آپ ابتدائی عمر میں سلطان فیروز شاہ کے بڑے مشہور امیر لوگوں میں سے تھے ہندوستان کا مشہور شہر سارنگ پور آپ ہی نے آباد کیا تھا، لیکن آخر عمر میں اللہ تعالیٰ کی عنایت اور فضل نے یاوری کی جس کی وجہ سے آپ نے راہ سلوک میں قدم رکھا جو واصل باللہ لوگوں کے لیے مخصوص ہے، آپ نے شروع شروع میں شیخ قوام الدین کی خدمت کی اور مُرید بھی ہوگئے اور انہی سے باطن کی اصلاح اور ذکر خفی کی تعلیم کی، اس کے بعد حجاز کا سفر کیا اور حرمین شریفین کی زیارت سے مستفیض ہوئے اور پھر شیخ الوقت جناب شیخ یوسف ایرجی کی ایک دراز مدت تک صحبت میں رہے اور ان سے علوم طریقت حاصل کیے، آپ کے خلوص اور طلب صادق کو دیکھ کر شیخ راجو قتال نے آپ کے طلب کیے بغیر آپ کو خرقہ اور دیگر امانتیں جو آپ کو مشائخ طریقت سے ملی تھیں آپ کے پاس آپ کے گھر بھیج دیں، چنانچہ جب وہ تمام چیزیں آپ کے پاس پہنچیں تو آپ نے واپس فرمادیں اور دریافت کیا کہ یہ چیزیں کس۔۔۔
مزید
آپ شیخ نصیرالدین محمود کے ممتاز خلفاء میں سے تھے، مقام توحید و وحدت میں عالی مرتبہ رکھنے کے علاوہ بڑے بلند پایہ بزرگ اور ولی تھے، آپ نے جو اپنے ظاہری و باطنی حالات تحریر فرمائے ہیں ان کو دیکھ کر انسانی عقل حیران رہے بغیر نہیں رہ سکتی اگر ان تمام احوال کو بغیر کسی تاویل کے اپنے ظاہر ہی پر محمول کرلیا جائے تو یہ اقرار کرنا پڑتا ہے کہ واقعی آپ اپنے وقت کے بہت بڑے کامل بزرگ تھے۔ آپ نے اپنی کتاب ’’بحرالمعانی‘‘ میں توحید کے اکثر دقائق اور مختلف قوموں کےعلوم اور معرفت کے اَسرار کو بیان فرمایا ہے اور آپ کی تحریر کا انداز بڑا ہی پیارا اور مستانہ وارانہ ہے۔ آپ نے اور بھی دو کتابیں جن میں ایک کا نام وقائق معانی اور دوسری کا نام حقائق معانی لکھنے کا وعدہ کیا ہے، اللہ معلوم آپ کی یہ کتابیں لکھی گئی ہیں یا نہیں، علاوہ ازیں آپ کے یہ رسالہ جات بھی ہیں۔ (1) یہ رسالہ روح کے بیا۔۔۔
مزید
آپ حق گو کے لقب سے مشہور تھے، آپ کے والد محترم کا نام شیخ فخرالدین زاہدی تھا، آپ کو حق گو اس لیے کہتے تھے کہ ایک بار سلطان محمد تغلق نے یہ حکم جاری کیا کہ تمام لوگ مجھے عادل کہا کریں، تمام لوگوں نے اس حکم کو تسلیم کرلیا مگر انہوں نے انہیں عادل کہنے سے انکار کردیا اور فرمایا کہ ہم ظالموں کو عادل نہیں کہا کرتے۔ اس جرم میں سلطان نے آپ کو دہلی کے قلعہ سے نیچے پھنکوادیا، آپ کی قبر وہیں ہے۔ آپ شیخ فخرالدین ثانی کے مرید تھے جو بہت بڑے بزرگ تھے، ان کی قبر بھی دہلی شہر میں فیروز آباد کی جانب ہے۔ اخبار الاخیار۔۔۔
مزید
