غیر منسوب ہیں۔ شام میں سکونت اختیار کرلی تھی۔ اشعث بن سوار نے محمد بن سیرین سے انہوں نے میمون سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے فتح شام سے پیشتر ہی وہاں ایک جاگیر کی درخواست کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فرمان لکھ دیا۔ جس میں جاگیر کا حکم تھا۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں شام فتح ہوا، تو انہوں نے وہ فرمان حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا۔ خلیفہ نے اس کے تین حصّے کر کے ایک حصّہ مسافروں کے لیے ایک اس کی تعمیر کے لیے اور ایک جناب میمون کے لیے مخصوص کردیا۔ ابو نعیم اور ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
محلہ رکاب گنج خیر آباد میں ۱۲۶۲ھ میں ولادت ہوئی،آپ کے والد لطف حسین صدیقی فوجی قیادت اور امور سیاست کے ماہر تھے،اور پھول میں ملازم تھے،۲۲؍ربیع الاول ۱۳۱۲ھ میں وہ بھوپال ہی میں فوت ہوئے،لطف حسین صدیقی کے والد حضرت حسین ابن محمد پناہ اپنے وقت کے بڑے عالموں میں سے تھے،اور سلسلۂ قادریہ کے مشہور مرشد اور عبداللہ ابن عتیق محمد ابن عبد الرحمٰن بن ابو بکر رضی اللہ عنہم کی اولاد میں تھے،اور سلسلۂ قادریہ کے مشہور مرشد اور عبداللہ ابن عتیق محمد ابن عبد الرحمٰن بن ابو بکر رضی اللہ عنہم کی اولاد میں تھے، یہ وہ شجرۂ نسب ہے جس کو آپ کے فرزند حضرت فرد افراد مولانا محمد علی حسین علیہ الرحمۃ نے‘‘سیرت محمد اعظم’’ میں نقل فرمایا ہے۔۔۔۔۔ ‘‘تذکرۂ شعراء حجاز اردو’’ میں امداد صابری دھلوی صاحب نے مؤلف تذکرہ آثار الشعراء کے حوالے سے حضرت حسین صدیقی کا نام حکیم کادم حسین اور بحوالہ مؤلف تاریخ تاج الاقبال حضرت حسی۔۔۔
مزید
آپ غازی پوری کے نامور مشائخ خاندان کے ممتاز فرد تھے،علوم کی تکمیل اپنے بزرگ والد شاہ محمد فصیح علیہ الرحمۃ سے کی،آپ کو وعظ و تذکیر میں زبردست قبول عام حاصل تھا،آپ فصیح اللّسان تھے،غیر مقلدین کا آپ شدید رد فرماتے تھے،اسی بناء پر حکیم عبد الحئی مؤلف ‘‘نزہۃ الخواطر’’ نے آپ کو قلیل العلم وغیرہ قسم کی و شنام دی ہے،۱۶؍رمضان المبارک ۱۳۱۵ھ کو غازی پور میں آپ کا وصال ہوا،مدفن بھی وہیں ہے اہل سنّت کے اسٹیج کے نامور فصیح اللّسان مقرر علامہ ابو الوفا فافصیحی غازی پوری ناظم اعلیٰ کل ہند جماعت رضائے مصطفیٰ آپ کے پوتے ہیں۔ ۔۔۔
مزید
بن محصن بن علس کندی ابو شجر: ہم ان کا ذکر کنیتوں کے تحت کریں گے۔ ۔۔۔
مزید
بن صمہ بن عمرو بن جموح: احد اور اس کے بعد کے تمام غزوات میں شریک رہے اور حرہ کے موقع پر مارے گئے۔ یہ معاذ بن عمرو بن جموح کے بھتیجے تھے۔ ہم ان کا ذکر بھی کریں گے۔ ۔۔۔
مزید
بن عمرو بن قیس بن عبد العزی بن غزیہ بن عمرو بن عدی بن عوف بن مالک بن نجار انصاری خزرجی: احد اور بعد کے تمام غزوات میں شامل رہے۔ جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔ یہ غسانی کی روایت ہے ابن القداح سے۔ ۔۔۔
مزید
بن معدان: انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ قطبہ بن جریر نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر اسلام قبول کیا اور بیعت کی۔ ان سے عمران بن جریر نے روایت کی۔ کہا جاتا ہے کہ اِن کی روایت مرسل ہے۔ ابو عمر نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابو زہرہ: ان سے یہ حدیث مروی ہے کہ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھتے تو فرماتے ’’اللّٰھُمَّ لَکَ صُمْتُ‘‘: یحییٰ بن یونس نے انہیں صحابہ میں شمار کیا ہے۔ حصین بن عبد الرحمان نے ان سے روایت کی جعفر کا قول ہے کہ وہ تابعی تھے۔ جس شخص نے ان کی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحبت ثابت کی ہے، وہ غلطی پر ہے۔ ابو موسیٰ نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید