پیر , 17 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 04 May,2026

مفتی غلام محمد قریش بن مفتی رحیم اللہ لاہوری قدس سرہ

  آپ  جامع اوراق (مفتی غلام سرور لاہوری) اور راقم الحروف کے والد گرامی تھے، آپ کا سلسلۂ نسبت چند واسطوں سے حضرت شیخ بہاؤ الدین زکریا ملتانی سے ملتا ہے، آپ دینی علوم میں اپنے آباؤ اجداد کی طرح شہرت یافتہ تھے اطاعت و عبادت میں بڑا وقت دیتے، ظاہری علوم میں آپ حضرت مولوی غلام رسول لاہوری قدس سرہ کے شاگرد تھے، کم کھاتے کم سوتے اور بہت تھوڑی گفتگو کرے رات کا ایک حصہ باقی ہوتا تو بیدار ہوجاتے نماز تہجد طویل قرأ ت سے ادا کرتے، نماز فجر کے بعد درود پاک پڑھتے پھر نفی اثبات کا ذکر کرتے ذکر اسم ذات میں مشغول ہوتے، دو سیپارے تلاوت کرتے اور نوافل اشراق سے فارغ ہوکر مسجد کے دروازے پر بیماروں اور محتاجوں کے حالات سنتے، طبیب کی حیثیت سے بیماروں کو دوا تجویز فرماتے درد مندوں کے لیے دعا کرتے، اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا اور دوا میں شفا بخشی تھی آپ کی طبی شہرت سن کر لاہور کے دور دراز دیہات سے مریض چلے۔۔۔

مزید

قاضی عبدالسلام بن عطاء الحق بداونی قدس سرہ

  آپ وقت کے عظیم محدث اور مشہور مفسر قرآن تھے آپ نے نظم میں زاو آلاخرت کے نام سے تفسیر قرآن لکھی، تفیسر کی تاریخ تالیف ۱۲۴۴ھ  ہے تقسیر کا نام بھی تاریخی ہے، یہ تفسیر تقریباً دو لاکھ اشعار آبداء پر مشتمل ہے عوام و خواص میں بڑی مقبول و محبوب ہوئی تھی، آپ کی وفات ۱۲۵۷ھ میں ہوئی۔ رفت چوں عبدالسلام از دارِ دوں ماہتاب حسن مخدوم آمد است   ارتحال او بقولِ خاص و عام ہم بخواں قاضی حق عبدالسلام (خذینۃ الاصفیاء)۔۔۔

مزید

مولوی غلام رسول فاضل لاہوری قدس سرہ

  آپ فاضل کبیر اور عالم با توقیر تھے، آپ کی ذات بابرکات چشمۂ فیض اور سر چشمہ علم و فضل تھی، سارے پنجاب میں ایک بھی ایسا عالم دین نہ تھا، جس نے آپ کے مدرسہ سے فیض حاصل نہ کیا ہو، اور آپ کے علم و فضل میں سارے پنجاب میں کوئی ثانی نہ تھا، ہزاروں اہل علم آپ سے پڑھ کر نکلے اور فضیلت علمیہ تک پہنچے۔ چوں غلام رسول طالب حق ارتحالش بگو چراغ ولی   از جہاں شد بجنت والا ہم وگر کا شف الضحیٰ فرما (خذینۃ الاصفیاء)۔۔۔

مزید

شاہ فضیل

حضرت شاہ فضیل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

ابو محمد کشادن روح

حضرت ابو محمد کشادن روح رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

بی بی غفیرہ العابدہ رحمۃ اللہ علیہا

  آپ بصرہ کی عابدہ تھیں حضرت معاذ عدویہ کی مجلس میں شرکت کرتی تھیں، اللہ کے خوف سے اتنی روئیں کہ آنکھیں بے نور ہوگئیں، لوگوں نے پوچھا کہ نابینائی نے آپ کو کتنا دکھ دیا، بولیں اللہ سے محجوب ہونا اس درد سے زیادہ دردناک ہے، اقوال صحیحہ میں آپ کی وفات ۱۸۰ھ میں ہوئی تھی۔ چوں غفیرہ از جہاں پر فنا زندہ دل نیک است سن رحلتش ۱۸۰ھ   رفت در جنت بعزو باکمال عابدہ محمود گو سالِ وصال ۱۸۰ھ (حدائق الاصفیاء)۔۔۔

مزید

سید نعیم بخاری شہید

حضرت سید شاہ نعیم بخاری شہید رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (اورنگی ٹاؤن)  ۔۔۔