آپ بدایوں کے رہنے والے تھے، ضیا نخشبی نے اپنی کتاب بنام سلک السلوک میں لکھا ہے کہ شیخ ابوبکر موئے تاب ذکر الٰہی میں ایسے فنا تھے کہ ان کا بال بال ذکر الٰہی میں مشغول رہتا تھا اور وہ عالم بالا میں جانے ہی والے تھے کہ میں ان کی عیادت اور مزاج پرسی کے لیے حاضر ہوا دیکھا کہ اس پُر اَسرار شعر کو پڑھ رہے تھے۔ قالب چوں غباراست میان من وتو امید کہ اینک ازمیاں برخیزد ترجمہ: (اے اللہ یہ جسم آپ کے اور میرے درمیان غبار کی طرح حائل ہے امید ہے کہ یہ پردہ بہت جلد اٹھ جائے گا) اخبار الاخیار۔۔۔
مزید
آپ شیخ رکن الدین ابوالفتح کے مریدوں میں سے تھے بہت زیادہ سیر و سیاحت کے شوقین تھے اسی لیے ہمیشہ سیر و سیاحت میں رہتے، لیکن بالاآخر اپنے وطن دہلی تشریف لائے، سماع کے بہت شائق تھے۔ شیخ نصیرالدین محمود چراغ دہلوی کی محفلوں میں ہمیشہ تشریف لاتے اور سماع سے محظوظ ہوتے اور وجد و حال میں رقصاں رہتے پُرانی دہلی میں ہفت پل جسے سلطان محمد عادل نے بنوایا تھا اس کے قریب آپ کا مزار ہے۔ اخبار الاخیار۔۔۔
مزید
آپ پانی پت کے رہنے والے تھے، آپ کو بو علی قلندر بھی کہتے ہیں، بڑے مشہور مجذوب اور ولی اللہ تھے، مشہور ہے کہ اوائل عمر میں آپ نے تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنی تمام تر توجہات کو سلوک و طریقت کی طرف مبذول کردیا تھا اور تمام کُتب کو دریا برد کرکے مجذوب بن گئے، یہ معلوم نہ ہوسکا کہ آپ کس سے بیعت تھے البتہ بعض لوگوں میں یہ بات مشہور ہے کہ آپ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کے مرید تھے اور بعض لوگوں کا خیال ہے کہ آپ خواجہ نظام الدین اولیاء سے بیعت تھے ، لیکن یہ دونوں روایتیں بلا دلیل و بلا حجت ہیں آپ کے کچھ مکتوبات بھی ہیں جو آپ نے عشق و محبت کی زبان میں اختیار الدین کے نام تحریر فرمائے جس میں یہ مضامین ہیں۔ (1) توحید کے معارف و حقائق (2) ترک دنیا (3) طلب آخرت (4)محبت الٰہی آپ کا ایک دوسرا رسالہ بھی عوام الناس میں حکم نامہ شیخ شرف الدین کے نام سے مشہور ہے لیکن ظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ رس۔۔۔
مزید
آپ حضرت یحییٰ منیری کے فرزند تھے آپ کا ہندوستان کے مشہور مشائخ میں شمار ہے۔ آپ کے فضائل و مناقب محتاج بیان نہیں، آپ کی تصنیفات بھی کثرت سے ہیں، جن میں سے ’’مکتوبات‘‘ زیادہ مشہور ہیں۔ یہ اس لحاظ سے بھی بے نظیر اور بہترین کتاب ہے کہ اس میں آداب طریقت اور رموز حقیقت درج کیے گئے ہیں۔ اگرچہ آپ کے ملفوظات بھی ایک مرید نے جمع کیے ہیں، لیکن مکتوبات میں لطافت و شیرینی کا پہلو زیادہ نمایاں ہے۔ نیز یہ بھی مشہور ہے کہ آپ نے رسالہ آداب المریدین کی بھی ایک (نامعلوم) شرح لکھی تھی۔ آپ شیخ نجیب الدین فردوسی کے مرید تھے۔ کہتے ہیں کہ شیخ شرف الدین احمد ایک مرتبہ اپنے وطن سے خواجہ نظام الدین سے مُرید ہونے کے شوق سے دہلی روانہ ہوئے۔ ابھی آپ دہلی پہنچے بھی نہ تھے کہ خواجہ نظام الدین اولیاء کا انتقال ہوگیا۔ شیخ نجیب الدین اس زمانہ میں دہلی میں موجود تھے۔ جب شرف الدین احمد آپ کے پاس ۔۔۔
