ابن ودیقہ بن حرام۔انصاری۔یہ صحابی ہیں ان کوابوحاتم رازی نے صحابہ میں ذکرکیا ہے۔ابومعشر نے سعید مقبری سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے عبداللہ بن ودیعہ سے جوکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم تھے روایت کرکے بیان کیا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتھا کہ جس نے جمعہ کے دن غسل کیامثل غسل جنابت کے الیٰ آخرالحدیث اور اس حدیث کو ابن عجلان نےمقبری سے انھوں نے اپنے والد سےانھوں نے ابن ودیعہ انھوں نے ابوذر سے روایت کرکے بیان کیاہے اور ابن ابی ذہب نے سعید سے انھوں نے اپنے والد ابن ودیعہ سے انھوں نے سلمان فارسی سے روایت کرکے اس حدیث کو بیان کیاہے یہی صحیح ہے ۔ان کاتذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نے لکھا ہے۔۔۔۔
مزید
ابن وائل بن عامر بن مالک بن لودان۔یہ صحابی ہیں۔غزوہ احداورکل غزوات میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک تھے ان کے بعد ان کی اولاد باتی تھی ان کے بھائی عبدالرحمٰن بن وائل ہیں انشاء اللہ تعٰالیٰ ان کا ذکراپنے موقع پر کیاجائے گا۔۔۔۔
مزید
ابن واقد۔ان کاتذکرہ ابوقاسم رفاعی نے شاعرین صحابہ میں لکھا ہے۔عبدالملک بن ساریہ کعبی نے کہا ہے کہ میں نے عبداللہ بن واقد سے سناہے کہ وہ کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں خون میں بھی قسم لی جاتی تھی ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔۔۔۔
مزید
ابن الہشیم بن عبداللہ بن الحارث بن سیدان بن مرۃ بن سفیان بن مجامع بن دارم۔تیمی۔ان کا نام پہلے عبداللات تھاتو(بعداسلام کے)نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام عبداللہ رکھ دیا۔۔۔۔
مزید
ابن ہند۔ان کی کنیت ابوہندہے۔انصاری ہیں۔بیاضی ہں ان سے جابر نے خمرکے برتنوں کے متعلق حدیث روایت کی ہے بغوی نے ان کا نام ایساہی بیان کیا ہے ان کا ذکر ابن مندہ نے کنیت کے باب میں کیا ہے۔ان کا تذکرہ ابونعیم اور ابوموسیٰ نے مختصراً لکھا ہے۔۔۔۔
مزید
ابن عبدہلالی۔ان کوبعض لوگوں نے انصاری بیان کیاہے۔زید بن حباب نے بشیر بن عمران قبائی سے انھوں نے عبداللہ بن عبدہلالی سے روایت کرکے بیان کیاوہ کہتے تھے کہ مجھ کومیری والدہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں لے گئیں اور یہ عرض کیا کہ یانبی اللہ آپ اس بچہ کے لئے اللہ سے دعاکردیں آپ نے مجھ پراس قدرشفقت کی کہ اپنے دست مبارک کومیرے سرپررکھا یہاں تک کہ مجھ کو آپ کے ہاتھ کی ٹھنڈک بھی محسوس ہوئی اس کے بعد آپ نے میرے لئے دعا کی اور میری والدہ سے فرمایاکہ تم اس کو لے جاؤ اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ ان کے والد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خدمت میں لے گئے تھے اس کوابواحمد عسکری نے بیان کیاہے۔۔۔۔
مزید
ابن ہلال۔مزنی۔ان کا شمار اہل مدینہ میں ہے۔کثیر بن عمروبن عوف مزنی نے بکر بن عبدالرحمٰن سے انھوں نے عبداللہ بن ہلال مزنی سے جوکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حاضرباش تھے روایت کرکے بیان کیاوہ کہتے تھے(کہ آپ فرماتے تھے)میرے بعد کسی کے لئے یہ جائز نہیں کہ حج کے لئے احرام باندھے اور(یوم حج کوعمرہ کے عوض )فسخ کردے۔ان کا تذکرہ تینوں نےلکھاہے۔۔۔۔
مزید
ابن ہلال بن عبداللہ بن ہمام ثقفی ۔ان کا شمار اہل مکہ میں ہے ان سے عثمان بن عبداللہ بن اسود نے یہ روایت کی ہے کہ یہ (ایک دفعہ)نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ قریب تھا کہ میں صدقہ کے ایک اونٹ یا ایک بکری کی وجہ سے قتل کیاجاؤں۔تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ تم نے صدقہ کی جوچیزلی تھی اگر فقراء مہاجرین کونہ دیتے تو(ضرور)ایساہی ہوتا۔ ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ابوعمر نے کہاہے کہ ان کی حدیث ان لوگوں کے نزدیک مرسل ہے۔۔۔۔
مزید
۔ان کی کنیت ابوعمارہ تھی انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کو پایاہے۔ ہمیں ابوربیع یعنی سلیمان ابن محمد بن محمد بن خمیس نے خبردی وہ کہتےتھے ہمیں ابوبرکات یعنی محمد نے خبردی وہ کہتے تھے ہم سے احمد بن عبدالباقی بن طوق یعنی ابونصرنے بیان کیا وہ کہتے تھے ہمیں ابوقاسم یعنی نصر بن احمد مرجی فقیہ نے خبردی وہ کہتے تھے ہمیں ابویعلی یعنی حمد بن علی نے خبر دی وہ کہتے تھے ہم سے حسن حمادکوفی نے بیان کیاوہ کہتے تھے ہم سے مسر بن عبدالملک بن ملمع نے بیان کیا وہ کہتے تھے مجھ کومیرے والد نے خبردی وہ کہتے تھے کہ میں نے عبدخیر سے دریافت کیا کہ آپ کی عمرکیا ہے توانھوں نے جواب دیا کہ ایک سوبیس برس کی عمرہوچکی ہے میں نے (اس وقت) ان سےعرض کیا کہ آپ ایام جاہلیت کی کوئی بات بیان فرما سکتے ہیں جواب دیا ہاں لو میں بیان کرتا ہوں۔میں ملک یمن میں تھا پس(وہاں) ہم لوگوں کے پاس رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم ک۔۔۔
مزید
بن عمروبن حرام۔یہ جابر کے بھائی ہیں ان کی کنیت ابوعمرو ہے ابوموسیٰ نے کہا ہےکہ مستغفری نے ان کے تذکرہ کو ایساہی بیان کیا ہےانھوں نے حسن بن سفیان سے حدیث روایت کی ہے یعنی اس حدیث کوبیان کیاہے جو کہ ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ یعنی فاطمہ بنت قیس کے شوہر سے مروی ہے ان کاتذکرہ پھراعادہ کیا جائے گا۔ابوموسیٰ نے کہا ہے کہ مجھے معلوم نہیں کہ کہاں سے ان کو شبہ پڑگیایہ جابر کے بھائی تھے۔ابوعمرو توایک مشہور شخص ہیں واللہ اعلم۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھا ہے۔ ۱؎ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا جواب اسمیں مذکورنہیں وہ جواب یہی تھا کہ تم اپنے چچازاد بھائی کی پاسداری میں یہ گفتگو کررہے ہو۱۲۔۔۔۔
مزید