بن عثمان بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ قرشی تیمی: فتح مکہ کے دن ایمان لائے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے۔ ان کے بیٹے عبید اللہ بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے مستفیض ہوئے۔ ابو عمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
بن کلاب الزمانی: یہ وہ صاحب ہیں، جو مسیلمہ کذاب کو عظ و نصیحت کرتے تھے اور اسے قابلِ اعتراض سر گرمیوں سے منع کرتے تھے۔ غسانی نے ابو عمر پر استدراک کیا ہے۔۔۔۔
مزید
ابنِ شاہین نے ان کا ذکر کیا ہے۔ محمد حجش سے مروی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم معمر کے پاس سے گزرے، دیکھا، کہ دونوں رانیں ننگی کیے بیٹھے ہیں۔ فرمایا۔ معمر! اپنی رانیں ڈھانپ لو کہ جسم کا یہ حصّہ بھی شرمگاہ میں شامل ہے۔ یہ حدیثِ جرید کہلاتی ہے۔ اس کو ابو موسیٰ نے بیان کیا ہے۔۔۔۔
مزید
بن حاجر: یہ صاحب اور ان کے بھائی طریقہ بن حاجر حضرت خالد بن ولید کے ساتھ ارتداد کی مہم میں شریک تھے۔ ہم ان کے بھائی کا ذکر کر آئے ہیں۔ ابو عمر نے اس کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
بن فضالہ بن عبید بن نافذ بن صہیہ بن احرم بن جحمعیا بن کلفہ بن عوف بن عمرو بن عوف بن مالک بن اوس انصاری انہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی۔ امیر معاویہ کے عہد میں یمن کے والی تھے۔ یہ ابن الکلبی کا قول ہے۔۔۔۔
مزید
بن حزم بن یزید بن لوذان بن عمرو بن عبد بن عوف بن غنم بن مالک بن نجار انصاری خزرجی، نجاری: ابو طوالہ کے دادا اور عمرو بن حزم کے بھائی تھے۔ یہ محمد بن سعد کاتب الواقدی کا قول ہے۔ بیعت رضوان اور بعد کے غزوات میں شریک رہے اور یہ ان دس آدمیوں میں سے ہیں۔ جنہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ابو موسیٰ کے ساتھ بصرے روانہ کیا تھا۔ ابو موسیٰ اور ابو نعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
ابو خزامہ سعدی کے والد تھے: ایک روایت میں ان کا نام یعمر مذکور ہے۔ یعقوب بن سفیان نے اپنی تاریخ میں ابو خزاعہ بن معمر السعدی سعد ہذیم قضاعی لکھا ہے۔ نیز بیان کیا ہے، کہ ابو صالح نے لیث سے انہوں نے یونس سے انہوں نے ابنِ شہاب سے انہوں نے ابو خزاعہ سے انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ انہوں نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، یا رسول اللہ! ہم بعض اوقات کسی تکلیف کے ازالے کے لیے منتر جنتر سے، کبھی بیماری کے لیے دوا سے اور مرض سے بچاؤ کے لیے پرہیز سے کام لیتے ہیں۔ کیا ان معاملات میں بھی قدرتِ خدا وندی کو دخل ہوتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، یہ اشیاء بھی تقدیر خدا میں شامل ہیں۔ ابو موسیٰ نے اس کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
بن ابی سرح بن ربیعہ بن ہلال بن اہیب بن ضبہ بن حارث بن فہر قرشی فہری: غزوۂ بدر میں شریک تھے بقول واقدی ۳۰ ہجری میں وفات پائی۔ ان کی کنیت ابو سعید تھی۔ یہی قول ابو معشر کا ہے انہوں نے نام معمر بن ابو سرح بیان کیا ہے، لیکن موسیٰ بن عقبہ، ابنِ اسحاق اور ابنِ کلبی نے عمرو بن ابی سرح لکھا ہے۔ نیز ابن کلبی نے ان کا نسب ہلال بن مالک بن ضبہ لکھا ہے، یعنی اہبب کی جگہ ضبہ لکھ دیا ہے۔ ہم عمر کے ترجمے میں یہ امر بیان کر آئے ہیں۔ ابو عمر اور ابو موسیٰ نے اس کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
بن عبد اللہ بن نضلہ بن عبد العزی بن حرثان بن عوف بن عبید بن عویج بن عدی بن کعب القرشی عدوی: ابن المدینی نے یوں لکھا ہے: معمر بن عبد اللہ بن نافع بن نضلہ: یہ وہی شخص ہیں جو معمر بن ابی معمر کہلاتے ہیں۔ قدیم الاسلام ہیں، حبشہ کی، ہجرت ثانیہ میں شامل تھے۔ ان کی ہجرت مدینہ رکی رہی اور یہ حبشہ سے ان لوگوں کے ساتھ واپس ہوئے جو دو کشتیوں میں سوار ہوکر دار مدینہ ہوئے تھے۔ انہوں نے لمبی عمر پائی، مدنی کہلاتے تھے۔ حجۃ الوداع میں انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے بال صاف کیے تھے۔ ان سے سعید بن مسیب اور بشر بن سعید نے روایت کی ہے۔ اسماعیل و ابراہیم بن محمد نے باسناد ہماتا ابو عیسی محمد بن عیسی سے انہوں نے اسحاق بن منصور سے انہوں نے یزید بن ہارون سے انہوں نے ابن اسحاق سے۔ انہوں نے محمد بن ابراہیم سے انہوں نے سعید بن مسیب سے انہوں نے معمر بن عبد اللہ بن نضلہ سے روایت کی، کہ حضور اکرم صلی ا۔۔۔
مزید
بن عدی بن حد بن عجلان بن ضبیعہ بن حارثہ بن ضبیعہ بن حرام بن جعل بن عمرو بن جشم بن روم بن ذبیان بن ہمیم بن ذہل بن ہنی بن بلوی: یہ بنو عمرو بن عوف کے حلیف اور عاصم بن عدی کے بھائی تھے۔ تمام غزوات میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود رہے۔ ابو جعفر نے باسنادۂٖ بہ سلسلۂ شرکائے بدراز بنو عمرو بن عوف اور معن بن عدی بن جد بن عجلان بن ضبیعہ جوان کے حلیف تھے اور اسی اسناد سے انہوں نے ابن اسحاق سے یہ سلسلۂ شرکائے بدر از بنو عبید بن زید بن مالک اور ان کے حلیفوں سے بن عدی بن عجلان بن ضبیعہ سے جو روایت کی ہے۔ یہ صاحب لاولد تھے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں اور یزید بن خطاب میں رشتۂ مواخات قائم کیا، یہ دونوں صاحب جنگِ یمامہ میں شہید ہوگئے تھے۔ مالک بن انس نے ابن شہاب سے انہوں نے سالم سے انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے، تو لوگ روتے تھے او۔۔۔
مزید