حضرت علامہ شیخ محمد بن غلام رسول فاضل سورتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ۔۔۔
مزید
آپ سلطان فیروز کے رشتہ داروں میں سے تھے، آپ کا اصلی نام شیر خاں تھا، عرصہ دراز تک غنی اور مالدار رہے اور امیروں جیسا لباس پہنتے تھے، اچانک اللہ عزَوجل نے ان کے دل کو اپنی جانب متوجہ کرلیا اور فقیروں اور درویشوں کی مجلس میں بیٹھنے لگے اور شیخ رکن الدین یمان ابن شہاب الدین امام کے مرید ہوگئے، (اس کے بعد آپ کی کیفیت یہ ہوتی کہ) اکثر اوقات مست رہا کرتے، اللہ عَزَوَّجَل کی وحدت میں مست ہوکر مستانہ وار باتیں کیا کرتے، آپ کی طرح کسی گذشتہ بزرگ نے نہ مستی کا اظہار کیا اور نہ ہی حقیقت کے اَسرار بیان کیے، آپ کی آنکھوں سے اکثر و بیشتر اشک و آنسو گرتے رہتے تھے اور وہ اتنے گرم ہوتے کہ اگر کسی کی ہتھیلی پر گرتے تو وہ اپنی ہتھیلی پر ان کی گرمی کو محسوس کرتا۔ ہجرِ رسولِ پاک میں روئے جو عمر بھر مولا مجھے تلاش اُسی چشمِ تر کی ہے (حدائق بخشش) آپ نے تصوف میں اک۔۔۔
مزید
صاحب مراۃ الاسرار فرماتے ہیں کہ حضرت شیخ عالم بن شیخ منصور جو اپنے والد ماجد کے سجاں نشین تھے۔ میں نے بارہا انکا شرفِ زیارت حاصل کیا ہے۔ آخر عمر میں آپ عالم ارواح یا شغل معنوی میں مشغول رہتے تھے۔ رحمۃ اللہ علیہ۔ (اقتباس الانوار)۔۔۔
مزید
شیخ بڈھ نے ایک خرقۂ خلافت اپنے چھوٹے بیٹے حضرت شیخ منصور کو بھی عطا فرمایا۔ یہ شیخ منصور بڑے باکمال بزرگ تھے۔ آپ اکثر سفر میں رہتے تھے اور اکثر مشائخ وقت مثل حضرت شیخ جلال تھانیسری قدس سرہٗ وغیرہ کی صحبت حاصل کی تھی۔ آپ بڑے صاحب ریاضت ومجاہدہ تھے۔ اور تربیت مریدین میں مشغول رہتے تھے۔ (اقتباس الانوار)۔۔۔
مزید
غرضیکہ شیخ بڈھ قدس سرہٗ کے کشف و کرامات بہت ہیں جنکی اس کتاب میں گنجائش نہیں ہے آپ نے آخر عمر میں مشائخ چشت کی امانت اپنے بڑے بیٹے شیخ پیر کے حوالہ فرمائی اور پردہ پوشی کرلی۔ رحمۃ اللہ علیہ۔ (اقتباس الانوار)۔۔۔
مزید
آں پیشوائے جمیع اہل کمال، آں سیراب از تر شحات ذوق وحال، نور محض در طلسم جسمانی، آئین صحو وسکر رابانی، گم گشتہ ودر بحر ذات سرمد، قطب دائرہ وجود، شیخ المشائخ حضرت شیخ محمد قدس سرہٗ اپنے والد ماجد حضرت شیخ عارف بن شیخ احمد عبدا الھق قدس سرہٗ کے خلیفہ جانشین تھے۔ آپ بادۂ نوشان توحید کے سر حلقہ، اور دُد کشان مشرب تجرید وتفریس کے سر دفتر تھے۔ آپ فقر و فنا اور کشف و صفا میں یگانۂ روزگار تھے۔ آپ اس قدر بلند ہمت تھے کہ ذات مطلق کےمشاہدہ کے بغیر ایک لمحہ نہیں رہ سکتے تھے۔ آپ ہر وقت استغراق ذات مطلق میں غرق رہتے تھے۔ اور عالم کون و مکان سے ہمیشہ آنکھیں بند رکھتے تھے۔ آپ اپنے اسم مبارک ‘‘محمد’’ کی طرح ہر شخص کے نزدیک محمود محمد تھے۔ آپ کے لیے یہی شرف کافی ہے کہ آپکا اسم گرامی حضرت رسالت پناہ کےمشرب ہی سے بہرہ یاب تھے۔ بلکہ اپنے آپکو حض۔۔۔
مزید