منگل , 18 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Tuesday, 05 May,2026

شیخ ابوالفتح حمصی

حضرت شیخ ابوالفتح حمصی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ کنیبا

  آپ کا مزار شہر کے مشرق کی طرف نزدیک محل رانی ہے۔ جو شخص آپ کے مزار سے کوئی اینٹ اٹھاکر لے جاتا ہے اسکی مراد فوراً حاصل ہوجاتی ہے۔ اور بعد میں اُس اینٹ کےہموزن شیرینی لاکر تقسیم کرتا ہے اور پھر اینٹ کو جہاں سےاٹھایا تھا وہاں رکھدیتا ہے۔ انکے علاوہ تین خلفاء کے مزارات شہر پانی پت کے اندر محلہ قضات میں ہیں۔ ان حضرات کے علاوہ راقم الحروف کو آپکے دیگر خلفاء کے اسمائے گرامی کہیں سے معلوم نہیں ہوسکے۔ وصال مراۃا لاسرار میں لکھا ہے کہ حضرت شیخ جلال الدینکا وصال بتاریخ ۱۶؍ربیع الاول کو وقع پذیر ہوا۔ لیکن سن وصالکہیں نظر نہیں آیا لیکن آپ سلطان محمود بادشاہ  دہلی کے ہمعصر تھے۔ سلطان محمود ابن سلطان فیروز شاہ بیس سال اور دو ماہ حکومت کر کے بتاریخ پنجم ماہ ذیقعد  ۸۱۵؁ھ فوت ہوا۔ حضرت شیخ جلال الدین کا مزار مبارک پانی پت  میں ھاجت روائے اخلائق ہے۔ آپ کی عمر شریف ایک سو ستر ۱۷۰ سال س۔۔۔

مزید

حضرت سید محمود

  آپ کےاور خلیفہ  حضرت شیخ سید محمود ہیں۔ جن کا مزار حضرت شاہ بو علی قلندر کےروضہ سے شمال کی جانب واقع ہے۔ (اقتباس الانوار)۔۔۔

مزید

حضرت سید محمود

  آپ کےاور خلیفہ  حضرت شیخ سید محمود ہیں۔ جن کا مزار حضرت شاہ بو علی قلندر کےروضہ سے شمال کی جانب واقع ہے۔ (اقتباس الانوار)۔۔۔

مزید

حضرت شیخ مولانا نقی الدین اودھی

آپ بڑے متقی بزرگ تھے، آپ کا معمول تھا کہ رات کے آخری حصّہ میں اپنے وظائف کی کتاب لے کر گھر سے نکل جاتے اور دن بھر کسی (پوشیدہ) جگہ بیٹھ کر اس کے ذکر میں مشغول  رہتے اور پھر جب شام ہوتی تو  اپنے گھر واپس آجایا کرتے تھے۔ ایک دن چند ابدال آپ کے پاس تشریف لائے اور کہنے لگے کہ مولانا آپ تو ہمارے ساتھ رہیں، آپ نے فرمایا کہ بال بچوں کی ذمہ  داریاں میرے اوپر ہیں اس  لیے آپ جیسے لوگوں کے ساتھ جو گھر کے غم سے بھی مستغنی ہوں میرا ساتھ نہیں ہوسکتا۔ مولانا کے پاس ایک زر خرید لونڈی تھی، ایک دن اس کو اپنے بچّے یاد آگئے (جس کی وجہ سے وہ افسردہ اور آبدیدہ تھی) چنانچہ اُسے رات کو اپنے گھر سے باہر لے گئے اور کہا کہ تم اپنے گھر چلی جاؤ، جب صبح ہوئی تو آپ کی بیوی نے کہا کہ ہماری لونڈی موجود نہیں وہ کدھر گئی، مولانا نے جب اسے تمام ماجرا سُنایا تو وہ مولانا پر بہت خفا ہوئیں، چند دنوں کے بعد و۔۔۔

مزید

حضرت شیخ عبد الصمد سنامی

  آپ کےخلیفہ حضرت شیخ عبد الصمد سنامی ہیں۔ آپ کے سجاد گان اب تک موجود ہیں۔ آپ حضرت شیخ جلال الدین  کے ملفوظات کےجامعہ ہیں۔مزار آپکا قصبہ سنام میں ہے۔ (اقتباس الانوار)۔۔۔

مزید

ابو بکر قطبی

حضرت ابو بکر قطبی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ حسن

  آپ کے ایک خلیفہ حضرت شیخ حسن ہیں۔ جو پرگنہ بیانہ میں قصبہ بنہرہ میں مدفون ہیں۔ (اقتباس الانوار)۔۔۔

مزید

حضرت شیخ سخائی

آپ صاحب کشف و کرامات اور بڑے بابرکت بزرگ تھے سلسلہ سہروردیہ کے پیرد اور شیخ نورالدین کے معاصر تھے ایک روز شیخ سخائی کے دل میں آیا کہ اس جگہ ایک قطب قیام کرے گا، اس کے بعد آپ نے ایک دن ایک محفل کے انعقاد کا انتظام کیا اور اس میں شیخ نورالدین قطب کو دعوت دی اور کہلا بھیجا کہ میرے دل میں خیال آیا تھا کہ اس جگہ ایک قطب کا نزول ہوگا، اور چونکہ اس زمانہ میں آپ کے ماسوا اور کوئی قطب نہیں لہذا مہربانی فرماکر غریب خانہ پر تشریف لائیں، شیخ نورالدین آپ کی دعوت قبول کرکے آپ کے گھر تشریف لے گئے، کھانا کھانے کے بعد غزل خواں آگئے شہر کے بڑے بڑے اولیائے کرام، مفتیان عظام اور قضاۃ وغیرہ بھی موجود تھے، جب سماع  کی محفل شروع ہوئی تو شہر کے قاضی صدر جہاں کھڑے ہوکر فرمانے لگے کہ سماع ناجائز ہے، یہ کہہ کر اس محفل سے چلے گئے، ان کے بعد مفتیان کرام اور دوسرے لوگ جو سماع کے عدم جواز کے قائل تھے وہ بھی اُٹھ کر۔۔۔

مزید

حضرت شیخ سخائی

آپ صاحب کشف و کرامات اور بڑے بابرکت بزرگ تھے سلسلہ سہروردیہ کے پیرد اور شیخ نورالدین کے معاصر تھے ایک روز شیخ سخائی کے دل میں آیا کہ اس جگہ ایک قطب قیام کرے گا، اس کے بعد آپ نے ایک دن ایک محفل کے انعقاد کا انتظام کیا اور اس میں شیخ نورالدین قطب کو دعوت دی اور کہلا بھیجا کہ میرے دل میں خیال آیا تھا کہ اس جگہ ایک قطب کا نزول ہوگا، اور چونکہ اس زمانہ میں آپ کے ماسوا اور کوئی قطب نہیں لہذا مہربانی فرماکر غریب خانہ پر تشریف لائیں، شیخ نورالدین آپ کی دعوت قبول کرکے آپ کے گھر تشریف لے گئے، کھانا کھانے کے بعد غزل خواں آگئے شہر کے بڑے بڑے اولیائے کرام، مفتیان عظام اور قضاۃ وغیرہ بھی موجود تھے، جب سماع  کی محفل شروع ہوئی تو شہر کے قاضی صدر جہاں کھڑے ہوکر فرمانے لگے کہ سماع ناجائز ہے، یہ کہہ کر اس محفل سے چلے گئے، ان کے بعد مفتیان کرام اور دوسرے لوگ جو سماع کے عدم جواز کے قائل تھے وہ بھی اُٹھ کر۔۔۔

مزید