بن قیس بن خالد بن مدلج یعنی ابوالحشر بن خالد بن عبدمناف بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ قریشی تیمی ہیں۔فتح مکہ کے زمانہ میں اسلام لائے تھے۔اورواقعہ یمامہ میں شہیدہوئے۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے مختصر لکھاہے حشرکی حاکوفتح ہے اس کو ابن ماکولااوردارقطنی نےبیان کیاہے۔ (اسد الغابۃ ۔جلد ۔۶،۷)۔۔۔
مزید
بن ابی العیص بن امیہ بن عبدشمس بن عبدمناف بن قصی بن کلاب بن مرہ قریشی اموی ہیں ان کی کنیت ابوعبدالرحمٰن تھی۔بعض نے کہاہے کہ ابومحمدتھی۔زینب بنت عمروبن امیہ بن عبد شمس ان کی والدہ تھیں یہ فتح مکہ کے واقعہ میں ایمان لائے تھے۔اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم جبکہ مکہ فتح کرکےحنین تشریف لے جانے لگے تو آپ نے ان کو مکہ کاعامل بنادیا۔اوربعض لوگوں نے کہاہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ کو مکہ میں ٹھہرادیاتھاتاکہ وہاں کے لوگوں کودینی مسائل سکھائیں۔اورمحاصرۂ طائف سے لوٹنے کے بعدعتاب کومکہ کاعامل بنادیااورفرمایاکہ اے عتاب تم جانتے ہو کہ میں نے تم کو کن لوگوں پر عامل بنایاہے اگر میں ان کے لئے تم سے بہتر کسی اورکوسمجھتا تو اسی کو ان پر عامل بناتا۔جب ان کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے (مکہ کاعامل بنایاتھا)تو ان کی عمربیس سے ایک یادوسال زیادہ تھی پھرانھوں نے لوگوں کو حج کرایایہ ۸ھ ہجری کازمانہ تھا ۔۔۔
مزید
بن ہمام بن معاویہ ہم نے ان کا نسب مرثدہ کے نام میں ذکرکیاہے یہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وفد میں آئےتھے اوراسلام لائے تھے ان کوابن کلبی نے بیان کیاہے۔ (اسد الغابۃ ۔جلد ۔۶،۷)۔۔۔
مزید
ابن عبیداللہ بن ہدیر بن عبدالعزیٰ بن عامر بن حارث بن حارثہ بن سعدبن تیم بن مرہ قریشی تیمی ہیں یہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پیداہوئےتھےان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ ۔جلد ۔۶،۷)۔۔۔
مزید
بن عثمان۔ان کا نسب ان کے بھائی طلحہ بن عبیداللہ کے بیان میں گذرچکاہے یہ قریشی تھے تیم کی اولاد سے تھےان کی والدہ کریمہ بنت موہب بن نمران قبیلہ کندہ کی ایک خاتون تھیں یہ اسلام لائے تھے اورمہاجرتھےنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے ابوعمرنے کہاہے کہ مجھ کو ان کی کوئی روایت نہیں یادہے ان کی اولاد میں سے محمدبن طلحہ بن محمد بن عبدالرحمٰن بن عثمان بن عبداللہ تھے نسب اورمغازی کوسب سے زیادہ جانتے تھے ان سے حدیث روایت کی گئی ہے ان کا تذکرہ ابوعمرنے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ ۔جلد ۔۶،۷)۔۔۔
مزید
تیمی ہیں۔حصن بن عثمان نے کہاہے کہ عثمان بن عبدالرحمٰن تیمی نے جن کی کنیت ابوعبدالرحمٰن تھی۷۴ھ ہجری میں وفات پائی اورصحابی تھے ان کا تذکرہ ابوعمرنے مختصر لکھاہے۔ (اسد الغابۃ ۔جلد ۔۶،۷)۔۔۔
مزید
بن عمروبن کعب بن سعدبن تیم بن مرہ کعب بن لوئی قریشی تیمی ہیں۔ ان کی کنیت ابوقحافہ تھی حضرت ابوبکرصدیق کے والدتھے( رضی اللہ عنہما)ان کی والدہ آمنہ بنت عبدالعزیٰ بن حدثان بن عبیدبن عویج بن عدی بن کعب تھیں اس کو زبیربن بکار نے بیان کیاہے یہ فتح مکہ کے واقعہ میں ایمان لائےتھےیہ حضرت ابوبکرکے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس واسطے آئے تھےکہ آپ کی بیعت کریں ہم کوعبدالوہاب بن ہبتہ اللہ نے اپنی سند کوعبداللہ بن احمد تک پہنچاکر خبر دی وہ کہتےتھےمجھ سے میرے والد نے بیان کیاوہ کہتےتھےہم سے محمد بن سلمہ حرانی نے ہشام سے انھوں نےمحمدبن سیرین سے نقل کرکےبیان کیاوہ کہتےتھے کہ انس بن مالک سے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے خضاب لگانےکی نسبت دریافت کیاگیاتوانھوں نے کہاکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے بال سفیدنہ تھے لیکن چنداورابوبکر اورعمر رضی اللہ عنہمانے آپ کے بعد مہندی اور وسمہ کا خضاب کیاتھا۔ا۔۔۔
مزید
بن شرید بن سوید بن ہرمی بن عامربن مخزوم قریشی مخزومی ہیں ۔ان کی والدہ صفیہ بنت ربیعہ بن عبدشمس ہمشیرہ عتبہ بن ربیعہ اورشیبہ بن ربیعہ تھیں۔یہ مہاجرین حبشہ میں سے ہیں غزوۂ بدر میں شریک تھے اوراحد میں شہیدہوئے یہ شماس کےنام سے مشہورتھے ۔اوراسی طرح ان کو ابن اسحاق نے ذکرکرکے کہاہے کہ شماس بن عثمان ہیں ہشام بن کلبی نے کہاہے کہ شماس بن عثمان کانام عثمان ہے ان کا نام شماس اس وجہ سے مشہورہوگیا کہ ایام جاہلیت میں نصرانیوں کے بعض سردار مکے میں آئے تھے لوگ ان کی خوبصورتی کودیکھ کر تعجب کرنے لگے توعتبہ بن ربیعہ نے جوان کے ماموں تھےکہا(یہ بات کیاتعجب خیز ہے)میں تمھارے پاس ایسے شماس (یعنی آفتاب تاباں)کو لاؤں جوان سے بھی زیادہ خوبصورت ہواوراپنے بھانجے عثمان بن عثمان کولائے اسی دن سے ان کا نام شماس ہوگیااوراسی نام سے پکارے جاتےتھے ہشام کے قول کے مانند زبیرنے بھی کہاہے اورزہری تک اس کا نسب ۔۔۔
مزید
ثقفی ہیں ان کا شمار اہل حمص میں ہے ان سے عبدالرحمن بن ابی عوف نے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ ایک سال ہونے کے پیشتر قبول کرتاہے (اسد الغابۃ ۔جلد ۔۶،۷)۔۔۔
مزید
بن ہدیر بن عبدالعزیٰ بن عامر بن حارث بن حارثہ بن سعدبن تیم بن مرہ قریشی تیمی ہیں یہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پیداہوئےتھےان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ ۔جلد ۔۶،۷)۔۔۔
مزید