محمد بن محمد بن نصر بخاری: ابو الفضل کنیت،حافظ الدین کبیر لقب تھا۔ بخارا میں ۶۱۵ھ میں پیدا ہوئے۔اپنے زمانہ کے امام فاضل،عالم ربانی،زاہد عابد، فقیہ محدث،ثقہ متقن،حافظ،مفصر،محقق،مدقق جامع انواع علوم و فنون تھے۔علوم فقہ وغیرہ حسام الدین حسین سغناقی اور شمس الائمہ محمد بن عبد الستار کردری اوراحمد بن اسعد خریفعنی اور عبد العزیز بن احمد بخاری اور محمد بن بخاری اور شمس الدین محمود کلا باذی فرضی سے پڑھے اور حدیث کو شمس الائمہ محمد بن عبد الستار کردری اور ابی الفضل عبید اللہ محبوبی سے سنا اور روایت کیا۔آپ سے حدیث کو ابی العلاء بخاری نے سنا اور اپنی معجم شیوخ میں آپ کا ذکر کیا۔وفات آپ کی بخارا میں نصف شعبان ۶۹۳ھ میں واقع ہوئی اور کلا باذ میں اپنے باپ کے پاس متصل امام ابی بکر طرخان کے دفن کیے گئے۔’’آرائش عالم‘‘ آپ کی تاریخ وفات ہے۔ حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید
نعمان بن حسن بن یوسف خطیبی: معز الدین لقب تھا۔بڑے عالم فاضل،فقیہ متجر تھے۔مدت تک قاہرہ کے قاضی القضاۃ رہے جن سے تمام لوگ خوش رہے اور ۶۹۲ھ میں وفات پائی۔’’مشہور آفاق‘‘ آپ کی تاریخ وفات ہے۔ حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید
عمر بن محمد بن عمر خبازی[1]: بڑے عالم،فاضل،زاہد،عابد،جامع فروع واصول تھے،لقب آپ کا جلا الدین تھا۔علاؤ الدین عبد العزیز بخاری تلمیذ فخر الدین محمد ما یمر غی شاگرد شمس الائمہ محمد بن عبددالستار کردری تلمیذ صاحب ہدایہ سے پڑھے اور کمالیت کے رتبہ کو پہنچے،پھر دمشق میں تشریف لائے اور وہاں کے مدرس مقرر ہوئے،پھر مفتی بنے اور حج کیا اور ہدایہ کی شرح اور ایک کتاب اصول فقہ میں مغنی نام سے تصنیف کی۔ابو العباس احمد بن مسعود بن عبدالرحمٰن قونوی اور بدر الطویل اور داؤد رومی منطقی اور ہبۃ اللہ بن احمد ترکستانی نے آپ سے علوم پڑھے۔ وفات آپ کی بقول کفوی ۶۹۱ھ اور بقول صاحبِ کشف ۹۷۱ھ میں واقع ہوئی۔ 1۔ حبان علی ’’جواہر المفیہ ‘‘ (مرتب) حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید
مولانا شیخ احمد شوریانی: خطۂ پنجاب کے علمائے عظماء اور اتقیائے کبراء میں سے جامع علوم ظاہری و باطنی تھے اور قصبۂ قصور میں سکونت رکھتے تھے۔آپ ہی نے قوم خویشگیاں وافغاناں شوریان میں علم ظاہری و باطنی کو جمع کیا۔آپ برے متعبد وزاہد تھے۔ظاہری علم کا یہ مبلغ تھا کہ علمائے لاہور و ملتان وغیرہ سے جو مسئلہ حل نہیں ہو سکتا تھا وہ آپ فوراً حل کر دیتے تھے۔شیخ عبد اللطیف برہانپوری کہتے ہیں کہ میں نے اپنی تمام عمر میں علمائے ظاہرو باطن میں سے دو شخص قصور سے ان کے پاس برہانپور میں جاتا اس کو یہ کہہ کر(کہ تیرے پاس شیخ احمد شوریانی دریائے شریعت و طریقت جاری ہیں تو یہاں کیوں تشنہ کام آیا ہے)واپس کردیتے۔آپ شیخ احمد مجدد الف ثانی وشیخ عبد الھق محدچ دہلوی اور شیخ عیسٰی سندھی برہانپوری کے معاصرین میں سے تھے اور یہ تینوں اپ کی بری عزت کرت۔۔۔
مزید
احمد بن ناصر بن طاہر حسینی: برہان الدین لقب،ابی المعالی کنیت تھی۔ فقیہ،مفسر،جامع علوم عقیلہ و نقلیہ تھے۔سات جلدوں میں قرآن شریف کیا ایک تفسیر نہایت برجستہ و مفید تصنیف کی اور ۶۸۹ھ میں وفا ت پائی۔’’بزرگ موجودات‘‘ آپ کی تاریخ وفات ہے۔ حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید
شیخ برہان الدین محمود بن ابی الخیر السعد بلخی: سلطان غیاث الدین بلین کے وقت میں اکابر علماء فضلاء میں سے فقیہ محدث جامع علوم عقلیہ ونقلیہ واقف فنون رسمیہ و عرفیہ صاحب شریعت و طریقت تھے اور شعر عارفانہ کہتے تھے،آپ نے مشارق الانوار کو اس کے مصنف سے سند کیا۔آپ کا قول تھا کہ میں چھہ سات سال کی عمر میں اپنے باپ کے ہمراہ استہ میں چلا جاتا تھا کہ سامنے سے حضرت مولانا برہان الدین مر غینانی صاحب ہدایہ کی سواری آئی اور میں ہجوم میں اپنے باپ سے جدا ہو گیا۔جب مولانا ممدوح کو سورای نزدیک آئی تو میں نے آگے ہو کر سلام کیا۔آپ نے میری طرف دیکھ کر فرمایا کہ خدا تعالیٰ مجھ کو ایسا کہلاتا ہے کہ یہ لڑکا اپنے زمانہ میں علامہ ہوگا۔میں نے سخن اپنے کانوں سے سُنا اور آپ کے ہمر کاب چل پڑا۔پھر ممدوح نے فرمایا کہ خدا مجھ کو یہ کہلواتا ہے کہ یہ لڑکا ایسا ہوگا کہ بادشاہ اس کے دروازہ پر حاضر ہوں گے۔آپ نے بار بار فر۔۔۔
مزید
محمد بن محمد بن محمد ابو الفضل برہان نسفی: اپنے زمانہ کے امام فاضل، مفسر، محدث فقیہ اصولی،متکلم تھے۔۶۰۰ھ کے قریب پیدا ہوئے۔علم خلاف میں ایک مقدمہ تصنیف کیا اور علم کلام میں عقائد نسفی نام ایک کتاب لکھی جس کی سعد الدین تفتازانی وغیرہ نے شرحیں لکھیں اور امام فخر الدین رازی کی تفسیر کبیر کو ملحض کیا اور ماہ ذی الحجہ ۶۸۶ھ[1] میں وفات پائی اور امام ابو حنیفہ کے مشہد کے پاس مدفون ہوئے۔’’امام ثقہ‘‘ تاریخ وفات ہے۔وہ جو صاحب کشف الظنون نے عقائد نسفی کو ابی حفص عمر نسفی کی طرف منسوب کیا ہے۔یہ ان کے قلب کا زلہ ہے۔ 1۔ ۲۸۴ھ ’’دستور الاعلام‘‘ (مرتب) حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید
اخوند ملّا محمد کمال الدین[1] اخوند ملّا محمد کمال الدین برادر مولانا محمد جمال الدین: بڑے عالم فاضل شیخ کامل جلال دقائق کشاف حقائق جامع علوم نقلیہ و عقلیہ تھے جس طرح آپ کے بھائی کی جہت تقویٰ کی طرف راجح تھی،اسی طرح آپ کو نسبت علمی غالب تھی اور باوجود اس کے آپ مجموعۂ علم و عمل و زہد و تقویٰ تھے مدت تک سیالکوٹ و لاہور میں مسند تدریس و تلقین پر متمکن رہ کر دور نزدیک کے لوگوں کو علوم ظاہری و باطنی سے مستفیض فرماتے رہے چنانچہ شیخ احمد مجد الف ثانی اور مولانا عبد الحکیم سیالکوٹی نے علوم ظاہری آپ سے ہی حاصل کر کے کمالیت حاصل کی۔وفات آپ کی ۱۰۱۷ھ میں شہر لاہور میں واقع ہوئی لیکن قبر آپ کی فی زماننا مفقود الخبر ہے۔ ’’حدیقۂ فیض‘‘ تاریخ وفات ہے۔ 1۔ قاضی کمال بن موسیٰ کاشمیری ’’نزہۃ ا۔۔۔
مزید
احمد بن صدر الدین سلیمان بن وھب دمشقی: تقی الدین لقب تھا۔اپنے زمانہ کے امام فاضل،حافظ فنون اور صدر الصدور تھے۔علوم اپنے باپ شاگرد حصیریر تلمیذ قاضی خاں سے حاصل کیے اور ۶۸۵ھ میں وفات پائی۔’’گوہر تاباں‘‘ آپ کی تاریخ وفات ہے۔ حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید
عبدالعزیز بن عبد السید عبد العزیز بن محمود خوارزمی: ۶۲۷ھ میں پیدا ہوئے۔ابو خلیفہ کنیت تھی۔بڑے عالم فاضل جامع معقول و منقول تھے اور ابو الرجاء مختار بن محمود زاہدی آپ کے ہم عصروں میں سے تھے اور آپ کی بڑی تعریف کیا کرتے تھے،ابو العلاء نے اپنی معجم میں آپ کا ذکر کیا۔وفات آپ کی بقول علی قاری۶۸۴ھ کو قدس میں ہوئی۔’’ایز پرست‘‘ آپ کی تاریخ وفات ہے۔ حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید