محمد [1]بن عبد الرشید بن نصر بن محمد بن ابراہیم بن اسحٰق کرمانی:ابو بکر کنیت،رکن الدین لقب تھا۔ائمۂ اجلہ میں سے عواص معانی دقیقہ،فقیہ محدث، علم مذہب و خلاف مین یدطولیٰ اور حسن کلام داسلاف کے نقل فتاویٰ میں دستگاہ کامل رکھتے تھے۔علم رکن الاسلام ابی الفضل عبدالرحمٰن کرمانی تلمیذفخر القضاۃ ارسابندی شاگرد علی مروزی تلمیذ دبوسی سے پڑھا اور نیز جمال الدین مطہر بن حسین یزدی سے اخذ کیا۔عز ر المعانی فی فتاویٰ ابی الفضل کرمانی اور زہرۃ الانوار حدیث میں اور جواہر الفتاویٰ اور حیرۃ الفقہاء وغیرہ کتب تصنیف کیں۔ 1۔ حبان علی ’’جواہر المفیہ ‘‘ (مرتب) حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید
برہان الاسلام زرنوجی: بڑے عالم فاضل،فقیہ محدث،جامع معقولات و منقولات تھے۔فقہ وغیرہ برہان الدین مر غینانی صاحب ہدایہ اور حماد بن ابراہیم صفار اور امام زادہ چوغی سے حاس کی اور کتاب تعلیم المتعلم نہایت نفیس و مفید قلیل الحجم کثیر المنافع تصنیف کی حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید
رکن الدین والجبانی خوارزمی: امام جلیل القدر کثیر العلم،معرفت اصول دینیہ میں او حد زمانہ اور مذہب و خلاف میں مجتہد یگانہ تھے۔نجم الدین حکیمی شاگرد فخر الدین حسن قاضی خان سے تفقہ کیا ور آپ سے نجم الدین مختار زاہدی صاحب قنیہ نے فقہ کو حاصل کیا۔ حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید
شیخ الاسلام سدید بن محمد حنافی: علاؤ الدین لقب تھا،اپنے زمانہ کے امام کبیر اور فقہ و کلام یں رئیس بے نظیر تھے۔علم نجم المشائخ علی بن محمد عمر انی تلمیذ زمخشری سے حاصل کیا اور آپ سے ابو یعقوب یوسف سکاکی اور حسین بن محمد بارعی نے تفقہ کیا۔ حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید
محمود بن ابی بکر ابو العلاء[1]بن علی کلا باذی بخاری: شمس الدین فرضی لقب تھا۔۶۴۴ھ میں شہر بخارا کے محلہ کلا باذ میں پیدا ہوئے۔اپنے زمانہ کے امام محدث، متقن،فقیہ،صالح،فرضی،عارف رجال حدیث،جم الفضائل،ملیح الکتابت،واسع الرحلۃ،جبر فاخر،بحر ذاخر علوم عقیلہ و نقلیہ تھے۔آپ کے مشائخ سات سو سے کچھ اوپر تھے جن میں سے حافظ الدین کبیر محمد اور حمید الدین علی ضریر اور صدر الدین محمد خلاطی اور صدر الدین سلیمان بن وہب وغیرہ ہیں،حدیث کو ایک جماعت محدثین خراسان و بخارا و بغداد و دمشق و مصر وغیرہ سے سُنا اور اپنے ہاتھ سے بکثرت لکھا اور معجم کا مسودہ کیا۔فرائض کو نجم الدین عمر احمد کاخشتوانی سے پڑھا اور یہاں تک اس علم میں مہارت پیدا کی کہ لقب سے مشہور ہوکر فرائض میں امام وراس ہوئے اور مختصر سراجی کی شرح ضوء السراج نام نہایت نفیس مشتمل برذکرادلّۂ مذاہب مختلفہ تصنیف کی جو آپ کے تجر علمی پر ایک دلیل ساطع ا۔۔۔
مزید
محمد سلیمان بن وہب [1]بن ابی العزدمشقی: شمس الدین لقب تھا۔علم خلاف کے عالم فاضل اور فروع و اصول کے جامع تھے۔علم اپنے باپ شاگرد حصیری تلمیذ قاضی خان سے پڑھا اور دمشق میں تیس سال سے زیادہ مفتی رہے۔بعد ازاں وہاں کے قاضی مقرر ہوئے یہاں تک کہ ۶۹۹ھ میں وفا ت پائی۔ 1۔ محمد بن سلیمان ابن ابی المعزوہیب’’جواہر المضیۃ‘‘ حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید
حسن بن احمد بن حسن بن انوشر وان رازی: ۶۳۱ھ میں پیدا ہوئے۔ اپنے وقت کے امام کامل،علامۂ اضل،مفروع واصول میں سر آمد اور حدیث و تفسیر میں ید طولیٰ رکھتے تھے۔حسام الدین کے لقب سے ملقب اور قاضی القضاۃ کے خطاب سے پکارے جاتے تھے۔۶۷۵ھ کو دمشق میں تشریف لائے اور یہاں بیس برس تک قاضی رہے،پھر مصر میں گئے اور وہاں چار سال تک دار القضاء کے متولی رہےاور ۶۹۹ھ میں تا تار کی لڑائی میں فوت ہوئے۔’’تجلیٔ نور‘‘ تاریخ وفا ت ہے۔ حدائق الحنفیہ ۔۔۔
مزید
احمد بن جمال الدین ابی المحامد محمود بن احمد بن عبد السعید بن عثمان[1] بن نصر عبد الملک بخاری المعروف با لحصیری: بخارا میں ماہ رجب ۵۴۶ھ میں پیدا ہوئے۔ نظام الدین لقب تھا،اپنے زمانہ کے امام فاضل،فقیہ اجل تھے یہاں تک کہ حنفیوں میں سے آپ کے وقت میں کوئی آپ سے ہمسری نہ کر سکتا تھا۔فقہ اجل تھے یہاں تک کہ حنفیوں میں سے آپ کے وقت میں کوئی آپ سے ہمسری نہ کر سکتا تھا۔فقہ اپنے باپ جمال الدین محمود حصیری سے پڑھی۔مدت تک مدرسہ نوریہ میں تدریس پر رہے اور ۶۹۸ھ کو دمشق میں وفا ت پائی۔’’علامۂ محدث‘‘ تاریخ وفات ہے۔ 1۔ احمد بن جمال الدین ابی المھامد محمود بن احمد بن عبد السید بن عثمان ہمام الدین لقب ’’جواہر المضیۃ‘‘(مرتب) حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید
احمد بن علی بن ثعلب بعلبکی: مظفر الدین لقب تھا مگر ابن ساعاقی کےنام سے اس لیےمشہور تھےکہ آپ کے والد ماجد علی بن ثعلب علم ہئیت اور نجوم اور عمل ساعات میں بڑے ماہر باہر اور یگانۂ زمانہ تھے۔آپ شہر بعلبک میںجود دمشق سے بارہ فرسنگ کے فاصلہ پر ہے،پیدا ہوئے ور بغدد میں نشونما پایا اور کمال اکے رتبہ کو پہنچ کر علوم شرعیہ میں امام زمانہ اور فروع و اصول میں حافظ،متقن،اہل ثقاہت ہوئے چنانچہ مشائخ زمانہ نے اس بات پر اقرار کیا کہ آپ جو انمروی کے میدان کے شہسور گذرے ہیں۔شمس الدین اصفہانی شافعی شارح کتاب محصول آپ کو ابن حاجب پر فضیلت دیا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ آپ ابن حاجب سے بہت ذکی ہیں،یہاں تک کہ لوگ ذکاء اور فصاحت و خوشخطی میں آپ سے تمثیل دیا کرتے تھے۔ علوم آپ نے تاج الدین علی بن سنجر تلمیذظہیر الدین محمد مصنف فتاویٰ ظہیریہ شاگرد حسن ق۔۔۔
مزید
عبدالوہاب بن احمد بن سحنون الخطیب: مجد الدین لقب تھا۔فضلاء حنفیہ میں سے عالم ماہر،فاضل بارع،ادیب کامل،شاعر بے مثل،خطیب نیرب تھے۔ مدت تک مدرسہ دماغیہ کے مدرس رہے اور پچھتر سال کی عمر میں ۶۹۴ھ میں وفات پائی۔’’بلند درجات‘‘ تاریخ وفات ہے۔ حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید