جمعہ , 21 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Friday, 08 May,2026

بی بی اُمتہ الواحد قدس سرہا

  آپ کا نام نامی سنیہ تھا، والد کا اسم گرامی حسین بن اسماعیل تھا آپ علوم تفسیر اور فقہ میں یگانہ روزگار تھیں، حدیث اور فرائض میں اپنا ثانی نہ رکھتی تھیں، آپ کو امامہ کا خطاب ملا تھا، ماہ رمضان المبارک ۳۷۷ھ میں ہوئی جب کہ نوے سال کی عمر تھی۔ امۃ الواحد ولیہ با وقار بادشاہ دین بگو تاریخ او   یافت از دنیا چو باحق اتصال قطبہ دوراں بخواں سال وصال (حدائق الاصفیاء)۔۔۔

مزید

بی بی اُم محمد قدس سرہا

  آپ ممتاز ولی اللہ شیخ ابی عبداللہ خفیف رحمۃ اللہ علیہ کی والدہ ماجدہ تھیں اپنے وقت کی صالحات و قانتات میں سے تھی، ان کے مشاہدات اور مکاشفات معروف زمانہ ہیں اپنے بیٹے کے ساتھ حجاز  کے سفر میں گئیں۔ ایک بار شیخ عبداللہ خفیف رمضان کے آخری عشرہ کے دوران قیام اللیل کیا کرتے تھے شب قدر کی رات کو کوشش کی کہ لیلۃ القدر کے انوار سے مستفیض ہوں، چنانچہ چھت پر نماز ادا کر رہے تھے آپ کی والدہ اپنے حجرہ میں بیٹھیں اپنے پے کی اس نیک تمنا پر متوجہ تھیں، ناگاہ اس رات کے انوار نمودار ہوئے آواز دے کر کہنے لگیں بیٹا جو چیز تم چھت پر تلاش کرنے بیٹھے ہو، مجھے حجرے میں نصیب ہوگئی  ہے۔ حضرت خفیف چھت سے نیچے آئے اور والدہ کے حجرے میں شب قدر کے انوار کو پالیا، اور والدہ کے قدموں پر گر پڑے۔ اُم محمد کا انتقال ۳۱۲ھ میں ہوا۔ حضرت ام ولد والیہ ارتحال او چو جستم از خرد   شد چو از دنیائے دو۔۔۔

مزید

بی بی تحفہ قدس سرہ

  آپ کاملات، عارفات، فاضلات اور واصلات میں سے تھیں حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں ایک رات بڑا مضطرب تھا مجھے رات بھر نیند نہ آئی میں اٹھا اور گھر سے باہر جا نکلا، میں نے سرکاری ہسپتال (شفاخانہ) کا رخ کیا تاکہ وہاں مصیبت زدہ لوگوں کو دیکھ اپنا اضطراب اور غم ہلکہ کرسکوں مجھے وہاں ایک ایسی لڑکی دکھائی دی جو حسن صورت سے مزین تھی، خوبصورت کپڑے پہنے ہوئے تھے اور اس سے مہک آ رہی تھی لیکن بایں ہمہ اس کے دونوں ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے تھے مجھے دیکھتے ہی زار و قطار رونے لگی، اور بڑے درد ناک اشعار پڑھنے لگی، میں نے ہسپتال کے نگران سے پوچھا کہ یہ کون لڑکی ہے اس نے بتایا یہ ایک امیر آدمی کی کنیز ہے جو پاگل ہوگئی ہے اس امیر آدمی نے اسے ہسپتال میں داخل کرایا ہے اور اس کے ہاتھ پاؤں باندھ رکھے ہیں، میں نے لڑکی سے حال پوچھا تو اس نے مجھے چند اور اشعار سنائے جن میں  توحید معرفت بھری ہوئ۔۔۔

مزید

فاطمہ نیشاپوریہ قدس سرہا

  آپ خراسان کی عارفات میں سے تھیں مکہ معظمہ کی مجاور رہیں کبھی کبھی بیت المقدس کی زیارت کو بھی جایا کرتی تھیں، حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ کی بڑی تعریف فرمایا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے میں نے ساری عمر میں ایک مرد اور ایک عورت دیکھی ہے، عورت  فا طمہ نیشاپوریہ ہیں۔ حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ سے لوگوں نے پوچھا آپ کے نزدیک اس زمانے میں مرد حق اور بزرگ ترین شخصیت کون سی ہے، آپ نے فرمایا: ’’میں مکہ معظمہ میں ایک عورت کو دیکھا ہے جس کا نام فاطمہ نیشاپوریہ ہے، آپ ضم معانی قرآن کو واضح طور پر بیان فرمایا کرتی تھیں اور مجھے ان کا انداز بیان بڑا پسند آتا ہے‘‘۔ سفینہ الاولیاء کے مصنف نے آپ کا سال وفات ۲۲۳ھ لکھا ہے۔ شد چو از دنیا بفردوس بریں ہر سالِ ارتحالِ آں جناب نیز وصل روز اکبر شد عیاں ۲۲۳ھ   صوفیہ والا ولیہ فاطمہ شد ندا از دل ۔۔۔

