منگل , 18 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Tuesday, 05 May,2026

عبدالسبحان فقیہ

حضرت مولانا عبدالسبحان فقیہ ناروی الہ آبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

حضرت قاضی شعیب

  آپ کےایک خلیفہ قاضی شعیب ہیں۔ جو قاضی محمداولیاء کےپوتے ہیں اور مزار سونی پت میں ہے۔ انکی اولاد آج تک حضرت شیخ جلال الدین کے سلسلہ میں مرید  چلی آرہی ہے۔ (اقتباس الانوار)۔۔۔

مزید

حضرت قاضی اولیا

  آپ کےدیگر خلیفہ حضرت قاضی محمد اولیا ہیں۔ جنکا مزار سلطان پور میں ہے جوکرنال کے مصافات میں ہے۔ (اقتباس الانوار)۔۔۔

مزید

حضرت شیخ موسیٰ بہاری

  آپ کے ایک خلیفہ حضرت شیخ موسیٰ بہاری ہیں۔ جنکا مزار بہار میں ہے۔ (اقتباس الانوار)۔۔۔

مزید

حضرت شیخ احمد قلندر

  آپ کے اور خلیفہ حضرت شیخ احمد قلندر ہیں۔ جن کا مزار قلعہ  ملتان کی پشت پر ہے۔ (اقتباس الانوار)۔۔۔

مزید

حضرت شیخ زینا

  آپکے اور خلیفہ شیخ المشائخ حضرت شیخ زینا ہیں۔ جن کے دادا حضرت شیخ جلال الدین کے دادا کے ہمراہ گازرون سے آئے تھےاور باغباتی کرتے تھے۔ آپ کا مزار قصبہ کے اندری ہے۔ (اقتباس الانوار)۔۔۔

مزید

حضرت خواجہ عبدالقادر

  آپ کے اور خلیفہ آپ کے فرزند کلاں حضرت خواجہ عبدالقادر ہیں۔ جنکا مزار حضرت سید محمود کے روضہ کے متصل ہے آپ کے دیگر فرزند خواجہ ابراہیم ہیں جو آپکے روضہ کے اندر بائیں جانب دفن ہیں۔ آپ کے اور فرزند حضرت خواجہ شبلی ہیں جو حضرت اقدس کے روضہ میں دائیں جانب دفن ہیں۔ آپ کے اور فرزند خواجہ کریم  الدین ہیں جو اپنے بڑے بھائی خواجہ عبدالقادر کے مزار کے متصل دفن ہیں۔ آپکے اور فرزند حضرت خواجہ عبدالوحد ہیں حضرت شیخ کے روضہ سے باہر دروازہ کے پاس دفن ہیں۔ (اقتباس الانوار)۔۔۔

مزید

حضرت شیخ نظام سنامی

  آپ کے تیسرے خلیفہ کا اسم گرامی حضرت شیخ نظام الدین جو قصبہ سنام میں دفن ہیں۔ انہوں نے حضرت شیخ جلال الدین کی خدمت میں تیس سال رہ کر فیض حاصل کیا۔ اور خلافت کے بعد آپ کو سنام جانے کا حکم ملا۔ آپ حضرت شیخ جلال الدین کی زندگی میں فوت ہوئے۔ آپ کے مزار  مقدس پر ایک مدت تک ایک شعلہنور مانند چراغ روشن رہا۔ اور ہر شخص نے اسکا مشاہدہ کیا۔ ایک دفعہ جب حضرت شیخ جلال الدین کسی تقریب کے سلسلہ میں وہاں تشریف لےگئے اور قبر پر فاتحہ پڑھا اور شعلہ نور کا مشاہدہ فرمایا تو شیخ نظام کی روح سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ اے شیخ نظام الدین تمہارے کمال میں کوئی شک نہیں ہے۔ مگر بہتر یہ ہے کہ  نور جو تمہاری قبر پر ظاہر ہے قبر کے اندر ہونا چاہئے اور خلق خدا سے پوشیدہ ہونا چاہئے تاکہ ادب شریعت  بحال رہے اگر نور کا ہمیشہ ظاہر ہونا ضروری ہوتا تو حضرت رسالت پناہﷺ کے روضہ اقدس پر بھی ہوتا۔ یہ بات کہتے ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ بہرام

  جن سے سلسلہ عالیہ چشتیہ کو بڑی استقامت حاصل ہوئی آپکا ذکر اسکے فوراً بعد آرہا ہے۔ آپ  کے دوسرے خلیفہ حضرت شیخ بہرام ہیں جنکا مزار قصبہ بیڈولی میں ہے۔ پہلے آپ حضرت شیخ کی اجازت سے قصبہ برناوہ میں رہتے تھے۔ جب دریائےجنا کا رُخ پنڈولی کی طرف ہوا تو لوگوں نے خوف زدہ ہوکر حضرت شیخ جلال الدین کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور وہاں تشریف لے چلیں تاکہ آپکے قدموں کی برکت سے دریا سے امان ملے۔ حضرت اقدس شیخ بہرام کو خط لکھ کر یہ معاملہ انکےسپرد کردیا اور فرمایا یہ فقیر وہاں جا سکتا ہے۔ تم برنا وہ چلو اور شیخ بہرام کو لے جاکر وہیں اسکی سکونت کراؤ۔ تم کو اس مصیبت سے نجات حاصل ہوگی۔ چنانچہ ان لوگون نے وہ خط شیخ بہرام کو دیا۔ شیخ بہرام نے خط پڑھتے ہی فوراً پنڈولی کی طرف روانہ ہوگئے۔ اور دریا کے کنارے پہنچ  کر اپنا عصا زمین میںنصب کردیا۔ جس سے دریا چند دنوں کے اندر دو میل دور چلا گیا۔ اور آج ۔۔۔

مزید

شیخ محمد شریف

حضرت شیخ محمد شریف شوک بابا کشمیری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید