احمد بن عبید اللہ بن ابراہیم احمد محبوبی: صدر الشریعہ اکبر اور شمس الدین کے لقب سےمشہور تھے،علماء کبار میں سے عالم فاضل،اصول و فروع میں دستگاہ کامل رکھتے تھے۔علم اپنے باپ جمال الدین عبید اللہ بن ابراہیم تلمیذ محمد بن ابی بکر صاحب شرعۃ الاسلام شاگرد عماد الدین عمر بن بکر بن محمد زرنجری سے حاصل کیا اور آپ سے آپ کے بیٹے محمود بن احمد محبوبی نے اخذ کیا۔کتاب تلقیح العقول نے الفروق تصنیف فرمائی۔[1] 1۔ وفات ۲۳۰ھ (معجم المؤلفین) حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید
عماد الدین[1]بن برہان الدین علی صاحب ہدایہ: آپ صاحب فصول عماد یہ یعنی ابو الفتح عبد الرحیم کے باپ تھے۔فقہ اپنے باپ علی بن ابی بکر اور قاضی ظہیر الدین عمر کی طرح عالم فاضل مرجع فتاویٰ اور شیخ الاسلام ہوئے اور کتاب ادب القاضی تصنیف کی۔ 1۔ حبان علی ’’جواہر المفیہ ‘‘ (مرتب) حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید
محمود ترجمانی مکی خوارزمی: برہان الدین لقب اور شرف الائمہ خطاب تھا۔ اپنے وقت کے امام کبیر اور فقیہ بے نظیر تھے۔آپ کا بیٹا علاء الملۃ بھی بڑا عالم فاضل آپ کی حیات میں رتبۂ کمال کو پہنچ گیا تھا یہاں تک کہ مذہب کی ریاست آپ کے زمانہ میں باپ بیٹوں پر منتہیٰ ہوئی۔آپ احمد بن اسمٰعیل تمرتاشی اور محمود تاجری متوفی۲۳۶ھ کے ہمعصروں میں سے ہوئے۔ حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید
محمود[1]بن عابد بن حسین صرخدی الاصل دمشقی المسکن:تاج الدین لقب تھا،فاضل یگانہ،شاعر یکتا تھے۔شہر صرخد میں جو شام میں واقع ہے،۵۸۲ھ کو پیدا ہوئے اوف فقہ محمود حصیری سے حاصل کی۔ 1۔ محمود بن عابد بن حسین بن محمد بن علی جمال الدین ابو الثناء تمیمی،مصنف ’’تشنیف الاسماع‘‘ وفات دمشق ۲۷۴ھ ’’معجم المؤلفین‘‘ حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید
محمد بن عبدالعزیز بن محمد حسام الدین صدر شہید عمر بن عبدالعزیز بن عمر بن مازہ بخاری المعروف بہ صدر جہاں: امام فاضل،فقیہ متجر،جامع علوم،فارس میدان بحث،عدیم النظیر تھے۔علم خلاف میں تعلیق لکھی اور ۶۰۳ھ میں مع ایک جماعت فقہائے بخارا کے حج کے ارادہ سے بغداد میں تشریف لائے جہاں کے وزراء وامراء واعیان نے بڑی تعظیم و تکریم سے آپ کا استقبال کیا مگر جب حج کر کے بغداد سے اپنے وطن کو واپس ہوئے تو لوگ آپ کے پیچھے آپ کو بُرا بھلا کہتے ہوئے شہر سے نکلے کیونکہ آپ سے راستہ میں حاجیوں کے ساتھ بڑی بد سلوکی ظہور میں آئی تھی یہاں تک کہ آپ کے غلام حاجیوں کو راستہ میں پانی سے منع کرتے تھے جس سے ان کو پانی کی طرف سے نہایت تنگی ہوئی،اس لیے حاجیوں نے بجائے صدر جہاں کے آپ کا صدر جہنم لقب رکھا۔ حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید
عمر بن برہان الدین[1]علی صاحب ہدایۂ: نظام الدین لقب تھا،اپنے بھائی جلال الدین محمد کی طرح آپ نے بھی اپنے باپ سے علوم حاصل کیے اور یہاں تک سعی کی کہ فضیلت و کمالیت کو پہنچ کر مرجع فتاویٰ و قضایا ہو کر شخ الاسلام سے ملقب ہوئے اور ایک جم غفیر نے آپ سے استفادہ کیا اور کتاب جواہر الفقہ اور فوائد وغیرہ تصنیف کیں۔ 1۔ ابو حفص کنیت ۶۰۰ھ کے بعد انتقال ہوا۔’’ہدایۃ العارفین‘‘(مرتب) حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید
محمد بن برہان الدین علی صاحب ہدایہ بن ابی بکر بن عبد الجلیل فرغانی: ابو الفتح کنیت اور جلا الدین لقب تھا۔اپنے باپ کی گود میں نشو و نما پاکر علم و ادب کی غذا حاصل کی اور انہیں سے فقہ پڑھی،یہاں تک کہ آپ کے اہل عصر نے آپ کے فضل و تقدم کا اقرار کیا اور مذہب کی ریاست آپ کے وقت میں آپ پر منتہیٰ ہوئی۔ حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید
محمد بن محمد بن الیاس[1]مایمر غی: فخر الدین لقب تھا۔اپنے وقت کے شیخ فاضل،فقیہ کامل تھے،فقہ شمس الائمہ سے پڑھی اور آپ سے عبد العزیز بخاری وغیرہم نے تفقہ کیا۔مایمر غ ایک بڑا قصبہ ہے جو بخارا کے راستہ پر واقع ہے۔ 1۔ فخر الدین محمد بن الیاس ما یمر عی متوفی ۷۵۱ھ صاحب تصانیف بزرگ تھے ’’معجم المؤلفین‘‘ حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید
اشرف بن نجیب:[1]: بڑے عالم فاضل فقیہ کامل تھے۔ابو الفضل کنیت اشرف الدین لقب تھا۔فقہ وغیرہ شمس الائمہ محمد عبد الستار کردری وغیرہ سے اخذ کی اور کاشغر میں فوت ہوئے۔ 1۔ اشرف بن نجیب بن محمد بن محمد کاشانی ’’جواہر المضیہ‘‘ حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید
محمد بن عبدالکریم ترکستانی خوارزمی: بہان الائمہ و شمس الدین لقب تھا۔ امام فاضل،فقیہ متجر تھے۔فقہ دہقان محمد بن حسن کاسانی تلمیذ نجم الدین عمر نسفی سے پڑھی اور آپ سے مختار زاہدی صاحبِ قنیہ نے تفقہ کیا۔ حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید