سیر الاقطاب میں لکھا ہے کہ حضرت خواجہ گنجشکر کے خلفاء کی تعداد شمار سے باہر ہے۔ کہتے ہیں کہ آپ کے ستر ہزار خلفاء تھے۔ آپ کے ملفوظات موسوم بہ جواہر فریدی میں جو پاکپتن شریف میں سجادہ صاحبان کے پاس ہے خلفاء کی تعداد پچاس ہزار تین سو بیالیس بتائی ہے۔ اس تفصیل سے کہ دس ہزار روئے زمین پر ہیں۔ اتھارہ ہزار دریاؤں میں، سات ہزار کوہ قاف میں، پانچ سو بیالیس ہوا میں، چار سو چوتھے آسمان پر، چودہ ہزار ساتویں آسمان پر، اور سات سو عالم غیب میں عنداللہ ہیں۔ اور حق تعالیٰ کے سوا انکو کوئی نہیں جانتا اور دس ہزار خلفاء جو زمین پر ہیں اور جنکے حضرت خواجہ گنجشکر کے درمیان سر موئے فرق تھا انکے اسمائے گرامی یہ ہیں۔ حضرت خواجہ علی احمد صابر، حضرت سلطان المشائخ شیخ نظام الدین اولیاء، حضرت شیخ جمال الدین ہانسوی، حضرت خواجہ شمس الدین ترک پانی پتی، حضرت شیخ دھارو، حضرت شیخ زین الدین دمشقی، ۔۔۔
مزید
آپ حضرت خواجہ نظام الدین ابن خواجہ گنجشکر کے فرزند تھے حضرت سلطان المشائخ کے مرید تھے۔ حضرت اقدس آپکوبہت چاہتے تھے اور بڑی توجہ سے انکی تربیّت فرمائی۔ وفات کے بعد حضرت سلطان المشائخ کے روضہ کے پائنتی کی طرف دفن ہوئے۔ رحمۃ اللہ علیہ۔ (اقتباس الانوار)۔۔۔
مزید
مولانا کمال الدین حضرت نصیر الدین کے بیٹے اور خواجہ گنجشکر قدس سرہٗ کے پوتے تھے۔ آپ سخاوت اور بلندی ہمتی میں مشہور تھے۔ یہاں تک کہ سیر و سفر میں بھی آپ کثرت سے طعام ساتھ رکھتے تھے اور غربأ ومساکین میں تقسیم کرتے تھے۔ اور یہ بارکت آپ کو اس وجہ سے حاصل ہوئی کہ اوائل حال میں آپ حضرت سلطان المشائخ کے لنگر کی دیگیں دھویا کرتے تھے۔ آپ کسی سبب سے علاقہ مالوہ میں تشریف لے گئے اور وہیں آپ کا وصال ہوا۔ رحمۃ اللہ علیہ۔ (اقتباس الانوار)۔۔۔
مزید
یہ دونوں حضرات حضرت شیخ یعقوب ابن شیخ فرید الدین گنجشکر کے بیٹھے تھے۔ اور حضرت سلطان المشائخ کی خدمت میں رہتے تھے۔ شیخ اعزالدین کسی وجہ سے ولایت دیوگر گئے اور وہیں شہادت پائی۔ خواجہ قاضی کا مزار روضۂ سلطان المشائخ کے قریب چبوترۂ باران میں ہے۔ رحمۃ اللہ علی۔ (اقتباس الانوار)۔۔۔
مزید
حضرت خواجہ گنجشکر کی بڑی بیٹی کا اسم گرامی بی بی مستورہ تھا۔ آپ آخری دم تک در پردۂ عفت و کرامت اور راز رہیں۔ آپکا عقد شیخ عمر الفاروقی سے ہوا تھا۔ آپکا ایک فرزند تھا جس کا اسم گرامی محمد تھا۔ لیکن ایام طفلی میں ہی انکا انتقال ہوگیا۔ رحمۃ اللہ علیہ۔ دوری دختر نیک اختر کا اسم گرامی بی بی شریفہ تھا جو نہایت ہی عبادت گذار اور متقی وپرہیزگار تھیں۔ آپ جوانی ہی میں بیوہ ہوگئی تھیں۔ اور پھر کبھی شادی نہ کی۔ بلکہ مشغول بحق رہیں حضرت خواجہ گنجشکر قدس سرہٗ فرمایا کرتے تھے کہ اگر عورت کو خلافت دینا جائز ہوتا تو ہم شریفہ کو خلافت دیتے۔ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آپ کی نسبت کن کے ساتھ ہوئی تھی۔ صاحب اخبار الاخیار کا خیال ہے کہ آپکا عقد نکاح شاید حضرت خواجہ علی احمد صابر کلیری قدس سرہٗ سے ہوا تھا۔ تیسری دختر کا اسم گرامی بی بی فاطمہ تھا۔ آپ کا عقد نکاح حضرت شیخ بدر الدین اسحاق سے۔۔۔
مزید
حضرت اقدس کے پانچویں فرزند شیخ یعقوب تھے یہ سب سے چھوٹے تھے۔ اور جودو سخا میں مشہور تھے۔ آپ بڑے بزرگ تھے اور صاحب کشف و کرامات تھے۔ آپکا طریق ملامتیہ تھا اور آپکا دکھلاوہ خواہ کچھ تھا آپ ہمیشہ حق کےپیوستہ تھے۔ آپ کی طبع فیاض تھی اور بڑے صاحب مروت تھے۔ آپ اکثر سفر میں رہتے تھے۔ آخر قصبہ امروہہ کے سفر کے دوران آپ کو مردانِ غیب نے لے لیا اور غیب کردیا۔ آپ کے بھی دو بیٹے تھے۔ رحمۃ اللہ علیہ۔ (اقتباس الانوار)۔۔۔
مزید
حضرت خواجہ بدر الدین سلیمان چشتی نام ونسب: اسم گرامی: بدرالدین سلیمان۔ سلسلۂ نسب: خواجہ بدرالدین سلیمان بن قطب العالم بابا فرید الدین مسعود گنج شکر بن شیخ جمال الدین سلیمان علیہم الرحمۃ والرضوان ۔آپ کاسلسلہ نسب کئی واسطوں سے حضرت فاروق اعظم سے جا ملتاہے۔ تحصیل علم: آپ نے ظاہری و باطنی علوم کی تحصیل و تکمیل اپنے والد گرامی سے حاصل کی۔ بقول صاحب ’’سیرالاولیاء‘‘ آپ اپنے وقت کے شیخ کامل اور عالم متبحر تھے۔ بیعت و خلافت: حضرت باباصاحب نے خاندان چشت کےایک بزرگ سے بچپن میں بیعت کرادیا تھا۔حضرت بابا فرید اور شیخ علاء الدین علی احمد صابر کلیر سے خلافت حاصل تھی۔ سیرت وخصائص: جگر گوشہ حضرت بابا فرید، پروردۂ آغوش ولایت ، نیرافق ولایت و معرفت امام العارفین دلیل الکاملین، پیشوائے زمانہ شیخ الشیوخ حضرت خواجہ شیخ بدر الدین سلیمان چشتی صابری۔آپ اپنے وقت ۔۔۔
مزید