جمعرات , 06 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Thursday, 23 April,2026

سیدنا محمد بن ابی بن کعب رضی اللہ عنہ

ہم ان کا نسب، اِن کے ولد ابو معاذ کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں۔ یہ صحابی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پیدا ہُوئے، اپنے والد اور حضرت عمر سے روایت کی۔ خود ان سے حضرمی بن لاحق اور بشیر بن سعید نے روایت کی۔ تینوں نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیدنا محمد بن اسود بن خلف رضی اللہ عنہ

بن اسعد بن بیاضہ ب بسیع بن خلف بن جعثمہ بن سعد بن ملیح بن عمرو بن ربیعۃ الخزاعی اور وہ طلحہ الطلحات بن عبد اللہ بن خلف کا عمزاد تھا۔ اس کا نسب شباب العصفری بن خیاط نے بیان کیا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث نقل کی کہ ہر اونٹ کے کوہان پر شیطان ہے ابن مندہ اور ابو نعیم نے یہی روایت کی ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیدنا محمد بن ایاس البکیر کنانی رضی اللہ عنہ

ہم اس کے نسب کا ذکر اس کے والد کے تذکرے میں کر آئے ہیں انھیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میّسر تھی ان سے کوئی حدیث مروی نہیں انھوں نے ابن عباس سے روایت کی ہے لیکن صحابیت کا انتساب درست نہیں۔ ۔۔۔

مزید

سیدنا محمّد بن ابی برزہ رضی اللہ عنہ

ابراہیم بن سعد نے عبد اللہ بن عامر سے اس نے ایک آدمی سے جس کا نام محمد بن ای برزہ تھا سنا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں اس طرح ابراہیم بن سعد نے عبد اللہ سے، اس نے محمدک بن برزہ سے سنا، اور یہ سند صحیح تر ہے۔ ابو موسیٰ نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیدنا محمّد بن جدبن قیس رضی اللہ عنہ

بقولِ ابن قداح فتح مکّہ میں موجود تھے۔ ابو موسیٰ نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیدنا محمّد بن جابر بن غراب رضی اللہ عنہ

فتح مصر میں موجود تھے۔ ان کا شمار صحابہ میں ہے۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیدنا محمّد بن زید الانصاری رضی اللہ عنہ

ان سے ابو حاتم الرازی نے تخریج کی عمرو بن قیس نے ابن ابی لیلیٰ سے، اُس نے عطا سے اُس نے محمد بن زید سے روایت کی کہ ایک دفعہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شکار کا گوشت لایا گیا آپ نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ میں نے احرام باندھا ہوا ہے۔ تینوں نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیدنا محمّد بن ضمرہ رضی اللہ عنہ

بن اسود بن عباد بن غنم بن سواد: حضور اکرم نے ان کا نام محمد رکھا تھا۔ فتح مکّہ کے موقعہ پر موجود تھے۔ اس کی تخریج ابو موسیٰ نے کی ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیدنا مُحِرشْ الکعبی رضی اللہ عنہ

ابن ماکو لانے حرف اول پر پیش (ضمہ) اور حرف ثالث راکو مشدد کر کے کسرہ پڑھا ہے۔ ابو عمر نے بہ کسر میم و سکون حا بیان کیا ہے۔ علی بن مدینی آخر الذکر کو درست کہتا ہے۔ ابو عمر نے اسماعیل بن امیّہ سے اس نے مزاحم سے، اُس نے عبد العزیز بن عبد اللہ بن خالد بن اسید سے اس نے مخرش الکعبی سے روایت کی۔ کہ ایک رات کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ سے نکلے اور پھر اس نے حدیث نقل کی۔ ابن المدائنی کہتا ہے۔ کہ مزاحم سے مراد مزاحم بن ابی مزاحم ہے اس سے ابن جریج وغیرہ نے روایت کی ہے اور اس سے مراد مزاحم بن زفر نہیں ہے۔ ابو حفص القلاس کا بیان ہے کہ مَیں مکہ کے ایک شیخ کو جس کا نام سالم تھا ملا۔ اور منی تک اس سے ایک اونٹ کرائے پر لیا۔ اُس نے مجھ سے یہ حدیث سنانے کی خواہش کی۔ کہنے لگا۔ محرش بن عبد اللہ میرا دادا تھا۔ پھر اُس نے وہ حدیث بیان کی اور نیز بتایا کہ کس طرح حضور اکرم صلی ۔۔۔

مزید

سیدنا محمد بن اسلم بن بجرۃ الانصاری رضی اللہ عنہ

بنو حارث بن خزرج کے بھائی تھے اُنھوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور اُن کے والد کو حضور کی صحبت میّسر آئی۔ محمد بن اسحاق نے عبد اللہ بن ابی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم سے اسنے محمد بن اسلم بن بجرۃ الانصاری سے، جو بنو حارث بن خزرج کا بھائی تھا اور کافی بوڑھا ہو چُکا تھا۔ روایت کی کہ وہ جب بھی شہر میں آتا اور بازار میں خرید و فروخت کرچکتا اور واپس گھر کو لوٹتا اور چادر اُتار کر رکھتا تو اسے یاد آجاتا کہ اس نے مسجد نبوی میں دو رکعت نماز ادا نہیں کی، تو اسے اس فرو گزاشت پر افسوس ہوتا ہے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا جو شخص اس شہر(مدینے) میں وارد ہو، اسے چاہیے کہ میری مسجد میں دو رکعت ادا کرے چنانچہ وہ پھر گھر سے لوٹ کر مدینۃ النبی میں آتا دو رکعت نماز ادا کرتا اور واپس چلا جاتا۔ ابن مندہ اور ابع نعیم نے مختصراً اسی طرح بیان کیا ہے ابو عمر ک۔۔۔

مزید