جمعہ , 14 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Friday, 01 May,2026

سیّدناعثمہ ابوابراہیم رضی اللہ عنہ

   جہنی ہیں ان کی حدیث ان کی اولاد سے مروی ہے۔چنانچہ اس کو یحییٰ بن بکیرنے رفیع بن خالدسےانھوں نے محمدبن ابراہیم بن عثمہ جہنی سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے محمد کے دادا سے روایت کرکےنقل کی ہے وہ کہتےتھےایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم (مکان سے)باہر تشریف لائے پس ایک انصاری سے آپ کی ملاقات ہوئی انھوں نے عرض کیایارسول اللہ میرے ماں باپ حضورپرفداہوںمجھے رنج ہورہاہے اس کیفیت کودیکھ کرجوآپ کے چہرہ سے ظاہرہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑی دیران کی طرف دیکھابعداس کے فرمایاکہ(اس کی وجہ)گرسنگی ہے وہ شخص اپنے گھرگئے مگرگھرمیں کچھ کھانانہیں پایا(وہاں سے)بنی قریظہ کے پاس گئے اوروہاں مزدوری شروع کی ایک ڈول پانی کے عوض میں ایک چھوہارا ٹھیرالیایہاں تک کہ ایک مٹھی بھرکرچھوہارے جمع ہوگئے پس ان چھوہاروں کو لیکریہ حاضرہوئےاورحضرت کے سامنے رکھ دئے اورعرض کیاکہ یارسول اللہ کھائیےنبی صلی اللہ علیہ۔۔۔

مزید

محمد رمضان (کراچی)

مولانا۔۔۔

مزید

ریاست علی (کراچی)

مولانا سید۔۔۔

مزید

شجاعت علی قادری (کراچی)

مولانا سید۔۔۔

مزید

جان محمد بلگرامی

سید۔۔۔

مزید

علی کشمیری

میر محمد۔۔۔

مزید

سیّدناعتبہ ابن ربیعہ رضی اللہ عنہ

 بن خالدبن معاویہ بہرانی ہیں اوس (کے خاندان)کے حلیف تھے ابن اسحاق نے کہاہے کہ یہ غزوۂ بدر میں شریک تھے ان کاتذکرہ ابوعمراورابوموسیٰ نے مختصرلکھاہے مگرابوعمرنے کہاہے  کہ ان کی شرکت بدر میں اختلاف کیاگیاہے ابن اسحاق نے توان کو بہرانی بیان کیاہے مگرابن کلبی نے انکوبہزی بہزبن امراء القیس بن بہثہ بن سلیم کی اولاد سے بیان کیاہے۔ (اسد الغابۃ ۔جلد ۔۶،۷)۔۔۔

مزید

سیّدناعتبہ ابن اسید رضی اللہ عنہ

بن جاریہ بن اسید بن عبداللہ بن سلمہ بن عبداللہ بن غیرۃ بن عوف بن ثقیف ثقفی ہیں ان کی کنیت ابوبصیرتھی اوریہ اپنی کنیت کے ساتھ زیادہ مشہورہیں یہ وہی ہیں کہ جو صلح حدیبیہ میں کافروں کے پاس سے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھاگ آئے تھے پھر ان کو قریش نے طلب کیاتاکہ ان کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف واپس کردیں کیوں کہ (اس زمانے میں)کفارقریش سے اس بات پرصلح کرلی تھی کہ جوشخص تمھاری طرف سے ادھر آئے گا وہ پھرتمھاری طرف لوٹادیاجائے گا لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبصیرکو دوکافروں کی ہمراہی میں واپس کردیا انھوں نے اثناء راہ میں ایک کافرکوقتل کرڈالا اوردوسرا(یہ دیکھ کر)نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھاگ آیااورابوبصیر نے بھی آپ کے پاس حاضرہوکرعرض کیایارسول اللہ آپ کاعہد پورا ہوگیااورخدانے آپ سے (وفاء عہدکابار)اتار دیامیں نے اپنی ذات کومشرکوں سے بچایا تھاتاکہ مجھ کو میرے دین کی۔۔۔

مزید

سیّدناعتبان ابن مالک رضی اللہ عنہ

 بن عمربن عجلان بن زید بن غنم بن سالم بن عوف بن خزرج انصاری خزرجی سالمی غزوہ بدر میں شریک تھے مگرابن اسحاق نے ان کو اہل بدرمیں نہیں لکھادوسروں نےان کو اہل بدرمیں ذکرکیا ہے ہم کو خطیب عبداللہ بن احمد طوسی نے اپنی سند کےساتھ ابوداؤد طیالسی سے نقل کرکے خبردی وہ کہتے تھے ہمیں ابراہیم بن سعد نے خبردی وہ کہتے تھے میں نےزہری کو محمود بن ربیع سے روایت کرتے ہوئے سنا اور محمود بن ربیع عتبان بن مالک سالمی سے نقل کرتے تھے کہ میں اپنی قوم بنی سالم کی امامت کرتاتھامگرجب بہیہ آتی تھی تو مجھے اس نشیب کے پاراترنا مشکل ہوتاتھاجو کہ میرے اور مسجد کے درمیان میں تھا (ایک مرتبہ)رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوا اور عرض کیا یارسول اللہ مجھ پر اس نشیب کا اترنا بہت مشکل ہوتاہے پس اگر آپ مناسب سمجھیں تو میرے گھرتشریف لائیں اور میرے گھرکے کسی مقام پر نماز پڑھ دیں تاکہ میں اس مقام کو نماز کی جگہ ۔۔۔

مزید

سیّدناعتاب ابن شمیر رضی اللہ عنہ

 ضبی ہیں صحابی تھے۔ان سے ان کے بیٹے مجمع نے روایت کی ہے۔فضل بن وکین اوریحییٰ حمانی نے عبدالصمد بن جابر بن ربیعہ ضبی سے انھوں نے مجمع بن عتاب بن شمیرسے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ وہ کہتے تھے میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیایارسول اللہ میراایک بوڑھاباپ ہے اورکئی بھائی ہیں ان کے پاس جاتاہوں شاید وہ اسلام لے آئیں پھر ان کو آپ کے پاس لاؤں آپ نے فرمایااگروہ لوگ اسلام لے آئیں تو ان کے لیے بھلائی ہے اوراگراسلام کو نامنظورکریں تو کچھ پرواہ نہیں خود پھیل رہاہے ان کا تذکرہ تینوں نےلکھاہے۔ (اسد الغابۃ ۔جلد ۔۶،۷)۔۔۔

مزید