ابن عبد۔ان کو مستغفری نے بیان کیاہے کہ ان سے عتبہ بن عبدنے روایت کی ہے یہ صحابی تھے۔ اسی طرح(عتبہ بن عبید نے)یہ بھی کہاہے کہ میں نے عبیدبن عبدکو(یہ بیان کرتے)سناکہ میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے ہوئے سنا ہے کہ گھوڑوں کی پیشانی کے بال اور ان کے یالوں ۱؎ اور دموں کے بالوں کونہ کتراکرو کیوں کہ دمیں ان کے لیے پنکھے ہیں (جس سے وہ اپنے اوپر بیٹھے ہوئے چھوٹے جانوروں کو ہٹادیتے ہیں)اور یالین ان کے لیے سردی دورکرنے کے لیے پوشش ہیں اوران کی پیشانی کے بالوں میں خیروابستہ ہے اوریہ حدیث عتبہ بن عبد سے بھی روایت کی گئی وہ انشاءاللہ تعالیٰ اپنے موقع پربیان کی جائے گی۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ ۱؎ یال گھوڑے کی گردن کے بالوں کوکہتے ہیں۱۲۔۔۔۔
مزید
یہ عبدالرحمن کے والد تھے۔انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث روایت کی ہے منہال بن بحر نے حمادبن سائمہ سے انھوں نےابوسنان یعنی عیسیٰ بن سنان سے انھوں نے مغیرہ بن عبدالرحمن بن عبیدسے اورعبیدصحابی تھے انھوں نے اپنے والدسے انھوں نے اپنےداداسے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے ایمان کی تین سو تینتیس (۳۳۳)شاخیں ہیں جس نے ایک شاخ کوبھی پوراکیاوہ جنت میں داخل ہوا۔لیکن ابوعمرنے ان کی نسبت بیان کیاہے کہ عبید صحابہ میں سے ہی جو ایک شخص تھے وہ یہی ہیں۔۔۔۔
مزید
انصاری ہیں براء بن عازب کے بھائی تھے۔ان کا نسب ان کے بھائی(براء) کے تذکرے میں پہلے گزرچکاہے ان کا شمار اہل کوفہ میں ہے۔قیس بن ربیع نے ابن ابی لیلیٰ سے انھوں نے حفصہ بنت براءبن عازب سے انھوں نے اپنے چچاعبیدبن عازب سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے کہ میرانام اورمیری کنیت کوجمع نہ کرویعنی کسی شخص کانام رکھا جائے اوروہ نام میراہی نام ہواورمیری کنیت کے موافق اس کی کنیت بھی تویہ اس کو نہیں لازم ہے کیوں کہ اس میں لشابہ پیداہوتاہےاس حدیث کو ابن مندہ نے روایت توکیاہے مگرسند اس طرح بیان کی ہے کہ حفصہ بنت عازب نے اپنے چچاسے روایت کی ہے(اس سندکواس طرح سے بیان کرنا) یہ ان کی صریح غلطی ہے ہاں درست یہ ہے کہ حفصہ بنت براء بن عازب نے روایت کی ہے کیوں کہ ابن مندہ کا یہ کہناکہ حفصہ نے اپنے چچاسے روایت کی ہے انھیں کے قول کارد ہے ابوعمر نے کہاہے کہ عبیداوربراء ح۔۔۔
مزید
ابن صخر بن لوذان انصاری ہیں ۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ کے ساتھ جن لوگوں کویمن بھیجاتھاان میں یہ بھی تھے۔سیف بن عمرتیمی نے سہل بن یوسف بن سہل انصاری سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے عبیدبن صخر بن لوذان انصاری سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کے تمام عاملوں کوحکم دیا کہ تم لوگ قرآن کادورباہم کرتے رہو اور نیک نصیحت کی پیروی کرو کیوں کہ نیک نصیحت لوگوں کو نیک کام کرنے کی رغبت دلاتی ہے اور تم اللہ کی راہ میں ملامت کرنےوالے کی ملامت سے نہ ڈرو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو جس کی طرف تم لوٹوگے اورعبیدسے یہ بھی روایت کی گئی ہے کہ آپ نے یمن کے عاملوں سے یہ عہد لیاتھاکہ (جب زکوٰۃ لیناتو)بیس گائے میں ایک سال کی گائے اورچالیس میں دوبرس کی گائےاورتیس اورچالیس کے درمیان جوکچھ مال زیادہ ہواس میں سے کچھ نہ لینا۔ ان کاتذکرہ تینوں نے لکھاہے۔۔۔۔
مزید
ابن صخر بن لوذان انصاری ہیں ۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ کے ساتھ جن لوگوں کویمن بھیجاتھاان میں یہ بھی تھے۔سیف بن عمرتیمی نے سہل بن یوسف بن سہل انصاری سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے عبیدبن صخر بن لوذان انصاری سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کے تمام عاملوں کوحکم دیا کہ تم لوگ قرآن کادورباہم کرتے رہو اور نیک نصیحت کی پیروی کرو کیوں کہ نیک نصیحت لوگوں کو نیک کام کرنے کی رغبت دلاتی ہے اور تم اللہ کی راہ میں ملامت کرنےوالے کی ملامت سے نہ ڈرو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو جس کی طرف تم لوٹوگے اورعبیدسے یہ بھی روایت کی گئی ہے کہ آپ نے یمن کے عاملوں سے یہ عہد لیاتھاکہ (جب زکوٰۃ لیناتو)بیس گائے میں ایک سال کی گائے اورچالیس میں دوبرس کی گائےاورتیس اورچالیس کے درمیان جوکچھ مال زیادہ ہواس میں سے کچھ نہ لینا۔ ان کاتذکرہ تینوں نے لکھاہے۔۔۔۔
