لیثی ہیں صحابی تھےان کااہل بصرہ میں شمارتھا۔ہم کوابوالفرح بن محمود نے اپنی سند کے ساتھ ابوبکربن عاصم سے نقل کرکے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے شیبان بن فروخ نے بیان کیا وہ کہتےتھےہم سے سلیمان بن مغیرہ نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے حمید بن ہلال نےبشربن عاصم سے انھوں نے عقبہ ابن مالک سے نقل کرکے بیان کیاکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا سا لشکربھیجا اس نے ایک قوم پرلوٹ مارکرناشروع کی پس قوم سے ایک مردبھاگا(چنانچہ)لشکرمیں سے ایک شخص تلوارننگی لیے ہوئے اس کے پیچھے چلا تو اس سے بھاگنے والے نے کہاکہ میں مسلمان ہوں اس نے اس کے کہنے کی طرف کچھ خیال نہ کیااورضرب لگاکراس کو مارڈالا۔پس یہ خبر رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کوپہنچی آپ نے قاتل کے حق میں سخت کلام کہااس کی خبرقاتل کو ملی توایک دن رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ پڑھ رہے تھےکہ یکایک قاتل نے کہاکہ (وہ مقتول مسلمان نہ تھا بلکہ)قتل سے ب۔۔۔
مزید
ہیں ان کوابن شاہین نے بیان کیاہے اوراپنی سند کے ساتھ یزیدبن ہارون سے انھوں نے یحییٰ بن معیدسے انھوں نے عبیداللہ بن زحرضمری سے انھوں نے ابوسعید رعینی سے انھوں نے عبداللہ بن مالک جہنی سے نقل کیاہے کہ ان کو عقبہ بن مالک نے خبردی کہ عقبہ کی بہن نے یہ نذر مانی تھی کہ میں بیت اللہ شریف تک برہنہ پااوربغیرچادراوڑھے ہوئے جاؤں گی۔عقبہ نے اس کا تذکرہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے کیاآپ نے عقبہ سے فرمایا کہ اپنی بہن سے کہدو کہ سوار ہولےاورچادراوڑھ لے اورتین روزہ رکھے اس کوایک گروہ نے یحییٰ بن سعید سے انھوں نے عبیداللہ سے نقل کرکے روایت کیاہے اوران سب نے کہاہے کہ عقبہ ابن عامرہیں اوریہی صحیح ہے۔ ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔
مزید
بن حارثہ بن زید مناہ بن عدی بن عمروبن مالک بن نجارصحابی تھے فتح مصرمیں بھی شریک تھےانھوں نے مصرمیں اپنی اولاد چھوڑی تھی۔ان کی کوئی روایت مشہورنہیں ہے اس کو ابن یونس نے ذکرکیاہےعدوی نے کہاہے کہ عقبہ بن کدیم بن عمروبن حارثہ بن عدی بن عمرو غزوۂ احد میں اوراس کے بعدکے مشاہد میں شریک تھے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔
مزید
بن قیس بن لوذان بن ثعلبہ بن عدی بن مجدعہ بن حارثہ بن حارث بن خزرج بن عمروبن مالک بن اوس انصاری حارثی ہیں یہ اپنے والد اورعبداللہ بن قنیطی کے ساتھ غزوۂ احد میں شریک تھے اوریہ عقبہ اورعبداللہ جسرابی عبیدہ کے واقعہ میں شہیدہوگئے۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے لکھاہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔
مزید
بن ثعلبہ بن اسیرہ اوربعض نے کہاہے کہ ثعلبہ بن عسیرہ اوربعض نے کہاہے ثعلبہ بن اسیرہ بن عسیرہ بن عطیہ بن خدارہ بن عوف بن حارث بن خزرج اوربعض نے کہاہے عقبہ بن عمروبن ثعلبہ بن اسیرہ بن عسیرہ بن عطیہ بدرسی ہیں ان کی کنیت ابومسعود تھی یہ اپنی کنیت ہی سے مشہور تھے۔غزوۂ بدرمیں شریک نہ تھے بلکہ بدر۱؎ میں رہتے تھے۔ہاں عقبہ ثانیہ میں شریک تھے جو لوگ عقبہ ثانیہ میں شریک تھے ان سب سے یہ کم سن تھے۔اس کو ابن اسحق نے بیان کیاہے غزوۂ احد اور اس کے مابعد کے غزوات میں شریک تھے(امام)بخاری وغیرہ نے کہاہے کہ یہ غزوۂ بدرمیں شریک تھےمگرصحیح نہیں ہے۔کوفہ میں رہتے تھےاورحضرت علی کے شاگردتھےحضرت علی نے جب صفین کی طرف کوچ کیاتو ان کو کوچہ میں نائب کردیاتھا۔ان سے عبداللہ بن یزیدخطمی اورابووائل اورعلقمہ اورمسروق اورعمروبن میمون اورربعی ابن خراش وغیرہ نے روایت کی ہے ان کوہم انشاء اللہ تعالیٰ باب الکنیت میں بیان کریں ۔۔۔
مزید
بن مخلد بن عامر بن زریق انصاری زرقی ہیں یہ اوران کے بھائی سعد بن عثمان غزوۂ بدرمیں شریک تھے ہم کوابوجعفربن سمین نے اپنی سند کویونس بن بکیرتک پہنچاکرانھوں نے ابن اسحاق سے نقل کرکے ان لوگوں کے نام کی خبردی جوغزوۂ بدرمیں موجودتھے خبردے کرکہا کہ بنی زریق بن عامرسے پھربنی مخلد بن عامربن زریق سے اورابوعبادہ اوروہ سعد بن عثمان بن خلدہ بن مخلد اوران کے بھائی عقبہ بن عثمان تھےابن اسحاق نے کہاغزوۂ احد کے واقعہ میں سےعقبہ بن عثمان اورسعدبن عثمان یہ انصارسے دوشخص بھاگےاوراعوض کے مقابل ایک پہاڑپرپہنچے اوروہاں تین روز تک ٹھہرے رہے۔پھروہاں سے واپس ہوکر رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئےپھرانھوں نے بیان کیاکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ تم لوگ اس لڑائی سے چلے گئے وسعت پاکر۔ان کا تذکرہ ابوعمراورابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔
مزید
؎قریشی تیمی ہیں یا(ان کانام)معاذبن عثمان ہے۔ان کی (روایت کردہ)حدیث ابن عینیہ نے اسی طرح حمید بن قیس سے انھوں نےمحمدبن ابراہیم بن حارث تیمی سے انھوں نے اپنی قوم بنی تیم کے ایک شخص سےجوعثمان بن معاذیامعاذ ابن عثمان کہے جاتےتھےنقل کرکے روایت کی ہے کہ انھوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتےہوئے سنا کہ تم لوگ رمی جمارکیاکرو چھوٹی کنکریوں سے۔ان کا تذکرہ ابوعمرنےلکھاہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔
مزید
بن وہب بن حذافہ بن جمح بن عمروبن ہصیص بن کعب بن لوی بن غالب قریشی جمحی ہیں ۔ان کی کنیت ابوسائب تھی۔سخیلہ بنت عنبس بن اہیان بن حذافہ بن جمح ان کی والدہ تھیں اوریہی سائب بن مظعون اورعبداللہ بن مظعون کی والدہ تھیں یہ عثمان اول(زمانہ) اسلام (میں)اسلام لائے تھے ابن اسحاق نے کہاہے کہ عثمان بن مظعون تیرہ آدمیوں کے بعد اسلام لائے تھے انھوں نے اوران کےبیٹے سائب نے مسلمانوں کی ایک جماعت کے ساتھ حبش کی طرف ہجرت کی تھی یہ پہلی ہجرت تھی۔عثمان حبش ہی میں تھے کہ ان کوخبرپہنچی کہ قریش اسلام لے آئے پس یہ واپس چلے آئے۔ہم کوابوجعفر بن سمین نے اپنی سندکویونس بن بکیرتک پہنچاکر ابن اسحاق سے نقل کرکے خبردی وہ کہتےتھے جب ان لوگوں کوجوکہ حبش میں تھے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اہل مکہ۱؎کے سجدہ کرنے کی خبرپہنچی تووہ لوگ وہاں سے چل نکلے اوران کے ساتھ اورلوگ بھی تھےاورخیال یہ کرتے تھےکہ نبی صلی اللہ علیہ و۔۔۔
مزید
بن قیس بن عدی سہمی ہیں یہ اپنے والدکے ساتھ فتح مصر میں شریک تھے اس کوابوسعیدبن یونس نے کہاہے۔لیث بن سعد نے یزیدبن ابی حبیب سے نقل کرکے روایت کی ہے کہ حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے (ایک مرتبہ)عمروبن عاص کے پاس لکھاکہ جن لوگوں نے تحت الشجرہ بیعت کی ہے جوتمھارے سامنے موجودہیں ہرایک کودوسو(درہم مشاہرہ)وظیفہ دیا کرو۔اوروہی اپنےاور اپنےعزیزوں کے واسطے مقررکرو اورخارجہ بن حذافہ کوان کے شجاعت کے سبب سے(وہی)مقررکرو۔اورعثمان بن قیس کوشرف مہمان نوازی کے سبب سے(وہی)مقرر کرو۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔۔۔۔
مزید
۔(حضرت)انس کی (روایت کردہ)حدیث میں ذکرہے(اور)اس (حدیث)کوکثیر بن سلیم نے انس بن مالک سے روایت کیاہے۔حضرت انس کہتےتھے کہ عثمان بن عمرو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضرہوئے۔یہ اپنی قوم کے امام تھے اوربدری تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ جب تم اپنی قوم کے ساتھ نمازپڑھاکرو توبہت طول نہ دیاکرو کیوں کہ اس میں بوڑھے اورکمزوراورحاجتمند لوگ(ہوتے)ہیں۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے اوران دونوں نےکہاہے کہ اسی طرح یہ حدیث روایت کی گئی ہے۔اورکہاگیاہے کہ یہ عثمان بن عمروہیں اوربدری تھے۔اوریہ حدیث عثمان بن ابی العاص ثقفی (کی روایت)سے مشہورہے۔یہ بدری نہ تھے ثقیف کے وفد کے ساتھ اسلام لائے تھے۔۔۔۔
مزید