حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکی(روایت کردہ)حدیث میں ان کا ذکرہے۔اس کو ابوزکریا بن مندہ نے کہاہے اوریہ بھی کہاہے کہ ان کو بعض محدثین نےذکرکیاہے اوراس کو حسن بن سفیان پر حوالہ کیاہے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے میں کہتاہوں کہ وہ عطیہ بن عازب بن عفیف وہ شخص ہیں جن کوہم نے ذکرکیاہےاوروہاں پر ان کے داداتک ان کا نسب بیان کیاہے واللہ اعلم۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔
مزید
حضرت سید حمید لاہوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سادات کرام اور مشائخ عظام سے تعلق رکھتے تھے۔ جامع شرافت و نجابت تھے۔ ظاہری علوم میں ممتاز عالم دین ساری زندگی ارشاد و ہدایت میں گذاری۔ چہارم محرم الحرام ۱۰۹۰ھ واصل بحق ہوئے۔ اور اپنے آبائی قبرستان میں آسودۂِ خاک ہوئے آپ کے بیٹے آپ کی جگہ مسند ارشاد پر بیٹھے مگر وہ بھی ۱۰۷۷ھ میں انتقال فرما گئے۔وفات سیّد حمید: چوں جناب حمید حامدِ حقاعظم اولیا ست تاریخش۱۰۹۰ھزین جہاں فنا بخلد رسیدہم نجوان صدر دین سخی حمید۱۰۹۰ھتاریخ وفات سید عبدلقادر گیلانی:چوں جناب عبدالقادر شیخ پیروارث عشق ست تاریخ دگر۱۰۷۷ھگشت راہی ازجہاں سوئے جنانعبد قادر متقی معصوم خواں۱۰۷۷ھ (خذینۃ الاصفیاء)۔۔۔
مزید
بن وہبان بن خباب بن حجیربن عبدبن مغیص بن عامربن لوی فتح قادسیہ میں شریک تھے حضرت عثمان نے حضرت معاویہ کولکھاتھاکہ ان کوجزیرہ کاعامل بنادو چنانچہ انھوں نے بنادیاتھا۔انھوں نے زمینب بنت عقبہ بن ابی معیط سے نکاح کیاتھا۔فتح مکہ کے نومسلموں میں سے تھےمقام رقہ میں کچھ دنوں حاکم رہےتھے۔ان کاتذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔مگران کو ابوعروبہ اورابوعلی بن سعید نے جزریوں کی تاریخ میں ذکرنہیں کیاحالانکہ وہ دونوں فن حدیث میں جزریوں کے امام ہیں۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔
مزید
حجازی۔عمروبن تمیم بن عویم نے اپنے والد سے انھوں نے ان کے داداسے روایت کی ہے کہ میری بہن ملیکہ اوردوسرے قبیلہ کی ایک عورت جس کانام ام عفیف بنت مسروح تھاہمارے قبیلہ کے ایک شخص کے نکاح میں تھیں اس شخص کانام حمل بن مالک بن نابغہ تھااس کے بعدپوری حدیث ذکرکی جس میں یہ مضمون بھی تھا کہ علاء بن مسروح نے عرض کیاکہ یارسول اللہ کیاہم اس بچہ کی دیت بھی دیں جس نے نہ کچھ پیاہونہ بولاہونہ رویاہوکیاایسے بچہ کی دیت بھی آئے گی تورسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نےکہاکہ تم توایسی مقفیٰ عبارت بولتے ہو جیسی زمانہ جاہلیت میں بولی جاتی تھی۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔
مزید
صحابی ہیں۔حضرت علی کے ساتھ جنگ صفین میں شریک تھے۔ان کا تذکرہ ابوعمر نے مختصرلکھاہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔
مزید
۔انھوں نے (کچھ دنوں)نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے خط وکتابت کاکام کیاہے۔ان کا ذکرعمروبن حزم کی حدیث میں ہے ان کو جعفر نے ذکرکیاہے۔ابوموسیٰ نے ان کاتذکرہ مختصر لکھاہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔
مزید
بعض لوگ ان کا نام علاثہ بیان کرتے ہیں بیٹےتھے صحارسلیطی کے قبیلۂ بنی سلیط سے نام کعب بن حارث بن یربوع تھاتمیمی سلیطی تھے۔یہ علاء خارجہ بن صلت کے چچاتھے۔ابن شاہین نے ان کا تذکرہ لکھاہے اورکہاہے کہ ابن ابی خیثمہ نے بیان کیاہے کہ مجھ سے ان کا نام ابوعبیدقاسم بن سلام سے نقل کرکے بیان کیاگیاہے۔اورمستغفری نے بیان کیاہے کہ ان کاعلاقہ بن شجارتھایہی قول علی بن مدینی کاہے یعنی یہ وہی سلیطی ہیں جن سے حسن نے روایت کی ہےاوربعض لوگ ان کو ابن سجاعہ کہتےہیں اورنیز انھوں نے ابن ابی خیثمہ سے انھوں نے ابوعبیدسے نقل کیاہے کہ خلیفہ نے بیان کیا کہ خارجہ کے چچاکانام عبداللہ بن عثام بن عبدقیس بن خفاف تھاقبیلہ بنی حنظلہ کے خاندان براجم سے تھےاورنیز ظلیفہ سے منقول ہے کہ انھوں نے کہاان کانام علاثہ بن شجارتھاابویعلی نسفی کے قلم کالکھا ہواایساہی ہے اوربردعی نے بھی ان کو ابن شجاربیان کیاہے۔ان کا تذکرہ ابن موسیٰ نے اسی۔۔۔
مزید
ابن سعد ساعدی۔ان سے ان کے بیٹے عبدالرحمٰن نے روایت کی ہے کہ وہ ان لوگوں میں تھے جنھوں نے فتح مکہ کے دن رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی۔عطاء بن یزیدبن مسعود نے جوقبیلہ بنی حبلیٰ میں سےتھے سلیمان بن عمروبن ربیع بن سالم سے انھوں نے عبدالرحمن بن علاء سے جوقبیلہ بنی ساعدہ میں سے تھے انھوں نے اپنے والدعلاء بن سعدسے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز اپنے اصحاب سے فرمایاکہ کیاتم لوگ بھی سنتے ہوجومیں سن رہا ہوں صحابہ نے عرض کیاکہ یارسول اللہ آپ کیاسنتے ہیں فرمایاآسمان سے چرچراہٹ کی آواز آتی ہے اورآنا بھی چاہیے کیوں کہ اس میں پیررکھنے کی جگہ بھی ایسی نہیں ہےجہاں کوئی فرشتہ قیام یا رکوع یا سجود میں نہ ہو پھرآپ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی۔۱؎ وانا لنحن الصافون وانا لنحن المسبحون۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ ۱؎ترجمہ اوربیشک یقیناً ہم صف باندھنے والے ہیں ۔۔۔
مزید