آپ رحمۃ اللہ علیہ حضرت شیخ شرف الدین بوعلی شاہ قلندر رحمۃاللہ علیہ کے والد محترم ہیں آپکا مکمل اسم گرامی السّید محمدابوالحسن شاہ فخرالدین فخر عالم، محمد ثانی محبوبی ہے اور فخرالدین محبوبی کے نام سے معروف ہیں ۔آپ مدینہ منورہ کوچہ ہاشمی سے نجف عراق) پھر (ایران) خسروی، کرمانشاہ، ہمدان، کرمان ،ماحان، خراسان ،میمہ (جہاں آپ کے والد محترم حضرت السیّد ابوالقاسم یحییٰ کا مقبرہ ہے) سے (افغانستان) ہرات، بلخ (مزار شریف) سے سالنگ راستے سے ہو کر کابل، ولایت لوگر اریوب سے ہوتے ہوئے پارہ چنار، کرم ایجنسی (جس کا پرانا نام طلا و خراسان تھا) کے ایک گاؤں کڑمان (قدیمی نام کرمان) میں ہمراہ دو فرزند حضرت السیّدشاہ انور اور حضرت بو علی شاہ قلندر آباد ہوۓ۔اور ہندوستان میں آپکا فیوض جاری ہوا (فیضانِ صوفیاء)۔۔۔
مزید
عمر بن احمد بن ہبۃ اللہ بن محمد بن ہبۃ اللہ بن احمد بن یحییٰ حلبی المعروف بہ ابن عدیم: ھلب میں ۵۸۸ھ میں پیدا ہوئے۔نسب آپ کا ابی جرادہ کی طرف منتہیٰ ہوتا ہے جو حضرت علی کے اصحاب ے تھے کنیت ابو القاسم اور لقب کمال الدین تھا۔ بڑے عالم فاضل،فقیہ محدث،مؤرخ ،ادیب،کاتب،ملیغ،ذکی،یگانۂ زمانہ تھے۔آپ کے وقت میں امام ابو حنیفہ کے اصحاب کی ریاست آپ پر منتہی ہوئی۔تدریس و افتاء آپ کا کام رہا۔فقہ ب در ابیض محمد بن یوسف سے پڑھیاور حدیث کو محدثین بغداد دودمشق اور قدس سے سُنا۔ جب تا تاریوں نے حلب پر چڑھائی کی تو آپ مصر میں چلے گئے اور جب وہ حلب کو لوٹ کھسوٹ اور وہاں کے لوگوں کو قتل کر کےواپس چلے گئے تو آپ پھر حلب میں آئے اور وہاں کی خراب حالت دیکھ کر ایک بڑا طویل قصیدہ اس باب میں تصنیف یا اور فقہ و حدیث و ادب میں تالیفات کیں اور ایک تا۔۔۔
مزید
عبد العزیز بن سید یوسف حسینی رومی الشہیر بہ عابد چلپی: جامع منقول و معقول تھے،علم محمد سامسونی مدرس ملا خسرو پھر اپنے بھائی چلپی محشی شرح وقایہ سے جبکہ وہ آٹھ مدارس میں سے ایک کے مدرس تھے پڑھا،اخیر کو علی بن یوسف فناری کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے فضیلت و کمالیت کا درجہ حاصل کیا اور کلیولی میں مدرس مقرر ہوئے پھر کفہ کے قاضی بنے یہاں تک کہ ۹۳۱ھ میں وفات پائی۔ ’’عاقل خلق‘‘ تاریخ وفات ہے۔ ۔۔۔
مزید