہ عرب امارات وغیرہ کے
متعدد بار تبلیغی و روحانی دورے کیے، ذکر و فکر کے حلقے برپا کیے، علمائے اہلِ سنّت
کو مدعو کرکے جلسے منعقد کیے۔ اس سلسلے میں درجِ ذیل مراکز بھی قائم فرمائے۔
1.
مرکزِ اشرفیہ روٹر ڈیم (ہالینڈ(
2.
مرکزِ اشرفیہ ڈربن
،ساؤتھ افریقہ
3.
مرکزِ اشرفیہ
موزمبیق
4.
مرکزِ اشرفیہ
(ملتان کینٹ)
5.
مرکزِ اشرفیہ
سرگودھا روڈ فیصل آباد
آپ کی اس سعیِ بلیغ
سے غیر مسلم مسلمان ہو کر آپ سے سلسلۂ چشتیہ اشرفیہ میں بیعت ہوئے۔ فسق و
فجور میں گرفتار مسلمان آپ کی صحبت سے مثالی انسان بنے۔ اس طرح اسلام و سنّیت کی
خوب خدمت ہوئی۔
قاتلانہ
حملے:
۱۹۷۴ء کو
آپ پر، درگاہِ اشرفیہ فردوس کالونی کراچی میں قاتلانہ حملہ ہوا، جس میں آپ شدید
زخمی ہوگئے۔ ناک کی ہڈّی ٹوٹ گئی اور سر پر چوٹ آئی۔ اس کے علاوہ پان میں زہر دیا
گیا ،جس سے آپ کو شدید تکلیف اُٹھانی پڑی سفلی علم کے ذریعے بھی آپ کو جان
سے مارنے کی کوشش کی گئی لیکن دشمنوں کے ان تمام حملوں کا آپ نے بہادری و جواں مردی
سے مقابلہ کیا۔ آپ کو قتل کی دھمکیاں بھی دی گئیں، لیکن آپ کے پائے ثبات میں
کوئی لغزش نہ آئی اور نہ ہی رُشد و ہدایت کا سلسلہ رکا۔ آپ بِفَضْلِہٖ
تَعَالٰیمحفوظ
رہے اور اپنے معمولات و مشغولیت میں مصروف و مشغول رہے۔
شادی
و اولاد:
آپ کو اللہ تعالیٰ نے آٹھ بیٹیوں اور پانچ بیٹوں سے
نوازا۔ آپ کے صاحبزادگان جدید و قدیم علوم سے سرفراز ہیں اور صاحبزادیاں بھی عالمہ
فاضلہ ہیں۔
1.
علامہ
ڈاکٹر حافظ سیّد محمد اشرف اشرفی جیلانی، پی ایچ ڈی، سجادہ نشین درگاہِ اشرفیہ، ایڈیٹر
ماہ نامہ الاشرف کراچی
2.
علامہ
ڈاکٹر سیّد اشرف اشرفی جیلانی
3.
سیّد
اعراف اشرف اشرفی
4.
حکیم
مولانا سیّد اشرف اشرفی جیلانی
5. حافظ سیّد جمال اشر ف اشرفی
تاریخِ وصال: 14؍ ذیقعدہ 1426ھ مطابق 17؍ دسمبر
2005ء، شبِ ہفتہ رات سوا ایک بجے۔
نمازِ
جنازہ:
بروزِ ہفتہ بعد نمازِ ظہر امیر حمزہ مسجد
شریف کے پارک میں آپ کی نمازِ جنازہ ڈاکٹر سیّد محمد اشرف اشرفی جیلانی (جانشین)
کی امامت میں ادا کی گئی۔
مزارِ
پُر اَنوار:
آپ کو درگاہِ عالیہ اشرفیہ، اشرف آباد ،
فردوس کالونی ، گولی مار، ناظم آباد کراچی میں آپ کے پیر و مرشد و والدِ گرامی
کے پہلو میں سپردِ خاک کیا گیا۔
تاریخی
مادّہ ہائے سالِ وصال:
علامہ ڈاکٹر کوکب نورانی اوکاڑوی خطیب
گلزارِ حبیب مسجد سولجر بازار کراچی نے مادۂ سن وصال کہے: ان میں سے دو مادّے درجِ
ذیل ہیں ایک سے سن ہجری تودوسرے سے سن عیسوی برآمد ہوتے ہیں۔
مُحبِّ الٰہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ : 1426ھ
محبِ حبیبِ یکتا ، مخدوم سیّد احمد اشرف جیلانی: 2005ء
ماخذ:
اَنوارِعلماءِ
اہلِ سنّت
سندھ (اس مضمون کی تیاری میں ماہنامہ الاشرف کراچی کے خصوصی شمارہ ’’اشرف المشائخ
نمبر‘‘ محرم الحرام 1427ھ/ فروری
2006ء سے خصوصی طور پر استفادہ کیا گیا ۔)
