ابن ابی عوف بن عویف بن مالک بن کیسان بن ثعلبہ بن عمرو بن لشکر بن علی بن مالک بن سعد بن نذیر بن قسر بن عبقر بن اثمار بن اراش بجلی۔ان کا نام عبد شمس تھا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں جب یہ گئے تو آپ نے ان کا نام عبداللہ رکھا۔یہ کلبی کا قول ہے۔۔۔۔
مزید
ابن عوف بن عبدعوف بن حارث بن زہرہ ۔عبدالرحمٰن بن عوف کے بھائی ہیں ابن شاہین نے کہا ہے کہ یہ اور ان کے بھائی اسود فتح مکہ کے دن اسلام لائے تھے ان کا ایک گھر بھی مدینہ میں تھا۔زبیر نے کہا ہے کہ عبداللہ بن عوف نے ہجرت نہیں کی۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے مختصر لکھاہے۔۔۔۔
مزید
ابن عوف اشجع وقود میں سے ہیں۔بصرہ میں رہتے تھے یہ ابن شاہین کا قول ہے ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے مختصر لکھا ہے۔۔۔۔
مزید
ابن عوف۔انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ان کا تذکرہ یونس بن شیرازی نے اپنی کتاب میں کیا ہے۔ہمیں ابولفرح بن ابی رجاء نے اپنی کتاب میں اپنی سند سے ابوبکر یعنی احمد بن عمرو بن ضحاک تک خبردی وہ کہتے تھے ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے یزید بن ہارون نے حماد بن سلمہ سے انھوں نے جبلہ بن عطیہ سے انھوں نے عبداللہ بن عوف سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاایمان یمن میں ہے محمود بن ابراہیم بن سمیع نے کہا ہے کہ یہ عبداللہ تابعی ہیں شام کے رہنے والے تیسرے طبقے سے ہیں عمر بن عبدالعزیز کے عامل تھے۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھا ہے۔۔۔۔
مزید
ابن عوسجہ سنجلی۔ثم العرفی۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنا خط دے کر بنی حارثہ بن عمرو بن قریطہ کی طرف بھیجا تھا ان کا آپ نے اسلام کی دعوت دی تھی انھوں نے لوگوں سے خط کو لے لیا اوراسے دھوکراپنے ڈول میں پیوند لگالیا اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس کا جواب بھیجنے سے بھی انکار کردیاپس رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی عقل سلب کرلی ہے ۔چنانچہ اس قبیلہ کے لوگ اب تک بےوقوف اور مخبوط الحواس ہوتے ہیں۔ان کا تذکرہ ابو موسیٰ نے لکھا ہے۔۔۔۔
مزید
ابن غنمہ مزنی۔صحابی ہیں فتح مصر میں شریک تھے۔محمد بن عمرواقدی نے ان کا ذکرکیاہے کہ یہ اسکندریہ کی دوسری فتح میں شریک تھے صحابہ میں ان کا ذکرکیاجاتاہے۔یہ ابوسعید بن یونس کا قول ہے۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے مختصر لکھا ہے۔۔۔۔
مزید
ابن عمروبن وقدان بن عبدشمس بن عبدودعامری معروف بہ ابن سعدی۔ان کا تذکرہ عبداللہ بن سعدی کے نام میں گذرچکاہے ابوعمرنے ان کا تذکرہ کیاہے۔۔۔۔
مزید
ابن عمروبن طفیل (ملقب بہ)ذی النور۔ازدی ہیں اوسی ہیں ان کا نسب اوپر بیان ہوچکا ہے۔حسن بن عثمان نے بیان کیا ہے کہ یہ مسلمانوں کے شہسواروں میں تھے اوربہت جفاکش اوربزرگ تھے غزوہ اجنادین میں ۱۳ھ میں شہید ہوئے ان کا تذکرہ ابوعمر نے لکھاہے۔۔۔۔
مزید
ابن عمروبن عاص بن وامل بن ہاشم بن سعید بن سہم بن عمرو بن ہصیس بن کعب بن لوے قریشی سہمی۔کنیت ابومحمد ہے اوربعض لوگوں نے کہا ہے کہ ابوعبدالرحمٰن ہے ان کی والدہ ریطہ بنت منبہ بن حجاج سہمی ہیں اپنے والد سے بارہ برس چھوٹے تھے اور اپنے والدسے پہلے اسلام لائے تھے بڑے فاضل و عالم تھے قرآن پڑہاتھااور کتب سابقہ بھی پڑھی تھیں۔انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی تھی کہ میں آپ کی حدیثیں لکھا کروں گا حضرت نے انھیں اجازت دی تھی۔پھر انھوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ میں جوکچھ سنوں لکھ لیا کروں خواہ خوشی کی حالت میں آپ فرمائیں یاناخوشی کی حالت میں آپ نے فرمایا ہاں جوکچھ میں کہتاہوں وہ حق ہی ہوتاہے۔حضرت ابوہریرہ کہتے تھے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کا مجھ سے زیادہ حافظ کوئی نہ تھا سوا عبداللہ بن عمروبن عاص کے مگروہ لکھ لیا کرتے تھے اور میں لکھتانہ تھا۔حضرت عبداللہ کہتے تھے میں نبی ۔۔۔
مزید
ابن عمرو بن عوف۔یہ ان لوگوں میں سے ہیں جو قبیلئہ عرنیہ کے لوگوں میں گرفتار کرلئے گئے تھے جنھوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے ۱ کوقتل کیاتھا۔یہ واقدی کا بیان ہے۔۔۔۔
مزید