اسمٰعیل بن خلیل فرضی نحوی: تاج الدین لقب تھا۔بڑے فقیہ،فرضی، اصولی صالح پرہیز گار،نیکو کار،عابد،زاہد تھے۔فقہ فخر الدین عثمان بن مصطفیٰ مار دینی اور نجم الدین ملطی و شمس الدین محمود بن احمد سے حاسل کی اور ایک کتاب مقدمہ فقہ و فرائض میں تصنیف کی اور قاہرہ میں ۷۳۷ھ یا ۷۳۹ھ میں وفا ت پائی۔’’مہتر انام‘‘تاریخ وفات ہے۔ حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید
یوسف بن اسحٰق بن ابراہیم بن جعبری: ابو المحاسن کنیت اور صدر القراء لقب تھا اپنے زمانہ کے امام،زاہد،مجتہد،محدچ،فقیہ،حافظ،مفسر،ثقہ،متقن،قراءت اور روایات میں فرد زمانہ تھے،علوم ابی العباس احمد سروجی سے اخذ کیے اور مدت تک تحدیث و تدریس اور افتاء کا کام دیا لیکن اعتزال کی تہمت آپ کو دی گئی۔ حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید
عمر بن عمر بن احمد بن ہبۃ اللہ حلبی المعروف بہ ابن عدیم: عالم فاضل، ادیب شاعر،ذی فنون،صاحبِ مروۃ و عصبیت تھے۔نجم الدین لقب اور ابو القاسم کنیت تھی مدت تک حلب کے قاضی رہے اور قاضی القضاۃ کے خطاب سے مشہور ہوئے۔آپ نے اپنے زمانہ ولایت میں کسی کو گالی نہیں دی اور نہ کسی سائل کو نا امید کیا۔۷۳۴ھ میں حماۃ علاقہ حلب میں فوت ہوئے۔ابو الفداء نے آپ کے حق میں مندرجہ ذیل دو شعر انشاد کیے ہیں ؎ قدکان نجم الدین شمساً اشرقت بحماۃ للدانی بہاد القاصی عدمت ضیاء ابن العدیم فانشدت مات المطیع فیا ہلاک العاصی حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید
محمد بن عمان اصفہانی المعروف بہ ابنِ عجمی: شمس الدین لقب تھا،اپنے زمانہ کے امامِ فاضل،فقیہ محدث تھے۔مدت تک اقبالیہ میں مدرس رہے اور مدینہ نبویہ یں تحدیث کی اور نیز مدرسۂ شریفہ نبویہ یں درس دیا اور حدیث کو دمشق میں روایت کیا مذاہب میں ایک کتاب کتاب منسک نام جمع کی اور بقول ابو الفداء ۷۳۴ھ میں وفات پائی۔’’بزرگ شہر‘‘ تاریخ وفات ہے۔ حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید
علی بن احمد بن عبد الواحد بن عبد المنعم بن عبد الصمد طرسوسی: ماہِ رجب ۶۶۹ھ میں پیدا ہوئے۔آپ نجم الدین ابراہیم طرسوسی صاحبِ فتاویٰ طرسوسیہ کے باپ تھے۔عماد الدین لقب تھا،اور قاضی القضاۃ کے نام سے پکارے جاتے تھے۔علم ابی العلاء محمود فرضی اور بہاء الدین ابی جابر ایوب بن النحاس حلبی سے حاصل کیا۔ ۷۲۷ھ میں دمشق کی قضاء آپ کے سپرد ہوئی،پھر کچھ مدت کے بعد اس کو آپ نے اپنے بیٹے کے لیے چھوڑ دیا اور کئی ایک مدارس میں درس دیا۔آپ قرآن شریف بڑی جلدی پڑھا کرتے تھے یہاں تک کہ نماز تروایح میں تین ساعت یعنی سارے ساتھ گھڑی میں تمام قرآن ختم کرلیا کرتے تھے اور کئی دفعہ ارکان و اعیان کے حضور میں آپ نے دوثلث ایک ساعت میں تمام قرآن پڑھ دیا جیسا کہ شیخ عبدالقادر صاحبِ جواہر مضیہ اور علی قاری نے لکھا ہے،اگر چہ اس قدر تیزی سے قرآن شریف ختم کرناسامعین کے استعجاب کا باعث ہے مگر یہ بات ان کی کرامات میں سے تھی ا۔۔۔
مزید
عثمان بن ابراہیم بن مصطفیٰ بن سلیمان[1]ماردینی: فخر الدین لقب تھا، نحوی،لغوی،مفسر،محدث،ادیب،طبیغ،شیخ وقت،مرجع خاص و عام تھے۔ولایت مصر میں مذہب حنفیہ کی ریاست آپ پر منتہیٰ ہوئی اور تحدیث و تدریس اور افتاء آپ کا کام رہا۔جامع کبیر امام محمد کی شرح تصنیف کی اور اس کو گمنام منصور یہ میں ڈال دیا۔آپ ک ے دونوں بیٹوں یعنی قاضی القضاۃ علی و تاج الدین ابو العباس احمد اور مصنف جواہر المضیہ محی الدین عبدالقادر قرشی وغیر ہم نے آپ سے علم اخذ کیا۔ اکاسی سال کے ہوکر قاہرہ میں ماہِ رجب۷۳۱ھ میں فوت ہوئے۔’’شریف عالم’’ تاریخ وفات ہے۔ 1۔ ترکانی’’دستور الاعلام‘‘ حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید
ابراہیم بن سلیمان رومی قونوی معروف بہ منطقی: رضی الدین لقب تھا۔ علامہ فاضل،متدین متواضع اور اپنے تلامذہ کے ساتھ برے محسن تھے۔مدت تک دمشق میں مدرسہ نوریہ کےمدرس رہے اور ایک گردہ کثیر نے استفادہ کیا۔ساتھ دفعہ حج کیا اور ۷۳۱ھ[1]میں وفات پائی۔’’مرأۃِ ملک‘‘ آپ کی تاریخ وفات ہے۔ آپ کی تصنیفات سے جامع کبیر کی شرح چھ جلدوں میں اور کتاب منظومہ کی شرح یادگار ہے۔قونوی طرف قونیہ کے منسوب ہے جو ایک مشہور و معروف شہر ملک روم میں ہے۔ 1۔ ۷۳۲ھ میں بعمر ۸۰ سال ’’جواہر المضیۃ‘‘ (معجم المؤلفین) حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید
یحییٰ بن سلیمان[1]بن علی رومی: فقیہ فاضل،عالم کامل تھے۔فقہ کو ابی العباس سروجی اور رکن الدین سمر قندی سے اخذ کیا اور بعد تحصیل کے تدریس و افتاء میں اپنی عمر بسر کر کے ۷۲۸ھ میں وفات پائی۔ 1۔ آذر بائجانی ولادت حدود ۶۶۵ھ۔’’جواہر المضیۃ‘‘(مرتب) حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید
محمد بن عثمان بن ابی الھسن بن عبدالوہاب المعروف بہ ابنِ حریری: شمس الدین لقب تھا دمشق میں ۶۵۳ھ میں پیدا ہوئے۔بڑے عالم فاضل،فقیہ کامل، عارف مذہب تھے۔آپ کے وقت میں مذہب کی ریاست آپ پر منتہیٰ ہوئی۔علم ابنِ معلم اسمٰعیل قرشی تلمیذ جمال ادین محمود حصیری سے اخذ کیا اور دمشق کی قضاء کے متولی ہوئے اور ۷۲۸ھ میں وفات پائی۔ حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید
محمد بن محمد بن محمد نزیل [1]مرغینان: فقہ و جدل میں فائق زمانہ اور جامع اصناف علوم و فنون تھے،جامع کبیر کی شرح تسنیف کی اور جامع صغیر کو ترتیب دیا اور ۷۲۶ھ میں وفات پائی۔ 1۔ محمد بن محمد قبادی نزیل مر غینان ۷۲۸ھ میں زندہ تھے۔’’جواہر المضیۃ‘‘ حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید