ان کی کنیت ابوعبداللہ ملیکی ہیں۔اہل شام میں ان کاشمار ہے۔بخاری نے کہاہےکہ بعض لوگوں کابیان ہے کہ یہ صحابی تھے ہم کومحمد بن عمربن ابی عیسیٰ نے اجازتاًخبردی وہ کہتےتھے ہم سے حسن بن احمد نے بیان کیاوہ کہتےتھےہم سے احمد ابن عبدالرحمن بن عفان حرانی نے بیان کیاوہ کہتےتھےہم سے ابو جعفر نقیلی نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم کوسعد ابن سنان نے یزید بن عبداللہ بن عریب نے اپنے والد سےانھوں نے اپنےداداسےانھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرکے خبردی کہ آپ نے فرمایا یہ آیت الذین ینفقون اموالہم بالیل والنہار سراوعلانیہان لوگوں کے حق میں نازل ہوئی ہےجوجہاد فی سبیل اللہ میں اپنامال خرچ کرتے ہیں۔ ان کاتذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔
مزید
انصاری ہیں ان کے صحابی ہونے میں اختلاف ہے(امام)بخاری نے کہاہے کہ ان کاشمار تابعین میں ہے اوریہی درست ہے ابن ابی خیثمہ نے ان کوصحابہ میں ذکرکیاہے ان سے ولید بن عامر مدنی نے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاسواری کامالک اس کے صدرمقام میں بیٹھنے کازیادہ حقدارہے۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔
مزید
ان کواسماعیلی نے صحابہ میں بیان کیاہے اورانھوں نے اپنی سند کے ساتھ عروہ قشیری سے روایت کی ہے کہ عروہ نے کہامیں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوکر عرض کیاکہ ہم کئی خداؤں کی پرستش کیاکرتے تھےان سے ہم دعامانگتے تھے مگرہماری دعامقبول نہ ہوتی تھی پھرخدا نے آپ کو مبعوث کیااور ہم کوان خداؤں سے نجات دی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکامیاب ہوا وہ شخص جسے عقل دی گئی بعد اس کے آپ نے میرے لیے دومرتبہ دعاکی اورمجھے دوکپڑے دیے ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے اورانھوں نے کہاہے کہ یہ حدیث اورکسی سے بھی مروی ہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔
مزید
بعض نے کہاہے کہ ابن ابی الجعدبارقی ہیں اوربعض نے ازدی کہاہے یہ ابن مندہ اورابونعیم کابیان ہے کوفہ میں رہتےتھےان سے شعبی اورسبیعی اورشبیب بن غرقدہ اورسماک بن حرب اور شریح بن ہانی وغیرہم نے روایت کی ہے یہ ان لوگوں میں تھے جن کوحضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے شام بھیجاتھااہل کوفہ میں تھےاورسرحدروزکے محافظ تھےاوران کے ساتھ بہت سے گھوڑے تھےان میں ایک گھوڑا ایساتھاکہ جسے دس ہزار درہم کالیاتھاشبیب بن غرقدہ نے کہاہے کہ عروہ بن جعدہ کے گھرمیں نےسترگھوڑے جہاد فی سبیل اللہ کے لیے بندھے ہوئے دیکھے ہم کو عبداللہ بن احمد خطیب نے اپنی سند کوابوداؤد طیالسی تک پہنچاکرخبردی وہ کہتےتھےہم سے جریربن حازم نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہمیں زبیربن حریث ازدی نے خبردی وہ کہتےتھے ہمیں نعیم بن ابی ہندنےعروہ بن جعدبارقی سے نقل کرکے خبردی وہ کہتےتھےکہ (ایک مرتبہ)رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا گیاکہ آپ اپنے گھوڑ۔۔۔
مزید
