حضرت شیخ نظام الدین کے گیارہویں خلیفہ حضرت سید قاسم برہان پوری ہیں۔ (قتباس الانوار)۔۔۔
مزید
حضرت اقدس کے دسویں خلیفہ حضرت شیخ عبدالرحمٰن کشمیری جنکا مسن لاہور تھا۔ (قتباس الانوار)۔۔۔
مزید
آپ کے آٹھویں خلیفہ حضرت شیخ مصطفیٰ ہیں۔ جن کا مسکن و مدفن معلوم نہیں ہوسکا۔ (قتباس الانوار)۔۔۔
مزید
شیخ محمد مرزا جنکا روضہ سرہند میں ہے میر سید اللہ بخش کے اکمل خلفاء میں سے ہیں۔ شیخ محمد مرزا بڑے باکمال درویش تھے جب سے انہوں نے اپنے شیخ کے حکم کے مطابق خلوت اختیار کی ساری عمر ایک قدم باہر نہ رکھا۔ رحمۃ اللہ علیہ۔ (قتباس الانوار)۔۔۔
مزید
حضرت شیخ نظام الدین بلخی قدس سرہٗ کے تیسرے خلیفہ قطب وقت حضرت شیخ پائندہ بنوری ہیں جو مستِ جام توحید ومحو شراب تفرید تھے۔ آپ کی سکونت قصبۂ بنور میں تھی۔ جو شہر سہر اند سے چودہ پندرہ کوس کے فاصلہ پرہے۔ ابتدائے حال میں آپ نے شدید ریاضت و مجاہدہ کیا۔ اور اسکے بعد آپ کا مجاہدہ مشاہدہ میں مبدل ہوا۔ روایت ہے کہ کہ شدیدی مجاہدہ کے بعد آپ پر شغل باطن کے آثار وتصرفات ظاہر ہونے لگے۔ اُن دنوں آپ ذکر نفی واثبات بعض اوقات بطریق جہری اور بعض اوقات بطریق خفی کرتے تھے۔ ذکر سےشہر کےدروازے کھل جاتے تھے رات کے وقت آپ جب یہ شغل کرتے تھے اور لاَاِلَہَ اِلاَّ اللہ کہتے تھے تو شہر کے تمام گھروں میں قفل اور زنجیر ٹوٹ جاتے تھے اور گھروں کے دروازے کھل جاتے تھےاور صبح تک کھل رہتےتھے۔ جب شہر کے باشندوں پر یہ راز کھ۔۔۔
مزید
شیخ ولی محمد نارنولی جو اکبر آباد میں رہتے تھے حضرت شیخ ح سین بھوری کے اکمل خلفاء میں سے تھے۔ شیخ حسین کا مزار بھوہر میں حاجت روائے خلق ہے۔ (قتباس الانوار)۔۔۔
مزید
آپکے دوسرے خلیفہ حضرت شیخ عبدالغفور اعظم پوری تھے۔ اخبار الاخیار میں لکھا ہے کہ انہوں نے آنحضرتﷺ کو خواب میں دیکھا اور آنحضرتﷺ نے انکو یہ درود شریف تلقین فرمایا اللھم صل علیٰ محمد وآلہ بعد واسمائک الحسنیٰ۔ آپکے کوچہ پر طریقت میں آنے کا واقعہ یہ ہے کہ آپ کا پیشہ ملازمت تھا اور ہمیشہ سپاہ گری کرتے تھے۔ ایک دن بازار میں کھڑے تھے جب حضرت شیخ شرف الدین یحییٰ منیری کے کے دنیا اور اسکی مذمت کا ذکر تھا۔ پڑھتے ہی آپکے دل سے دنیا کی محبت جاتی رہی اور سارا مال واسباب راہ حق میں دیکر خلوت نیشن ہوگئے اور یاد خدا میں مشغول ہوئے ایک رات آخر شب آپ خلوت میں بیٹھے تھے کہ سامنے کی دیوار پھٹ گئی اور وہاں سے ایک سوار نمودار ہوا جس نے آپ سے کہا ’’السلام علیکم یا سراج العارفین‘‘ یہ کہہ کر دوسری طرف یعنی مشرق کی دیوار سے ن۔۔۔
