بن عبداللہ بن عمربن مخزوم ۔قریشی مخزومی۔ان کی کنیت ابوعمروتھی اور ان کی والدہ ثقفیہ تھیں۔یہ فاطمہ بنت قیس کے خاوند تھے اور یہ خالد بن الولید کے چچازاد بھائی تھے۔ انھوں نے(اپنی بی بی) فاطمہ کو طلاق مغلظہ دے دی توانھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آکر اپنے نفقہ کے لیے درخواست کی تو آپ نے جواب دیا کہ تمھارے لیے نفقہ نہیں ہے۔ ناشرہ بن سمسی نے روایت کی ہے کہ ہم نے عمربن خطاب کوجابیہ کے دن یہ فرماتے ہوئے سناتھا کہ میں نے خالد بن ولیدکو (اپنے عہدہ سے)معزول کردیااوران کی جگہ ابوعبیدہ کوسردار بنادیا توابوعمرو بن حصن بن مغیرہ اٹھے اور (اپنےچچازاد بھائی کی پاسداری میں)حضرت عمر سے یہ تقریر کی کہ واللہ تم نے ایک ایسے لڑکے کومعزول کردیا ہے کہ جس کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے حاکم بنایا تھا اور(واللہ تم نے) ایسی تلوارکومیان میں ڈال دیا جس کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم ن۔۔۔
مزید
بن الدیان۔کلبی نے بیان کیا ہے کہ یہ وفد بن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گئے تھے۔ان کو بسربن ارطاہ نے قتل کیا تھا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالحجہ کانام عبداللہ رکھ دیا تھا(مگرمشہور اس نام کے ساتھ رہے)ان کا تذکرہ پہلے بھی گذرچکا ہے لفظ حجر کسر ہ حااور سکون جیم کے ساتھ ہےاوربعض لوگوں نے دونوں کو فتح کے ساتھ بیان کیا ہے اس کو امیرابونصر بن ماکولا نے کہا ہے۔۔۔۔
مزید
بن الحکم۔حکمی۔انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث سنی ہے۔خطاب بن نصرحکمی نے عبداللہ بن جلیل سے انھوں نے عبدالجد بن ربیعہ سے نقل کر کے روایت کی ہے کہ یہ عبدالجد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے تھے نیز آپ کے پاس اہل یمن کے بہت سے لوگ تھے اور عینیہ بن حصن بھی تھے پس اتنے میں آپ نے سب کو آوازدی تو سب کے سب کھڑے ہوگئے سوائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ایک شخص (یمنی) کے جو کہ اپنے بدن کو (بوجہ اپنی غربت کے)ایک کپڑے سے ڈھانکے ہواتھا پس میں نے اس کو مخاطب کرکے کہا کہ یہ کیاطریقہ ہے تو اس کے جواب میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کی یہ حیاہے اس کو اہل یمن نے لے لیا ہے اور تمھاری قوم نے چھوڑدیا ہے۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔حُلَیل۔ضمہ حااور فتح لام کے ساتھ ہے۔۔۔۔
مزید
ابن الحارث بن مالک۔حدسی۔ابراہیم بن غطریف بن سالم حدسی نے جوکہ قبیلہ بن منار کے شخص ہیں روایت کی ہے کہ مجھ سے میرے والد غطریف بن سالم نے بیان کیا انھوں نے اپنے والد سالم کو حدیث بیان کرتے ہوئے سنا انھوں نے عبداللہ بن کدیربن ابی الحلاستہ بن عبدالجبار بن حارث سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے ان کے داداابوطلاسہ سےانھوں نے عبدالجبار بن حارث ابن مالک حدسی سے جو کہ مناری ہیں روایت کرکے بیان کیاوہ کہتے تھے کہ میں وفدبن کر ملک سراۃ سے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوا پس میں نے آپ کو وہ سلام کیا جو کہ عرب کا دستورتھایعنی انعم صبا عاپس آپ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ عزوجل نےمحمداور اس کی امت کودوسرے سلام کاحکم دیا یعنی السلام علیکم اعلیکم السلام کہاکریں پس میں نے (اسی کے مطابق) السلام علیکم عرض کیا توآپ نے جواب دیاوعلیک السلام اس کے بعد آپ نے دریافت فرمایاکہ تمھارانام کیا ہے تو۔۔۔
مزید
یشکری۔ہمیں ابومنصور بن مکارم نے اپنی سند سے معافی بن عمران تک خبردی انھوں نے یونس بن ابی اسحاق سے انھوں نے مغیرہ بن عبداللہ یشکری سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کرکے بیان کیا وہ کہتے تھے کہ میں کسی ضرورت سے مسجد میں یابازارمیں گیا تو میں نے یکایک وہاں ایک جماعت کودیکھا پس اس جماعت کے قریب گیا تو ان لوگوں نے مجھ سے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف بیان کیے۔پس اس کے بعد یکایک مجھ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک راستہ میں ملاقات ہوئی جو کہ عرفات اورمنیٰ کے درمیان میں تھا۔پس چند سوار میرے سامنے آئے(ان لوگوں کو میں نے انھیں اوصاف کے ساتھ جوکہ مجھ سے بیان کیے گئے تھے پہچانا)اور ایک نے مجھ سے کہا کہ اے شخص تم گھوڑے کے سامنے سے علیحدہ ہوجاؤ اس پر رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ اس سوارکوچھوڑدو نہ معلوم اس کی کیاحاجت ہےپس میں آگے بڑھا یہاں تک کہ میں نےآپ کی اونٹنی کی ۔۔۔