مزید

بی بی شعوانہ عجمی رحمۃ اللہ علیہا

  آپ وقت کی عارقہ کاملہ تھیں، اس قدر عالم و فاضل تھیں کہ مجلس میں بیٹھتیں اور منہ پر پردہ ڈال کر نہایت خوش الحانی سے وعظ کہتیں وقت کے عابد، زاہد، عارف اور علماء آپ کی مجلس میں حاضر ہوتے اور آپ کے مواعظ سے مستفیض ہوتے کہتے ہیں کہ آپ دوراں وعظ بڑی رویا کرتی تھیں، لوگوں کو ڈر ہوا کہ کہیں بصارت سے محروم نہ ہوجائیں، آپ فرمایا کرتی تھیں دنیا میں اندھا ہونا بہتر ہے کہ قیامت کے دن نابینا اٹھا جائے، بوڑھی ہوئیں تو شیخ فیضل ابن عیاض آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ نے دعا کی التجا کی، آپ نے فرمایا: فیضل، کیا تمہارے اور اللہ کے مابین ایسا مسئلہ ہے جو میں دعا کروں تو قبول ہو، حضرت عیاض نے بات سن کر نعرہ مارا بے ہوش ہوگئے۔ بی بی شعوانہ کی وفات سکینۃ الاولیاء نے ۱۷۵ھ لکھی ہے۔ چو شعوانہ از دار دنیا برفت بتاریخ ترحیل آں نیک ذات   شدہ زیب خلد اندر جناں نعیمہ۔ معینہ۔ یقینہ بخواں ۱۷۵ھ ۱۷۵ھ ۱۷۵۔۔۔

مزید

حضرت زاہد رحمۃ اللہ علیہا

  امیر المومنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی ایک خادمہ تھیں جن کا نام حضرت زاہدہ تھا، ایک دن یہ بی بی جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئیں اور سلام عرض کیا، حضور نے دیکھا اور فرمایا زاہدہ تم بہت دیر کے بعد آئی ہو، خیر تھی، کہنے لگیں، یا رسول اللہ! آج میں نے اللہ تعالیٰ کے عجائبات سے ایک عجیب و غریب واقعہ دیکھا ہے، حضور نے تفصیل دریافت  کی تو کہنے لگی۔ ’’علی الصباح لکڑیاں لینے جنگل کی طرف نکل گئی، میں نے لکڑیوں کا ایک گٹھا اکٹھا کیا، باندھا اور ایک پتھر پر رکھا، میں نے دیکھا کہ ایک تیز رو سوار آسمان سے اتر رہا ہے، اس نے میرے پاس آکر مجھے سلام کیا، اور کہنے لگا کہ حضور کی خدمت میں حاضر ہوکر میرا سلام کہنا، اور عرض کرنا کہ رضوان کلید بردار بہشت نے کہا ہے کہ آپ کو مبارک ہو کہ آپ کی اُمت کو جنت میں داخل ہونے کے لیے تین حصوں میں تقسیم کردیا گیا ہ۔۔۔

مزید

حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا

  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی افضل اور اکرم بیٹی حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا تھیں، کنیت ام محمد۔ لقب  مبارک طاہرہ، اذکیہ، راضیہ، مرضیہ اور بتول  تھا اگرچہ حضرت فاطمہ حضور کی سب سے چھوٹی بیٹی تھیں، مگر جتنی محبت اور الفت آپ کو اس بیٹی سے تھی۔  دوسری کسی بیٹی سے نہیں تھی، حضرت علی کرم اللہ  وجہہ غزوہ بدر سے واپس آئے تو حضور کی بارگاہ میں حضرت فاطمہ کے رشتہ کی درخواست کی، اس وقت سیدہ کی عمر پندرہ سال تھی، آپ کی درخواست قبول ہوئی، اللہ تعالیٰ نے آپ کے بطن سے تین لڑکے، حسن، حسین اور محسن دیے (رضی اللہ عنہم) تین بیٹیاں اُم کلثوم، زینب اور رقیہ ہوئیں (رضی اللہ عنہن) محسن اور رقیہ تو خورد سالی میں ہی فوت ہوگئے، حضرت زینب عبداللہ جعفر سے بیاہی گئیں، حضرت ام کلثوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے نکاح میں آئیں حضرت فاطمہ کی اولاد جو آج تک موجود ہے۔ وہ حسن و حسین رضی الل۔۔۔

مزید