تمیمی ہیں یہ صحابی تھے۔ان کاتذکرہ ابوعمرنے مختصرلکھاہےاورابوموسیٰ نے ان کا تذکرہ لکھ کرکہاہے کہ یزید بن عبداللہ نے صفوان بن امیہ سے روایت کی ہے وہ کہتےتھے ہم رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضرتھے کہ عرفطہ بن نہیک تمیمی کھڑے ہوئے اورکہایارسول اللہ میں اورمیرے گھروالے شکارسے رزق حاصل کرتے ہیں اوراس میں ہمارے لیے حصہ وبرکت ہے اور وہ اللہ عزوجل کے ذکراورنمازجماعت سے بازرکھنے والاہے اورہم کو اسی کی طرف حاجت ہے کیا پس آپ اس کو حلال کہتےہیں یاحرام آپ نے فرمایاحلال کہتاہوں اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو حلال کیاہے اورپوری حدیث بیان کی۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔
مزید
اسدی ہیں ان کی کنیت ابومکعت تھی ان کا تذکرہ ابومکعت اورابومصعب میں بیان کیاگیاہے پس چاہیے کہ وہاں ان کا حال دیکھاجائے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔
مزید
اوربعض نے کہاہے کہ یہ ابن جبیر ازدی ہیں بنی امیہ بن عبدشمس بن عبدمناف کے حلیف تھے واقعۂ طائف میں شہید ہوئے انھوں نے اولادچھوڑی تھی۔ان کی کوئی روایت معروف نہیں ان کا ابن اسحاق نے بھی ذکرکیاہے کہ ابن حباب ہیں اورابن ہشام نے کہاہے کہ یہ ابن حباب کہےجاتےتھے۔ان کاتذکرہ ابوعمراورابن مندہ نے بیان کیاہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔
مزید
انصاری ہیں۔کلبی نے ابوصالح سےانھوں نے عبداللہ بن عباس سے روایت کی ہے وہ کہتےتھےکہ اللہ برترکاقوللاحال نصیب ترک ابوالدان والاقربون الایہ(اس کی شان نزول یہ ہے کہ)اوس بن ثابت نے وفات پائی اورتین لڑکیاں چھوڑیں اورایک بی بی جو ام کجہ کے نام سے مشہورتھیں پس دوشخص اوس کے چچاکی اولاد سے کھڑے ہوئے جن کا نام قتادہ اورعرفطہ تھااور دونوں نے اوس کامال لے لیا۔توام کجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضرہوئیں اورعرض کیا یارسول اللہ اوس بن ثابت نے وفات پائی اورمیرےپاس تین لڑکیاں چھوڑیں اورمیرے پاس کچھ نہیں ہے کہ ان کی معاش میں خرچ کروں حالاں کہ انھوں نے اچھامال چھوڑاہے وہ ان کے چچا کے بیٹے قتادہ اورعرفطہ لے گئےاورانھوں نے لڑکیوں کوکچھ بھی نہیں دیااوروہ لڑکیاں میرے پاس ہیں اوروہ دونوں ان لڑکیوں کو کچھ کھانے پینے کو نہیں دیتے اورمیرے پاس ایسانہیں کہ ان کو کفایت کرے رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے ۔۔۔
مزید
صدرُ العلماءمفتی وجیہ الدین کاکوروی محترم ،فاضل ، مفتی وجیہُ الدین بن علیم الدین بن نجم الدین کا کوروی ، نیک علماء میں سے ہیں، ۱۲۳۲ھ میں پیدا ہوئے، اپنے والد اور شیخ فضل اللہ، عثمانی نیوتینی سے تمام علوم حاصل کیے شیخ حسین احمد ملیح آبادی اور شیخ آل احمد بن محمد امام پھلواروی سے حدیث کی سند حاصل کی۔ اور افتاء کے عہدہ پر منتخب کر لے گئے پھر آہستہ آہستہ دوسرے عہدے کی طرف بھی منتقل کردئے گئے، بالآخر صدر العلماء منتخب ہوگئے، آپ بہت ہی نیک، دیندار، پرہیزگار تھے لوگوں کو آپ سے ہیبت آتی تھی، مرتبہ کے بہت اونچے تھے۔ آپ کا فارسی زبان میں شرح وقایہ میں عبادات کے مسائل کا ترجمہ تھا۔ یکم محرم ۱۳۰۵ھ میں آپ کی وفات ہوئی جیسا کہ شیخ منظورالدین کو روی کی کتاب مجمع العلماء میں ہے۔۔۔۔
مزید
ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے اورکہاہے کہ جعفرمستغفری نے ان کوصحابہ میں بیان کیاہے۔ابوموسیٰ نے کہاہے کہ کہاجاتاہے کہ ان کو شرف صحبت حاصل تھامگرکوئی حدیث ان کی نہیں بیان کی۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔
مزید