مزید

بی بی نفیسہ قدس سرہا

  والد کا نام حسن بن زید تھا آپ قدیم محدثہ تھیں، مصر میں پیدا ہوئی حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ مصر گئے تو آپ سے احادیث کی سند حاصل کی حضرت امام شافعی کا انتقال ہوا تو آپ کا جنازہ بی بی نفیسہ کے گھر لے جایا گیا پھر تدفین ہوئی، آپ کی وفات ماہ رمضان ۲۰۹ھ میں ہوئی۔ چونکہ موصومہ زبان نفیسہ رحلتش جو ز لفظ صدیقہ ۲۰۹   شد ز عالم بجنت الاعلی بار لفظش مقدسہ فرما ۲۰۹ (حدائق الاصفیاء)۔۔۔

مزید

گلزار شاہ کشوی

حضرت گلزار شاہ کشوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

امام المجاھدین حضرت مولانا عبد الغفور صاحب سوات قدس سرہ

            امام المجاہدین شیخ الاسلام والمسلمین حضرت مولانا اخوند عبد الغفور صاحب سوات قادری رحمہ اللہ تعالیٰ ۱۱۸۴ھ/۱۷۷۰ء میں پیدا ہوئے۔آپ کو ابتداء ہی سے دینی تعلیم کا اشتیاق تھا چنانچہ ابتدائی کتب اپنے علاقہ کے علماء سے پتھیں ، بعد ازاں پشاور کے مشہور زمانہ فاضل حضرت مولانا حافظ محمد عظیم پشاری رحمہ اللہ تعالیی ( م ۱۲۷۵ھ/۱۸۵۸ئ)کی خدمت میں حاضر ہو کر تقریباً چار برس میں تمام کتب متداولہ کی تحصیل و تکمیل کی ار سند فراغت حاصل کی ، با کمال استاد کی صحبت سے تزکیۂ نفس کا جذبہ پیدا ہوا اور شیخ المشائخ حضرت مولانا محمد شیعب قدس سرہ ساکن توڈھیری کے دست اقدس پر سلسلۂ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے ، ایک عرسہ تک دریائے کاہل اور دریائے سوات کے جنگلوں میں محو عبادت و ریاضت رہے او سلاسل اربعہ میں ماذون و مجاز ہوئے۔       &۔۔۔

مزید

شیخ طریقت حضرت مولانا عبدالغفار شاہ کشمری قدس سرہ

             حضرت پی محمد عبد الغفار شاہ ابن پیر احمد شاہ ابن مپیر مصطفی شاہ ( قدست اسرارہم )شیخ مسعود نروری ( مدفون محلہ نرورہ سری نگر ) کی اولاد امجاد سے تھے ۔ااپ کے دادا حضرت پیر مصطفی شاہ کشمیر سے آکر ضلع ملتان کے ایک ویرانہ مین بیٹھ گئے جو آپ کے قدوم کی برکت سے آباد ہو گیا اور اس مقام پ چک ۵۷/۱۵۔ اسی کی بنیاد رکھی گئی۔اس چک میں پیر مصطفی شاہ کا مزار مرجع خلائق ہے ، پیر عبد الغفار شاہ اسی چک میں متولد ہوئے اور ابھی گیارہ برس کے تھے کہ آپ کے والد ماجد لاہور تشریف لے آئے ۔ لاہور ہی میں حضرت پیرصاحب نے علوم دینیہ کی تحصیل و تکمیل کی ، یہیں آپ کا نکاح سادات کے ایک گھرانے میں ہوا لیکن ووہی برس بعد آپ کی اہلیہ داغ مفارقت دے گئیں ۔ اس کے بعد پیر صاحب نے دوسری شادی نہیں کی ، صرف ایک فرزند پیر محمد اشرف موحوم آپ کی یاد گار تھے[1] &n۔۔۔

مزید

حضرت خواجہ یعقوب

آپ شیخ فریدالدین کے چھوٹے بیٹے تھے، جود و سخاوت میں بہت مشہور تھے، اور روحانی کمالات میں ماہر تھے اور اہل ملامت کے راستہ پر چل پڑے تھے (یعنی) جو معاملہ ان کا ظاہر میں تھا اللہ سے تعلق اس کے خلاف تھا (غالباً مطلب یہ ہے کہ بسا اوقات بظاہر لوگ انہیں خلاف شرع افعال کا مرتکب پاکر ملامت کرتے لیکن اللہ تعالیٰ سے ان کا تعلق صحیح تھا، سیرالاولیاء میں لکھا ہے کہ آپ ایک بار امروہہ کے راستے جا رہے تھے کہ وہاں سے مردانِ غیب نے آپ کو اٹھالیا۔ اخبار الاخیار۔۔۔

مزید

حضرت شیخ بدرالدین سلیمان

آپ حضرت شیخ فریدالدین کے مشہور فرزند ارجمند ہیں، آپ اپنے والد بزرگوار کے انتقال کے بعد اپنے بھائیوں اور شیخ کے تمام تر مریدوں کے متفقہ فیصلہ سے سجادہ خلافت کے لیے منتخب کیے گئے، شیخ بدرالدین نے خاندان چشتیہ سے بیعت کی۔ خواجہ زدر اور خواجہ غور جو خاندان چشتیہ کے خلیفہ تھے اور حضرت شیخ فریدالدین کی زندگی ہی میں مقام چشت سے پاک پتن تشریف لائے تھے، ان دونوں مذکور بزرگوں کے پاس حضرت شیخ فرید الدین اپنے دونوں صاحبزادوں کو ان دونوں بزرگوں کا مرید کرادیا۔ اخبار الاخیار۔۔۔

مزید