منگل , 18 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Tuesday, 05 May,2026

حضرت شیخ شہاب الدین

حضرت شیخ شہاب الدین حضرت خواجہ گنجشکر کے دوسرے بیٹھے کا اسم گرامی شیخ شہاب الدین تھا۔ آپکا پیشہ سپاہ گری تھا۔ اسکے علاوہ آپ عالم و فاضل بھی تھے۔ اور اکثر اپنے والد ماجد کی خدمت میں رہا کرتے تھے۔ حضرت سلطان المشائخ فرماتے ہیں کہ میرے  اور شیخ شہاب الدین کے درمیان دوستی تھی۔ ایک دفعہ مجھ سے حضرت گنجشکر قدس سرہٗ کے حق میں بلا ارادہ خطا سرزد ہوگئی تھی جو شیخ شہاب الدین کے ذریعے معاف کرائی گئی۔ شیخ شہاب الدین کے پانچ لڑکے تھے۔ آپ کا مزار حضرت گنجشکر کے روضہ کے متصل غربی جانب ہے۔ پہلے یہ جگہ حضرت خواجہ گنجشکر کیلئے مخصوص کی گئی تھی لیکن شیخ شہاب الدین نے اپنے بھائیوں کی منت و سماجت کر کے یہ مقام اپنے لیے حاصل کیا۔ رحمۃ اللہ علیہ۔ (اقتباس الانوار)۔۔۔

مزید

ظہیرالدین عبدالرحمن

حضرت ظہیرالدین عبدالرحمٰن بن علی برغش رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔۔۔

مزید

شیخ یونس سیستانی

حضرت شیخ یونس سیستانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ نصیر الدین بن حضرت گنج شکر

حضرت شیخ نصیر الدین بن حضرت گنج شکر  حضرت خواجہ گنجشکر قدس سرہٗ کے بڑے بیٹے کا اسم گرامی شیخ نصیر الدین تھا جو صاحب اوصاف حمیدہ اور اخلاق مرضیہ سےمتصف تھے آپ زراعت کا کام کر کے لقمۂ حال مہیا کرتے تھے۔ آ پ نے ساری عمر رضائے حق میں بسر فرمائی۔ مراۃ الاسرار میں لکھا ہے کہ شیخ نصیر الدین کے چھ بیٹے تھے۔ صاحب مراۃ الاسرار  نے یہ بھی لکھا ہے کہ بعض لوگوں کو خیال ہے کہ خواجہ نصیر الدین حضرت خواجہ گنجشکرکے متنبہ تھے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ آپ حضرت اقدس خادمہ شارو کے بیٹھے تھے۔ بعض کا خیال ہےکہ حضرت خواجہ گنجشکر نے ایک بیوہ عورت سے شادی کی تھی جنکا نام ام کلثوم تھا اور شیخ نصیر الدین ان کے ہمراہ آئے تھے۔ اور انکی حضرت نے اپنے بیٹے کی طرح تربیت فرمائی اور محبت سے پیش آتے تھے۔ واللہ اعلم ۔ انکا مزار قصبہ جاولیانہ میں ہے جو پرگنہ قبولہ میں واقع ہے قبولہ انکا اصل وطن تھا۔ حضرت خواجہ گنجشکر ۔۔۔

مزید

عبدالملک مکی جوینی

حضرت شیخ الحرمین ابوالمعالی عبدالملک مکی جوینی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

شیخ عبدالجلیل تلمسانی

۔۔۔

مزید

حضرت سید برہان الدین

آپ مخدوم جہانیاں سیّد جلال بخاری کے پوتے تھے۔ اپنے آبائی وطن سے منتقل ہوکر گجرات میں آکر مقیم ہوئے اور پھر گجرات ہی کو اپنا جدید وطن بنالیا تھا، آپ کانام سیّد برہان الدین تھا اور قطب عالم کے لقب سے مشہور تھے۔ احمدآباد سے چھ میل کے فاصلہ پر ایک قصبہ بتوہ ہے وہاں آپ کا مزار ہے آپ نے ۸۵۷ھ میں انتقال فرمایا جس کے اعداد ’’مطلع یوم الترویہ‘‘ ۸۵۷ھ سے نکلتے ہیں۔ آپ کے مزار پر ایک پتھر پڑا ہے جس کے اندر پتھر، لوہے، لکڑی تینوں چیزوں کے اوصاف پائے جاتےہیں، کسی شخص کو صحیح طور سے یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ کس چیز کا ہے ، اگر آپ اسے ابتداً دیکھیں تو آپ کو پتھر معلوم ہوگا۔ پھر ذرا غور سے دیکھیں تو لوہا اور مزید غور کرنے پر لکڑی معلوم ہوگا۔ غرض کہ لوہا۔  لکڑی، پتھر تینوں کے اوصاف اس کے اندر موجود ہیں اور اس کے کسی حصہ کو جدا اور علیحدہ بھی نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ایک عجیب چیز ہے ج۔۔۔

مزید

حدیث الصلوٰۃ معراج المؤمنین کی تصدیق حالی

  حضرت سلطان المشائخ نےیہ بھی فرمایا کہ ہمارے احباب میں سے ایک دست تھا جس کا نام محمد تھا اور حضرت گنجشکر کے بعض اسرار میں محرم راز تھا۔ ایک دفعہ جمعہ کے دن وہ جامع مسجد  حمزۃ میں خواجہ گنجشکر قدس سرہٗ  کے پیچھے بیٹھا تھا اور کچھ دیر کے بعد بے ہوش ہوگیا۔ بعد میں حضرت اقدس نے اس سے دریافت کیا کہ معلوم ہے یہ حال پر کیوں طاری ہوا۔ فرمایا اس وقت نماز میں مجھے معراج حاصل تھا تجھے بھی اس میں سے حصہ مل گیا۔ چنانچہ حدیث نبویﷺ ہے کہ ’’الصلوٰۃ معراج المومن‘‘ (نماز مومن کی معراج ہے[1]) یہ بات سن کر شہر جودھن کا قاضی آپکے ساتھ سختی سے پیش آیا اور حضرت گنجشکر کی جو باتیں اسکی سمجھ سے بالا تر  تھیں اُنکا اُس نے محاسبہ شروع کردیا لیکن چن روز کے اندر جان و مال سمیت ہلاک ہوگیا۔ اور اُسکے گھر کا کوئی فرد سلامت نہ رہا۔ حضرت سلطان المشائخ  کا صبر و تحمل مراۃ ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ محمد شاہ مینا

آپ شہر لکھنؤ کے بڑے ولی اللہ تھے، آپ کا نام شیخ محمد تھا، شیخ قوام الدین نے بچپن میں آپ  کو اپنی زیر تربیت رکھا اور نعمتوں سے نوازا، پھر آپ شیخ سارنگ کے مرید ہوئے اور تصوف کے کاموں میں مشغول ہوگئے۔ شیخ قوام الدین کے ایک لڑکے کا نام محمد تھا جسے لوگ مینا کہا کرتے تھے، لکھنؤ کے محاورہ میں مینا ہنرمند اور باعزت سردار کو کہتے ہیں، شیخ محمد مینا جوانی میں  دنیا داروں کی طرح خواہشات نفسانیہ کے زر خرید اور اسی طرح دیگر  فضولیات کے رسیا تھے، اس وقت آپ اپنے زمانہ کے بادشاہ کے ملازم تھے، چونکہ اکثر احکام و  امرا آپ کے والد بزرگوار شیخ  قوام الدین کے مرید اور عقیدتمند تھے اس لیے وہ تمام لوگ شیخ قوام الدین آپ کی عاندات شنیعہ سے سخت بیزار تھے اور بیٹے کی جانب سے باپ کی رضا مندی کے آئینہ میں گرد و غبار جمع ہوچکا تھا، یہ اس زمانے کی بات ہے جبکہ محمد مینا بادشاہ کے حکم سے لکھنؤ سے۔۔۔

مزید

میر سید حسین مشہدی

  مراۃ الاسرار میں منتخت التاریخ سے رویات نقل کی گئی ہے  کہ ۶۸۹ھ میں شہر دہلی اسلام کا پایۂ تخت بن گیا۔ اور سلطان فخر الدین سام نے کچھ عرصہ دہلی  میں قیام کر کے حکومت اپنے معتمد غلام قطب الدین ایبک کے سپر دکی اور خود غزنی چلا گیا۔ اور ملک خراساں میں کچھ عرصہ حکومت کرنے کے بعد ایک معرکہ میں شہید ہوا اور قطب الدین ایبک ہندوستان کا مستقبل فرمانردا ہوگیا۔ اس نے گرد ونواح کے علاقوں کو فتح کر کے میر سید حسین شہید کو جو سید حسین خنک سوار کے نام سے موسوم ہیں اجمیر کا حاکم مقرر کیا سید حسین مشہدی سادات مشہد مقدس میں سے تھے۔ اور اپنے آباواجداد یعنی ائمہ اہل بیت کے مرید تھے۔ لیکن اپنے آپ کو چھپانے کی خاطر انہوں نے  اہل دنیا کا لباس اختیار کر  رکھا تھا اور دنیا داروں کے لباس میں بزرگان دین سے کسب فیض کرتے تھے۔ آپ ظاہری وباطنی کمالات کی بنا پر یگانۂ روزگار تھے۔ آپ اپنے آباؤ اجد۔۔۔

مزید