مزید
۔نخعی۔یہ موسیٰ کے والد ہیں۔ان کے تذکرہ کو علی عسکری نے افراد میں لکھاہے۔محمد بن فضل راسی نے ابونعیم سے انھوں نے عمربن موسیٰ انصاری سے انھوں نے موسیٰ بن عبداللہ بن یزید نخعی سےانھوں نے اپنے والد سے روایت کرکے بیان کیا ہے کہ وہ لوگوں کونمازپڑھارہے تھے پس لوگ ان کے سراٹھانے سے قبل سر اٹھالیتے تھےاوران کے سرجھکانے سے پہلے سرجھکالیتےتھے تو انھوں نے یہ کہا کہ اے لوگوں(میری)اقتداکررہے ہو اگرمستعدہوجاؤ توتم لوگوں کے ساتھ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کیسی نماز پڑھوں کہ جس میں کوئی چیزکم نہ کروں۔اس حدیث کو احمد بن خلید حلبی نے (بھی )ابونعیم سے انھوں نے محمد بن موسیٰ انصاری سے انھوں نے موسیٰ بن عبداللہ سےانھوں نے اپنے والد سے نقل کرکے بیان کیا ہے مگرانھوں نے عبداللہ کو نخعی بیان کیا ہے نیز اس حدیث کوطبرانی نے عبداللہ بن یزید خطمی کے تذکرہ میں بیان کیا ہے یہ انصاری ہیں نخعی نہیں یہی ۔۔۔
مزید
ان کی کنیت ابویزید ہے۔مزنی ہیں۔اوربعض لوگوں نے ان کا نام (فقط) عبدبیان کیا ہے۔ان کی حدیث کوعمروبن حارث نے ایوب بن موسیٰ سے انھوں نے یزید بن عبداللہ مزنی سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کرکے بیان کیاہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتھا کہ اونٹوں میں فرع ۱؎ ہےاوربکریوں میں فرع ہے اور غلام سے معاف کردیاگیا ہےونیز غلام میں بعوض خون قتل کے قصاص نہیں ہے۔بعض لوگوں نے سند میں (بجائے یزید بن عبداللہ کے)یزید بن عبدبیان کیا ہے۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔۔۔۔
مزید
بن خطمتہ بن حبشم بن مالک بن الاوس۔انصاری۔اوسی خطمی ان کی کنیت ابوموسیٰ تھی۔یہ کوفہ میں رہ گئے تھے اور وہیں ایک مکان بنالیاتھا اور یہ غزوہ حدیبیہ میں شریک تھے اس وقت ان کی عمرسترہ سال کی تھی اور غزوہ حدیبیہ کے مابعد غزووں میں بھی شریک تھے ان کو عبداللہ بن زبیر نے کوفہ کاعامل بنادیاتھا۔اور یہ (حضرت)علی بن ابی طالب کے ہمراہ وقعہ جمل اور صفین اور نہروان میں شریک تھے ان سے ان کے لڑکے موسیٰ نے اورعدی بن ثابت انصاری نے جوکہ ان کے نواسے تھے اور ابوبردہ بن موسیٰ نے اورشعبی نے جو کہ ان کے کاتب تھے حدیث روایت کی ہے یہ اکابر صحابہ میں تھے۔ان کے والد بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہے ہیں۔یہ غزوہ احد اور اس کے مابعد کے غزوات میں شریک تھے۔ ان کی وفات فتح مکہ کے پہلے ہوگئی تھی۔ہمیں ابراہیم ابن محمد فقیہ نے اوراسمعیل بن علی مذکروغیرہ نے اپنی اپنی سندوں کے ساتھ ابوعیسیٰ یعنی محمد بن عی۔۔۔
مزید
بربوعی۔ان کا نسب معلوم نہیں۔عطوان بن مسکان ضبی نے جمرہ بنت عبداللہ یربوعیہ سے روایت کر کے بیان کیا وہ کہتی تھیں کہ مجھ کو میرے والد بعد اس کے کہ میں نے ان پر صدقہ کرکے اونٹ کو واپس کردیاتھارسول خد اصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئے اور یہ عرض کیا کہ یارسول اللہ میری اس لڑکی کے لیے آپ دعاکردیں تو آپ نے مجھ کو اپنی گود میں بٹھالیااور میرے لیے دعا کی ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نے لکھا ہے اور ابوعمر نے ان کے تذکرہ کو ان کی لڑکی حجرہ کے تذکرہ میں لکھا ہے۔۔۔۔
مزید
۔ان کے تذکرہ کوفقط ابن عقدہ نے لکھا ہے۔جعفر بن محمد نے اپنے والد اور ایمن بن مائل سے ان دونوں نے عبداللہ بن یامیل سے روایت کرکے بیان کیا ہے وہ کہتے تھے کہ میں نے سنا تھاکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے کہ جس کا میں ولی ہوں اس کے ولی علی (بھی) ہیں۔ ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھا ہے۔۔۔۔
مزید