ابن نوفل بن الحارث بن عبدالمطلب۔قریشی۔ہاشمی۔ان کی کنیت ابومحمد تھی۔واقدی نے بیان کیا ہے کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کو پایاہے مگرانھوں نے آپ سے کوئی روایت نہیں کی ہے۔یہ (حضرت) معاویہ کے زمانہ میں مدینہ منورہ کے قاضی بنائے گئے تھے ان کو مروان بن حکم نے قاضی بنایاتھا۔ایک قول کے مطابق یہی شخص ہیں جو مدینہ میں قاضی بنائے گئے ۔ان کی صورت شباہت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ تھی۔ان کی وفات۸۴ھ میں ہوئی تھی اور بعض لوگوں کاقول ہے کہ یہ واقع حرہ کے دن ۶۳ھ میں شہید ہوئے اور بعض نے بیان کیا ہےکہ ان کی وفات حضرت معاویہ کے زمانہ میں ہوئی تھی۔یہ چچاتھے عبداللہ بن حارث بن نوفل بن حارث کے جوکہ بہ کےلقب سے ملقب تھے۔ان کاذکرپہلے گذرچکاہے۔ ان کا تذکرہ ابوعمراورابوموسیٰ نے لکھا ہے۔۔۔۔
مزید
ابن ابی نملہ۔انصاری۔عقیلی نے ان کا تذکرہ صحابہ میں کیاہے۔ ان کی روایت مشہور ہے۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے مختصراً لکھاہے۔۔۔۔
مزید
ابن فضیل۔ابوموسیٰ نےکہاہے کہ بہت لوگوں نے ان کے والد کا تذکرہ ردیف نون میں لکھا ہے اورعبداللہ ابن مندہ نے ردیف باء مع الغین میں ان کے والد کانام لکھاہے اورکہاہے کہ صحابی ہیں مگر ان کی حدیث روایت نہیں کی عبداللہ بن سالم نے سلیمان بن سلیم ابی سلمہ سے انھوں نے عبداللہ بن نفیل کنانی سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ تین چیزیں ایسی ہیں کہ جس میں اللہ تبارک وتعالیٰ حکم دے کر فارغ ہوگیاہے(اول تو)یہ کہ کوئی بغاوت نہیں کرتا اس لیےکہ اللہ عزوجل نے فرمادیاہے کہ اے لوگوں خبردارہوجاؤ کہ تم لوگوں کی بغاوت کا ثمرہ تمھیں لوگوں کے نفس پر عائد ہوتاہے اور(دوم) یہ کہ کوئی کسی پر مکروفریب نہیں کرتاہے۔(بلکہ اپنے ہی نفس پرکرتاہے) اس لیے کہ اللہ عزوجل نے فرمادیاہے کہ برامکرنہیں گھیرتا مگراس کے اہل وعیال ہی کواور(سوم)یہ کہ عہدشکنی نہیں کرتاہے اس لیے کہ اللہ عزوجل فرماچکا ہے ک۔۔۔
مزید
ابن فضیل۔ابوموسیٰ نےکہاہے کہ بہت لوگوں نے ان کے والد کا تذکرہ ردیف نون میں لکھا ہے اورعبداللہ ابن مندہ نے ردیف باء مع الغین میں ان کے والد کانام لکھاہے اورکہاہے کہ صحابی ہیں مگر ان کی حدیث روایت نہیں کی عبداللہ بن سالم نے سلیمان بن سلیم ابی سلمہ سے انھوں نے عبداللہ بن نفیل کنانی سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ تین چیزیں ایسی ہیں کہ جس میں اللہ تبارک وتعالیٰ حکم دے کر فارغ ہوگیاہے(اول تو)یہ کہ کوئی بغاوت نہیں کرتا اس لیےکہ اللہ عزوجل نے فرمادیاہے کہ اے لوگوں خبردارہوجاؤ کہ تم لوگوں کی بغاوت کا ثمرہ تمھیں لوگوں کے نفس پر عائد ہوتاہے اور(دوم) یہ کہ کوئی کسی پر مکروفریب نہیں کرتاہے۔(بلکہ اپنے ہی نفس پرکرتاہے) اس لیے کہ اللہ عزوجل نے فرمادیاہے کہ برامکرنہیں گھیرتا مگراس کے اہل وعیال ہی کواور(سوم)یہ کہ عہدشکنی نہیں کرتاہے اس لیے کہ اللہ عزوجل فرماچکا ہے ک۔۔۔