مزید
آپ شیخ رکن الدین فردوسی کے مرید تھے، آپ کی قبر حوض شمسی کے مشرقی جانب ایک بلند اور اونچے مقام پر مولانا برہانُ الدین بلخی کی قبر کے نزدیک ہے۔ آپ کا وصال 761ھ کو ہوا۔ اخبار الاخیار۔۔۔
مزید
یزید کےبعد معاویہ ابن یزید تخت نشین ہوا۔ اس نےچالیس دنحکومت کرنےکے بعد منبل پر چڑھ کر اعلان کیا کہ میرے آباؤ اجداد نے پیغمبر اسلام علیہ السلام کےاہل بیت کےساتھ ظلم کیا ہے۔ خلافت اہل بیت کا حق تھا میں اس سےدست بردار ہوتا ہوں۔ چانچہ انہی ایام میں نبی امیہ نے متفق ہوکر اس بچارے کو تعصب کی و جہ سے زہر دے دی اور مروان بن حکم کو تخت پر بٹھایا۔ روایت ہے کہ جب امام حسین شہید ہوگئے۔ تو ابو القاسم محمدﷺ حنفیہ بن علی جو بڑے صاحب علم و معرفت اور شجاعت میں مشہور تھے سب کچھ چھوڑ کر گوشہ نشین ہوگئے بس طوافِ کعبہ کرتے تھے اور عبادت اور شغل باطن میں مصروف رہتے تھے۔ آخر عبدالملک بن مروان کے عہد حکومت میں سال ۸۱ھ میں مدینہ منورہ میں واصل بحق ہوئے۔ کتاب شواہد النبوت میں لکھا ہے کہ امیر المؤمنین حسین کے قاتلوں میں سے کوئی شخص ایسا نہ رہا جو موت سے پہلے مصیبت اور عذاب میں مبتلا نہ ہوا ہو۔ ۔۔۔
مزید
امیرالمؤمنین حضرت امام ابو عبداللہ حُسین آں شہید تیغ محبتو فنا، قتیل معرکہ کربلا، مست شراب مازاغ البصر دماطغیٰ ساقئی کوثر ثم دنےٰ تدلےٰ، شاہد نور بے چوں اور عرایاکونین، ابو الائمہ امام ابو عبداللہ الحسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ، ائمۃ اہل بیت میں سے تیسرے امام ہیں۔ آپ کی کنیت ابو عبداللہ اور لقب شہید اور سید ہے۔ آپ کی ولادت بروز سہ شنبہ ماہ شعبان سال ۴ھ کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ آپ شش ماہی ہیں۔ حضرت یحییٰ بن زکریا علیہ السلام بھی ششماہی تھے۔ رسول خداﷺ نے آپ کا اسم گامی حسین رکھا۔ آپ اس قدر حسین و جمیل تھے کہ اگر اندھیرے میں بیٹھتے تو آپ کے چہرۂ انور کے نور کی روشنی سے لوگ آپ تک پہنچ سکتے تھے۔ آپ از سرتاپاء رسول اللہﷺ کے مشابہ تھے۔ آنحضرت صلعم فرمایا کرتے تھے کہ حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے! اے اللہ! دوست رکھ اس کو جو حسین کو دوست رکھے۔ کشف المحجوب میں لکھا ہے کہ حضرت ام۔۔۔
مزید