حضرت شاہ مقیم محکم الدین صاحبِ حجرہ کی اولادِ امجاد سے تھے۔ موضع بیگم کوٹ لاہور میں سکونت تھی۔ اپنے وقت کے زاہد و عابد، عالم و عامل اور صوفئ کامل تھے۔ تمام عمر درس و تدریس اور ہدایتِ خلق میں گزاری۔ جب احمد شاہ ابدالی نے پنجاب پر حملے کرنے شروع کیے تو اس کے لشکر کی تخت و تاراج کی وجہ سے لاہور کی کئی مضافاتی آبادیاں خالی ہوگئیں۔ بیگم کوٹ کے گرد و نواح کے لوگ آپ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ اکثر و بیشتر لوگ افغانی غارت گری کے خوف سے اپنے مال و متاع اور متعلقین کو لے کر نقلِ مکانی کر گئے ہیں۔ ہمارے لیےکیا حکم ہے۔ فرمایا جو کوئی بیگم کوٹ میں آجائے گا وہ محفوظ رہے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ظہور پذیر ہُوا اور بیگم کوٹ افغانوں کی لُوٹ مار سے محفوظ رہا۔ ۱۱۸۱ھ میں وفات پائی۔ چوں محمد عظیم اعظمِ وقت رحلتش ’’فاضلِ کریم‘‘ آمد ۱۱۸۱ھ شد بصد عظمت از زمانہ جدا نیز ’&rsquo۔۔۔
مزید
سال پیدائش تقریباً ۱۹۰۹ء، اگر ہرا،ضلع بستی وطن، مولد ومنشا، اُستاذ العلماء حضرت مولانا مشتاق احمد کان پوری سے مدرسہ شمس العلوم بد ایوں، دارالعلوم کانپور میں تعلیم پائی، حضرت صدر الافاضل مولانا حکیم سید نعیم الدین فاضۂ مراد آبادی سے بیعت کا تعلق قائم کیا فراغت کے بعد تلسی پور میں مدرسہ انوار العلوم قائم کیا، گونڈہ، بستی، بہرائچ میں علم دین کا اُجالا آپ ہی کی ذات سے پھیلا، آپ نے غیر مقلدین کے ساتھ مختلف مقامات پر مناظرے کیے، اور اُن کے رد میں آپ نے متعدد رسالے تالیف کیے، آپ کی شخصیت وجیہہ، بارعب، پروقار ہے،۔۔۔
مزید
ابو عبداللہ کنیت۔ حماد بن مسلم دیاس نام۔ دیاس دوشاب فروش کو کہتے ہیں اور دوشاب انگور یا کھجور کے شیرہ کو کہتے ہیں جو باسی اور ترش ہوچکا ہو۔ اسی اعتبار سے اس کو دوش آب یعنی باسی کہا جاتا ہے۔ (نیز اس کے معنی ٹھنڈا پانی بیچنے والے کے بھی ہیں) اپنے زمانے کے پیرانِ کبار، عارفِ اسرار اور صاحبِ خوارق و کرامت میں سے تھے۔ حضرت غوثِ اعظم کے پیر بھائی تھے۔ حضرت ِثقلین اکثر آپ کی خدمت میں جاتے تھے اور فوائد عظیم حاصل کرتے تھے۔ اگرچہ اَن پڑھ تھے مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو علم لدنی عطا فرماکر دولتِ علم سے مالامال کردیا تھا۔ آپ کے کم و بیش بارہ ہزار مرید تھے۔ ایک روز فرمانے لگے میرے بارہ ہزار مرید ہیں اور ہر رات میں سب کو یاد کرتا ہوں اور ان کی ضرورتون کو خدا سے طلب کرتا ہوں۔ ان میں سے اگر کوئی گناہ کے جرم میں مبتلا ہوتا ہے تو اس کےلیے توبہ کی توفیق کی دعا مانگتا ہوں یا پھر اس کے لیے جہان سے اٹھالینے کی در۔۔۔
مزید
حضرت غوث الاعظم کے کامل و اکمل خلفأ سے تھے۔ فتوحاتِ مکیہ میں مذکور ہے کہ حضرت غوث الاعظم نے آپ کے متعلق فرمایا تھا کہ محمد ابن القاید اپنے زمانے میں منفرد ہیں اور منفردین، وہ جماعت ہے جو دائرہ قطب سے خارج ہے۔ حضرت خضر نیز رسول اللہﷺ بعثت سے پہلے انہی سے تھے۔ ابن القاید فرماتے ہیں کہ میں نے ماسوا اللہ سے روگردانی کرلی اور ترکِ علائق کے بعد میں حضرت کی خدمت میں آگیا۔ اچانک میں نے اپنے سامنے ایک پاؤں کا نشان دیکھا۔ مجھے غیرت آئی اور سوچنے لگا کہ یہ کس کے پاؤں کا نشاں ہے کیونکہ میں اپنے خیال میں یہ سمجھتا تھا کہ مجھ سے کوئی سے سبقت نہیں کرسکتا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ قدم رسول اللہﷺ کے نشان ہیں جس سے مجھے اطمینان ہوگیا۔ ۵۷۶ھ میں وفات پائی۔ قطعۂ تاریخِ وفات: چوں محمد از جہاں بالطفِ حق رحلتش سردارِ عالی شد عیاں ۵۷۶ھ گشت در فردوسِ والا بہرہ یاب نیز شد روشن محمد آفتا۔۔۔
مزید