مزید
بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ عمیربن شبرمہ ہیں ہشام بن محمد کلبی نے اپنے والد سے روایت کرکے بیان کیاہے کہ یہ عبیدبن شربہ جرہمی دوسوچالیس برس زندہ رہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ تین سوبرس تک زندہ رہے انھوں نے اسلام کازمانہ پایاتھااوراسلام لائے تھے(ایک مرتبہ)یہ عبید حضرت معاویہ بن ابی سفیان کے پاس ان کے خلافت کے زمانے میں گئے حضرت معاویہ نے ان سے کہا(کہ تم نے اپنی عمرمیں)جوچیزسب سے زیادہ تعجب خیز دیکھی ہومجھ سے بیان کروانھوں نے کہا کہ میں ایک مرتبہ کچھ لوگوں کے پاس پہنچاکہ وہ لوگ اپنے مردےکودفن کررہے تھے جب میں نے اس میت کو(دفن کرتے ہوئے)دیکھا میری آنکھوں میں آنسوڈبڈباآئے اور میں نے یہ مثالیہ اشعار پڑھے ؎ ۱؎ استرزق اللہ خیراوارضین &nb۔۔۔
مزید
بن ضبع بن عامربن مجدعہ بن جشم بن حارثہ انصاری حارثی ہیں اوس کے خاندان سے تھے غزوۂ احد میں شریک تھے یہ عبیدالسہام کے نام سے مشہورتھے واقدی نے کہاہے کہ ابن ابی حبیبہ سے لوگوں نے دریافت کیاکہ ان کانام عبیدالسہام کیوں ہوا انھوں نے کہاکہ مجھ کو داؤد بن حصین نے خبردی کہ خیبرکے حصوں میں سے انھوں نے اٹھارہ حصے مول لیےتھے(اسی وجہ سے) ان کا نام عبیدالسہام پڑگیا۔بعض لوگوں نےکہاہے کہ نہیں بلکہ ان کا نام عبیدالسہام (پڑجانے کی یہ وجہ تھی) کہ یہ عبیدخیبرمیں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضرہوئے تھے۔جب رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارادہ کیاکہ خیبرکے حصہ کردیے جائیں توآپ نے لوگوں سے فرمایاکہ قوم کے چھو ٹے لوگوں کوبلاؤ(حسب الحکم حضرت کے)یہ عبیدبلائے گئے(جب حاضرہوئے) تو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کئی حصے دے دیےاسی وجہ سے ان کا نام عبیدالسہام پڑگیا۔ان کی کنیت ان کے بیٹے ثابت ۔۔۔
مزید
بعض لوگوں نے ان کوابن سعدبیان کیاہے۔عبدالوہاب بن عطانے اس شخص سے جس نے ابراہیم بن میسرہ سےانھوں نے عبیدبن سعدسے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سےروایت کرکے نقل کیاہے کہ آپ نے فرمایا جو شخص میرے دین کودوست رکھے اس چاہیے کہ میری سنت کی پیروی کرے اورمنجملہ میری سنتوں کے نکاح بھی ہے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔۔۔۔
مزید
ابن زیدزرقی ہیں ان کی کنیت ابوعیاش تھی محمد بن اسحاق نے ان کا نام اسی طرح بیان کیاہے ابن مندہ نے اپنی سند کے ساتھ منصوربن معتمرسے انھوں نے محامد بن ہبرسے انھوں نے ابوعباس زرقی سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے ساتھ نمازخوف پڑھی ہے۔اس کے بعد پوری حدیث بیان کی ہے۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔۔۔۔
مزید
ابن زید بن عامربن عجلان بن عمروبن عامربن زریق انصاری زرقی ہیں یہ غزوۂ بدراوراحدمیں شریک تھے اس کو ابوعمرنے بیان کیاہے اورابونعیم نے کہاہے کہ یہ عبیداللہ بن زید بن عامربن عجلان انصاری اوسی ہیں عجلان کی اولادسے تھےاورعجلان بن عمروبن عامر بن زریق ہیں اورانھوں نے اپنی سند کے ساتھ موسیٰ بن عقبہ سے انھوں نے ابن شہاب سے ان انصارکے نام میں جوخاندان اوس سے غزوۂ بدر میں شریک تھےعبیدبن زیدکانام بھی روایت کیاہےنیزابونعیم نے اپنی سندکے ساتھ ابن اسحاق سے ان انصاری کے نام میں جوخاندان اوس کی شاخ بنی عجلان بن عمروسے غزوۂ بدرمیں شریک تھے عبیدبن زیدبن عجلان کانام بھی روایت کیاہے۔اسی طرح ابوموسیٰ نے کہاہے۔ان کاتذکرہ ابونعیم اورابوعمراورابوموسیٰ نے لکھاہے میں کہتاہوں کہ ابونعیم اورابوموسیٰ کا ان کے نسب میں یہ کہناکہ زرقی ہیں اس کے بعداوسی کہناٹھیک نہیں ہے کیوں کہ زریق خزرج کے خاندان سے ہیں ان کو اوس۔۔۔
مزید