جمعہ , 14 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Friday, 01 May,2026

سیّدناعکاشہ ابن محصن بن حرثان

 بن قیس بن مرہ بن کثیربن غنم بن دودان بن اسد بن خزیمہ اسدی۔ بنی عبدشمس کے حلیف تھے۔کنیت ان کی ابومحصن ہے۔سرداران وبزرگان صحابہ میں سے تھے بدر میں شریک تھے اوراس میں ان سے کارنمایاں ظاہرہوئے اس دن ان کے ہاتھ میں ایک تلوار ٹوٹ گئی رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے ان کوایک لکڑی دی تھی وہ اسی وقت ان کے ہاتھ میں تلوار ہوگئی نہایت تیزباڑھ دار اورصاف لوہے کی اسی سے یہ لڑےیہاں تک کہ اللہ نے فتح عنایت کی۔پھربرابر اس تلوارکولے کررسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تمام مشاہد میں شریک ہوئےیہاں تک کہ واقعۂ روت میں شہیدہوئےاوریہ تلوار اس وقت بھی ان کےپاس تھی اس تلوار کاعون تھا۔احد میں اورخندق میں اورتمام مشاہد میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک تھے ان کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نےبشارت دی تھی کہ تم جنت میں بغیرحساب کے داخل ہوگے۔قتال اہل روت میں بعہدحضرت ابوبکرصدیق شہید ہوئےان کو طلیح۔۔۔

مزید

غنوی سیّدناعکاشہ

  ۔ان کا تذکرہ ابن شاہین نے صحابہ میں کیاہےاوراپنی سندکے ساتھ حفص بن میسرہ سے انھوں نے زید بن اسلم سے انھوں نے عکاشہ غنوی سے روایت کی ہے کہ ان کی ایک لونڈی تھی جو ان کی بکریاں چرایاکرتی تھی اس سے ایک بکری کھوگئی توانھوں نے اس کےمنہ پرایک طمانچہ ماراپھر اپنی یہ حرکت رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی اورعرض کیا کہ اگرمیں جانتا کہ یہ مومن ہے تو یقیناًمیں اس کوآزاد کردیتا پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لونڈی کوبلوایااور اس سے پوچھا کہ تم مجھے جانتی ہے اس نے کہاہاں آپ خداکے رسول ہیں آپ نے پوچھاپھراللہ (کوجانتی ہے)کہاں ہے اس نے کہا آسمان۱؎ میں پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (عکاشہ سے)فرمایااس کوآزاد کردو یہ مومن ہے ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے مگرصحیح یہ ہے کہ یہ واقعہ بنی مقرن کاہے(نہ عکاشہ کا)واللہ اعلم۔ ۱؎ ہرشخص اپنی سمجھ کے موافق مکلف ہوتاہے وہ عورت اس سے زیادہ نہ سمجھ سکتی تھ۔۔۔

مزید

ابن ثور بن اصغرسیّدناعکاشہ

  غوثی۔رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مقام سکاسک اورسکون اورقبیلۂ بن معاویہ میں جوکندہ کی ایک شاخ ہے عامل تھے۔ان کوبسیف نے اپنی کتاب میں ذکرکیاہے۔ان کاتذکرہ ابوعمرنےلکھاہےاورکہاہے کہ میں ان کاحال اس کے سوااورکچھ نہیں جانتا۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔

مزید

سیّدناعک

کنیت ان کی ذوحیوان تھی۔ان کی ذکرردیف ذال میں ہوچکاہےان کاتذکرہ ابوعمراورابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔

مزید

سیّدناعقیل ابن مقرن

 مزنی کنیت ان کی ابوحکیم ہے۔نعمان اورسوید اورمعقل فرزندان مقرن کے بھائی تھے۔ ان کا نسب اوپربیان ہوچکاہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےپاس آئےتھے اورآپ کی صحبت میں رہے تھے۔واقدی نے بیان کیاہے کہ جوصحابہ کوفہ میں چلے آئےتھے ان میں عقیل بن مقرن یعنی ابوحکیم بھی تھے اوربخاری نے ان کوعقیل بن مقرن ابوحکیم مدنی کہاہے اوراسی طرح احمد بن سعید دارمی نے بیان کیاہے ۔ان کا تذکرہ ابوعمراورابوموسیٰ نے لکھاہے۔واللہ اعلم۔۔۔۔

مزید

شیخ تقی الدین احمر صوفی

۔۔۔

مزید

سیّدناعقیل ابن مالک

 حمیری۔شاہزادوں میں سے ہیں قبیلۂ بنی حنیفہ کے پڑوسی تھے مسلمان تھے مجتہدتھے انھوں نے اس قبیلہ کے لوگوں کواسلام پرقائم رہنے کی تاکید کی تھی جبکہ ان لوگوں نے مرتد ہو جانے کاارادہ کیاتھامگران لوگوں نے ان کی بات نہ مانی۔یہ وثیمہ کاقول ہے۔ان کا تذکرہ ابن دباغ نے ابوعمرپراستدراک کرنے کے لیے کیاہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔

مزید

شیخ سعید قیروانی

حضرت ابو عثمان سعید بن سلام مغربی رحمۃ اللہ علیہ منجملہ ائمہ طریقت،سیف سیادت،آفتاب نجابت،حضرت عثمان سعید بن سلام مغربی رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔جو اہل استقامت بزرگوں میں سے تھے۔آپ رحمۃ اللہ علیہ صاحب ریاضت و سیاست اور فنون علم میں کامل مہارت رکھتے تھے۔آپ کی نشانیاں بکثرت اور براہین عمدہ ہیں۔ آپ کا ارشاد ہے: ‘‘من آئر صحبۃ الاغنیاء علی مجاندۃ الفقراء ابتلاء اللہ تعالیٰ بموت القلب’’ ‘‘جو درویشوں کی صحبت پر امیروں کی ہم نشینی کو ترجیح دیتا ہے اللہ تعالیٰ اسے دل کی موت میں مبتلا کردیتا ہے۔’’ اس لیے کہ جب درویشوں کی مجلس کے مقابلہ مین تو نگروں کی صحبت اختیار کرے گا تو اس کا دل حاجت کی موت سے آپ ہی مرجائے گا اور اس کا جسم و ہم و گمان میں گرفتار ہوجائے گا۔ جب کہمجلس چھوڑ نے کا نتیجہ دل کی موت ہے تو صحبت سے اعراض کا کیا انجام ہوگا۔؟ان مختصر کلمات میں ص۔۔۔

مزید

سیّدناعقیبہ ابن رقیبہ

 اوربعض نے کہاہے کہ رقیبہ بن عقیبہ ہیں ان کاتذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے مختصرلکھا ہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔

مزید

ابن عمروسیّدناعقیب

  یہ سہل بن عمروبن عدی بن زیدبن جشم بن حارثہ کے بھائی تھے انصاری حارثی ہیں غزوۂ احد میں شریک تھے عقیب کا ایک بیٹاتھاجس کو سعد کہتےتھے۔ان کی کنیت ابوالحارث تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے۔مگران کوجنگ احد میں چھوٹاسمجھ کرپھیردیاتھااورغزوۂ احدمیں نہیں شریک ہوئے۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے لکھاہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔

مزید