تاج العارفین شیخ ابوالوفا[1] سے بیعت تھے۔ بڑے زاہد و عابد اور صاحبِ کرامت تھے۔ حضرت غوثِ اعظم کی مجلس میں حاضر ہوا کرتے تھے۔ صاحبِ انیس القادریہ رقم طراز ہیں کہ آپ نے ایک روز فرمایا: میں مجلس حضرت غوث الثقلین میں حاضر تھا اور حضرت منبر کے پہلے پائے پر وعظ فرمارہے تھے کہ دورانِ وعظ میں دفعتًہ خاموش ہوگئے اور منبر سے نیچے اتر کر زمین پر آگئے۔ ساعت بھر خاموش رہے۔ پھر منبر کے پایۂ دوم پر رونق افروز ہوکر وعظ کہنا شروع کیا۔ اس دوران میں نے مشاہدہ کیا کہ منبر حدِ نظر تک کشادہ ہوگیا ہے اور اُس پر سبز رنگ کی مسند بچھائی گئی ہے اور حضرت رسالت مآبﷺ صحابہ کبار کے ساتھ جلوہ افروز ہوئے ہیں اور حق تعالیٰ نے حضرت غوث اعظم کے دل پر تجلّی فرمائی ہے اور حضرت غوث انوارِ تجلّی کی شدّت سے گراہی چاہتے ہیں کہ حضورِ اقدس انہیں سنبھال لیتے ہیں۔ پھر میں کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت کا جسم چھوٹا ہوتا چلا جاتا ہے یہاں تک ک۔۔۔
مزید
آپ کا شمار مشائخ ِکبار اور بزرگ ترین اولیا اللہ میں سے ہوتا ہے۔ تاج العارفین شیخ ابوالوفاء کے مرید و خلیفہ تھے۔ حضرت غوثِ اعظم کی خدمت میں حاضر ہوکر فیوض و برکات سے حصّۂ وافر حاصل کرتے تھے۔ جس وقت حضرتِ اعظم نے ‘‘قدمی ھذا علٰی رقبۃ کل ولی اللہ’’ فرمایا تھا تو آپ پہلے شخص تھے جنہوں نے منبر پر جاکر حضرت کا قدمِ مبارک اپنی گردن پر رکھا تھا۔ ایک روز آپ حضرت غوثِ اعظم کی مجلسِ وعظ میں شریک تھے اور آپ کے نزدیک ہی بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ پر غلبۂ خواب طاری ہونا شروع ہُوا۔ ان کی یہ حالت دیکھ کر حضرت غوث اعظم نے فرمایا: اے اہلِ مجلس خاموش ہوجاؤ اور آپ خود منبر سے نیچے تشریف لاکر اُن کے پاس باادب کھڑے ہوگئے۔ جب شیخ علی بیدار ہوئے تو حضرت نے پوچھا: کیا رسول اللہﷺ کو خواب میں دیکھا: عرض کیا: ہاں۔ فرمایا: میں اسی لیے تو حضورِ اقدس کے احترام میں مودب کھڑا تھا۔ پوچھا کس بات کی وصیت۔۔۔
مزید
ابوبردہ انصاری،جابر بن عبداللہ ان کے راوی ہیں،کہ ابواحمد بن سکینہ نے بتایا،کہ انہیں ابوغالب الماءروی نے عطیتہً باسنادہ ابوداؤد سجستانی سے،انہوں نے قتیبہ بن سعید سے،انہوں نے لیث سے، انہوں نے یزید بن ابی حبیب سے،انہوں نے بکیر بن عبداللہ بن اشجع سے،انہوں نے سلیمان بن یسار سے،انہوں نے عبدالرحمٰن بن جابر سے،انہوں نے ابوبردہ سےروایت کی،کہ حضورِاکرم نے فرمایا،کہ کسی شخص کو بھی بغیر حدود اللہ کے دس کوڑوں سے زیادہ مت مارو۔ نیزبکیر بن عبداللہ نے سلیمان سے،انہوں نے عبدالرحمٰن بن جابر سے،انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے ابی بردہ سےروایت کی،احمد بن زہیر کہتے ہیں،کہ وہ ظفری ہیں،یا کوئی اور،ان کے علاوہ کسی اور راوی کاقول ہے کہ اس حدیث کو جابر نے ابوبردہ بن نیار سے روایت کیا ہے،ابونعیم نے ابن نیار کے ترجمے میں ان کا ذکر کیا ہے،واللہ اعلم،ابوعمر نے ان کا ذکر کیاہے۔ ۔۔۔
مزید
بن حبیب بن عبید بن حارث انصاری: غسانی نے واقدی سے روایت کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن عثمان بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ قرشی تیمی: فتح مکہ کے دن ایمان لائے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے۔ ان کے بیٹے عبید اللہ بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے مستفیض ہوئے۔ ابو عمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن ابی الہیثم اسدی: ایک روایت میں معقل بن ابی معقل اور معقل بن ام معقل بھی آیا ہے، لیکن آدمی ایک ہی ہے۔ مدنی ہے۔ ان سے ابو سلمہ ابو زید اور ام معقل نے روایت کی ہے۔ عمرو بن ابی عمرو نے ابو زید سے انہوں نے معقل بن ابی الہیثم اسدی سے جوان کے حلیف تھے، اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے۔ انہوں نے روایت کی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بول اور پاخانہ کرتے وقت کعبے کا رُخ کرنے سے منع فرمایا۔ نیز ان سے یہ حدیث بھی مروی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رمضان میں عمرے کا ثواب حج جتنا ہے۔ یہ امیر معاویہ کے عہد میں فوت ہوئے۔ تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید