ہفتہ , 15 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Saturday, 02 May,2026

عبدالرحمٰن بن کمال الدین حلبی

عبدالرحمٰن بن کمال الدین عمر بن احمد بن ہبۃ اللہ بن محمد بن ہبۃ اللہ عقیلی حلبی حنفی المعروف بہ ابن عدیم: مجد الدین لقب اور ابو المجد کنیت تھی،عالم فاضل، فقیہ محدث،ادیب،عارف مذہب تھے۔۶۱۴؁ھ میں پیدا ہوئے۔دمشق،حلب،بغدا، قدس،حرمین،روم کے محدثین سے حدیث کو سُنا اور طلب کیا۔آپ ہی ہیں جنہوں نے پہلے پہل جامع حاکم میں خطبہ پڑھا اور ظاہریہ میں جبکہ وہ تعمیر ہوا،درس دیا اور شام کے قاضی القضاۃ ہوئے اور ریاست مذہب امام ابو حنیفہ کی مصر و شام میں آپ کی طر ف منتہیٰ ہوئی۶۷۷؁ھ میں وفا ت پائی۔’’ کعبۂ شرف‘‘ تاریخ وفات ہے۔ حدائق الحنفیہ۔۔۔

مزید

سلیمان اذرعی

سلیمان بن ابی المعزوھب بن عطاء الاذرعی: صدر الدین لقب اور ابو التربیع کنیت تھی،مصر میں آکر مقیم ہوئے۔صفدی نے کہا ہے کہ آپ اپنے زمانہ کے امام عالم علّامہ متجر تھے وقائق و عوامض فقہ میں عارف و ماہر تھے۔مصرو شام میں ریاست مذہب حنفیہ کی آپ کی طرف منتہیٰ ہوئی۔فقہ محمود بن عبد السید حصیری تلمیذ قاضی خان سے حاصل کی اور آپ سے آپ کے بیٹے محمد بن سلیمان اور احمد بن ابراہیم سروجی نے تفقہ کیا۔مدت تک قضاء مصرو شام کے متولی رہے اور تراسی سال کی عمر میں ۶۷۷؁ھ کو فوت ہوئے۔’’جواہر اسرار‘‘آپ کی تاریخ وفات ہے۔ آپ نے قاضی خان کی شرح زیادات کو منتخب کیا۔ حدائق الحنفیہ۔۔۔

مزید

ابن شماع

محمد بن عبد الکریم بن عثمان المعروف بہ ابن شماع: فقیہ متجر،فروع واصول میں ید طولیٰ رکھتے تھے۔علوم شمس الدین عبداللہ بن عطاء سے پڑھے اور ۲۷۶؁[1]میں وفات پائی۔’’زینت دہر‘‘تاریخ وفات ہے۔   1۔ محمد بن سعید محمد ابن جیانی اندلسی’’جواہر المضیۃ‘‘(مرتب)  حدائق الحنفیہ۔۔۔

مزید

شیخ یعقوب صرفی  

              شیخ یعقوب صرفی خلف شیخ حسن گنائی عاصمی: بڑے عالم فاضل،فقیہ، محدث جامع علوم ظاہری و باطنی تھے،۹۰۸؁ھ میں پیدا ہوئے،صغر سنی میں آپ سے آثار زیر کی اور تیز فہمی اور بزرگی کے ظاہر تھے،سات سال کی عمر میں قرآن شریف حفظ کیا پھر مولانا محمد آنی سے جو مولانا عبد الرحمٰن جامی کے شاگرد رشید تھے۔علوم متداولہ  اور فنون رسمیہ حاصل کر کے مخاطب نجطاب جامی ثانی ہوئے اور حضرت اخوند ملا بصیر سے بھی استفادہ علوم کیا بعد ازاں آپ واسطے تصفیہ باطنی کے سمر قند کو تشریف لیجاکر شیخ حسین خوارزمی کی زیات سے مشرف ہوئے ار کچھ عرصہ تک ان کی خدمت میں رہ کر ان کی توجہ کامل سے خرقۂ خلافت حاصل کر کے کاشمیر میں واپس آئے اور تدریس و ہدایت خلق میں مصروف ہوئے،پھر کچھ مدت بعد کاشمیر سے سمر قند کو گئے اور با تفاق اپنے مرشد کے حرمین شریفین کو تشریف لے گئے اور ۔۔۔

مزید

شیخ محمد شاطبّی

            شیخ محمد بن سعید بن ہشام[1]ابن الجنان شاطبی: شاطبہ میں ۶۱۵؁ھ میں پیدا ہوئے،ابو الولید اور فخر الولید کنیتیں تھیں۔عالم ماہر،ادیب فاضل،شاعر محسن، حسن الاخلاق،خوش مزاج تھے،پہلے مالکی مذہب تھے۔جب شام میں آکر صاحب کمال الدین بن عدیم اور ان کے بیٹے قاضی القضاۃ مجدالدین کی صحبت اختیار کی تو مالکی سے حنفی المذہب ہوئے۔اقبالیہ میں مدت تک درس دیتے رہے اور دمشق میں ۶۷۵؁ھ میں فوت ہوئے اور سفح قاسیون میں دفن کیے گئے۔’’سرورِ دبر‘‘ تاریخ وفات ہے۔   1۔ محمد بن سعید بن محمد ابن جیانی اندلسی ’’جواہر المضیہ‘‘(مرتب) حدائق الحنفیہ۔۔۔

مزید

عبدالعزیز دبیری

عبدالعزیز بن احمد دبیر: سعید الدین لقب تھا۔فقیہ مفسر،جامع معقول و منقول،حاوی فروع واصول علامۂ زمانہ تھے۔تمام تدریس و تصنیف اور تنثیر علم میں مصروف رہ کر ۶۷۳؁ھ میں وفات پائی۔تفسیر دبیری آپ کی عمدہ تصنیفات میں سے یادگار ہے۔’’خواجۂ ادان‘‘ آپ کی تاریخ وفا ت ہے۔ حدائق الحنفیہ۔۔۔

مزید

عبداللہ اذرعی

عبداللہ [1]بن محمد اذرعی: شمس الدین لقب تھا۔اپنے زمانہ کے امام فاضل عزیز العلم کبیرالمحل تھے۔اکثر علوم و فنون میں آپ کو مشارکت تامہ حاصل تھی،دیانت و صیانت و عفت اور تواضع میں مشار الیہ تھے۔مدت تک دمشو کے قاضی القضاۃ رہے اور تحدیث و تدریس اور افتاء آپ کا کام رہا۔آپ کے بیٹے بدرالدین یوسف نے آپ سے علم اخذ کیا اور ۲۷۳؁ھ میں فوت ہوئے۔اذرعی طرف اذرعات کے منسوب ہے جو شام میں ایک نواح کا نام ہے ۔’’اشرف الانام‘‘ تاریخ وفات ہے۔   1۔ ولادت ۵۹۵ھ’’جواہر المضیۃ‘‘ ’’معجم المؤضین‘‘ (مرتب)  حدائق الحنفیہ۔۔۔

مزید

عمر کاخشتوانی

عمر بن احمد بن[1]عمر کاخشتوانی: عالم جلیل القدر فاضل متجر تھے۔فرائض، حساب،جبر مقبلہ،ہیئت وغیرہ مختلف علوم میں ماہر کامل تھے۔فرائض سراجیہ حمید الدین محمد بن علی نوقدی شاگرد ابی طاہر سراج الدین محمد بن محمد بن محمد سجاوندی مؤلف فرائض سراجیہ سے پڑھی اور آپ سے ابو العلاء شمس الدین محمود کلا باذی فرضی نے اخذ کیا جس نے ضوء السراج شرح سراجیہ میں آپ سے بہت سے فوائد و تحقیقات نقل کیے جو آ پ کی دقّت نظر اور غوص فکر پر دال ہیں،شہر جرجانیہ واقع ولایت خوار زم میں ماہِ صفر ۲۷۳؁ھ میں فوت ہوئے۔کاخشتوانی منسوب کخشتوان کی طرف ہے جو ایک شہر بخارا کے شہروں میں سے ہے۔   1۔ نجم الدین لقب  حدائق الحنفیہ۔۔۔

مزید

ہبتہ اللہ طرازی

ہبۃ اللہ بن احمد بن معلی بن محمود طرازی: لقب شجاع الدین تھا۔فقیہ متجر، اصولی مناظر،فارس، میدان بحث تھے،دور دور سے طلباء آکر آپ سے فیضیاب ہوتے تھے،دمشق میں آئے اور فقہ جلا الدین عمر خبازی سے حاصل کی،شرح جامع کبیر،شرح عقیدہ طحاوی،تبصرۃ الاسرار شرح منار تصنیف کیں اور ۶۷۱؁ھ[1]میں وفات پائی۔طرازی بضتحۂ طاء طراز کی طرف منسوب منسوب ہے جو ترکستان میں ایک شہر کا نام ہے۔’’آرائش زمانیاں‘‘ تاریخ وفات ہے۔   1۔ ولادت ۶۷۱؁ھ وفات ۷۳۳؁ھ  حدائق الحنفیہ۔۔۔

مزید

مولانا عبداللہ سندی  

              مولانا عبداللہ سندھی: شیخ علی متقی کے اصحاب  میں سے تھے او گو شیخ ابن حجر مکی سے شاگردی کی نسبت رکھتے تھے لیکن شیخ ابن حجرمکی سے شاگردی کی نسبت  رکھتے تھے لیکن شیخ ابن حجر نے آپ سے علم عربی میں استفادہ کیا اور اکثر وقت کہتے  کہ ہمارے لیے اس کلام کو عربی کرو و شیخ نے آپ کی اجازت کے ورقہ میں یہ لکھا کہ فائدہ دیا انہوں نے مجھ کو زیادہ اس سے جو فائدہ پکڑا،آپ بڑے دانشمند تھے اور کسی سے کچھ طمع اور کام نہ رکھتے تھے،محض خدا کے لیے درس دیتے اور فائدہ پہنچاتے اور تصحیح کتب کی کرتے تھے آپ نے ایک نسخہ مشکوٰۃ کا اپنے ہاتھ سے نہایت عمدہ صحیح کیا تھا اور اس کو محشی کر کے ورق ورق کردیا تھا۔بہت لوگ ایک مجلس میں اس سے استفادہ اور انتساخ کرتے تھے۔حواشی میں آپ نے مذہب حنفیت کا اثبات کر کے اس کے دلائل درج کیے تھے۔آپ کا قول تھا۔۔۔

مزید