مزید
ابن نعیم بن نحام۔ان سے حضرت ابن عمر کے غلام نافع اور ابوالزبیر نے روایت کی ہے۔معلی بن اس نے حرب بن ابی العالیہ سےابوالزبیر سے انھوں نے عبداللہ بن نعیم سے اسی طرح روایت کیاہے معلی نے کہاہے کہ حرب کہتے تھےایک دن رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ہمراہ بیٹھے ہوئےتھےکہ یکایک ایک عورت کاگذر اس طرف سے ہواپس آپ ام المومنین زینب بنت حجش کے پاس گئے اور قضائے حاجت کے بعدباہر تشریف لائے اور فرمایاکہ جب کوئی شخص تم میں سے کسی عورت کو دیکھے اور وہ اس کو اچھی معلوم ہوتوچاہیےکہ اپنی بی بی کے پاس چلاجائے کیوں کہ عورت شیطان کی صورت میں آتی ہے اورشیطان کی صورت میں جاتی ہے۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نےلکھاہے۔اورابونعیم نے کہا ہے کہ ابن مندہ نے اس حدیث کو ابن ابنی الجبین سے انھوں نے معلی بن اسد سے انھوں نے حرب سے انھوں نے ابوالزبیر سےانھوں نے عبداللہ بن نعیم سے روایت کیاہےاورکہاہ۔۔۔
مزید
ابن نعیم۔انصاری۔عاتکہ بنت نعیم کے بھائی ہیں۔صحابی ہیں۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے مختصر لکھاہے۔۔۔۔
مزید
ابن نعیم اشجعی۔یہ سفرخیبرمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے رہبرتھے۔ان کاتذکرہ بغوی نے اسی طرح لکھا ہے مگران کی کوئی حدیث روایت نہیں کی۔۔۔۔
مزید
ابن نعمان بن بلدمہ بن خناس بن سنان بن عبید بن عدی بن غنم بن کعب بن سلمہ انصاری خزرجی سلمی۔ابن ہشام نے کہا ہے کہ بلدمہ کی بے کوضمہ اور بے کے بعد ذال منقوطہ ہے۔یہ عبداللہ ابوقتادہ کے چچازادبھائی تھے یہ عبداللہ بدرمیں اوراحد میں شریک تھے یہ ابن اسحاق اور ابوموسیٰ کا قول ہے۔ ان کا تذکرہ ابوعمر اورابوموسیٰ نے مختصرلکھاہے۔۔۔۔
مزید
ابن نضلہ بن مالک بن عجلان بن زید بن سالم بن عوف بن عمرو بن عوف بن خزرج انصاری خزرجی۔ بدر میں شریک تھے اوراحد کے دن شہید ہوئے۔یہ ابن کلبی کاقول ہے۔۔۔۔
مزید
ابن نضلہ کنانی۔فریابی نے سفیان ثوری سے انھوں نے عمربن سعید سے انھوں نے عثمان بن ابی سلیمان سے انھوں نے عبداللہ ابن فضلہ کنانی سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی اورحضرت ابوبکروعمر کی وفات ہوئی اس وقت تک مکہ کے بازار فروخت نہ کیے جاتے تھے۔اس کومعاویہ بن ہشام نے عمرسے انھوں نے عثمان سے انھوں نے نافع بن جبیر بن مطعم سے انھوں نے علقمہ بن فضلہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی روایت کی ہے اور یہی صحیح ہے۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نے لکھاہے۔۔۔۔
مزید