مزید
حضرت شیخ رکن الدین کے وصال کے عد آپ کے فرزند ارجمند حضرت شیخ المشائخ شیخ عزیز اللہ قدس سرہٗ م سند خ پر متمکن ہوئے۔ حضرت شیخ عزیز اللہ قدس سرہٗ مسند خلافت پر متمکن ہوئے۔ حضرت شیخ عزیز اللہ اس قدر باکمال بزرگ تھے کہ جو شخص آپکا خرقہ پہنتا تھا پہنچتے ہی فوراً صاحب حال ہوجاتا تھا۔ مراۃ الاسرار میں لکھا ہے کہ حضرت قطب العالم قدس سرہٗ کے حسن تربیت سے اس قدر خلفاء مرتبہ کمال کو پہنچ کر ہدایت خلق میں مشغول ہوئے کہ شمار سے باہر ہیں۔ ان میں سے چند حضرات کا ذکر یہاں درج کیا جاتا ہے۔ (قتباس الانوار)۔۔۔
مزید
روایت ہے کہ شیخ خضر عرف شیخ خان جو حضرت قطب العالم کے خلیفہ بزرگ تھے شروع میں جب طلب حق میں شاہ آباد آئے اورحضرت اقدس سے شرف بیعت حاصل کیا تو آپکے حکم سے ریاضت و مجاہدہ میں مشغول ہوگئے۔ کچھ عرصہ کے بعد ان پر شغل باطن کا اس قدر غلبہ ہوا کہ انوار واسرار نمودار ہوئے اور سخت استغراق اور محویت کی حالت طاری ہوگئی۔ ایک دن فجر کی نماز کے بعد ان پر استغراق کا ایسا غلبہ ہوا کہ مجمع عام میں دیوار پر نظر جماکر عالم حیرت میں کھڑے ہوگئے۔ لوگوں نےجس قدر آواز دی انہوں نےکچھ جواب نہ دیا کیونکہ ان کو اس جہان کی خبر تک نہ تھ ی۔ لیکن جب حضرت قطب العالم نے آواز دی تو تندی سے جاب دیا آپ بھی دوسرے لوگوںکی طرح ہوگئے ہیں حالانکہ شیخ خان نہایت حلیم الطبع تھے اور یہ ممکن نہ تھا کہہوشیاری کی ھالت میں وہ حضرت شیخ سے اس قسم کا خطاب کرتے۔ لیکن اس حالت میں وہ خود نہیں حق ت۔۔۔
مزید
حضرت شیخ فخر الدین کا واقعہ یوں ہے کہ آپ اپنے ح جرہ کے اندر کسی کو نہیں آنے دیتے تھے۔ جو شخص ملنے آتا تھا آپ حجرہ سے باہر آکر ملاقات کرتے تھے۔ ایک دن شہر ردولی کا حاکم ملاقات کیلئے حاضر ہوا۔ حضرت مخدوم قاضی صفی بھی اسکے ہمراہ تھے۔ لیکن شیخ فخر الدین نے حجرہ کا دروازہ نہ کھولا اور اندر سے کہہ دیا کہ مجھے فراغت نہیں ہے۔ پچاس سال تک پانی نہ پیا مخدوم صفی الدین نے مصروفیت کا سبب دریافت کرنے کی کوشش کی لیکن شیخ فخر الدین کچھ نہیں بتاتے تھے جب بہت اصرار کیا تو انہوں نے فرمایا کہ پیاس کی حرارت شدت پر ہے مخدوم صفی الدین نے کہا کہ پانی موجودہے اور ماہ رمضان بھی نہیں آپ پانی کیوں نہیں پی لیتے۔ فرمایا کہ جس زمانے میں میں جونپور میں آپ کے ساتھ پڑھتا تھا اس وقت سےلیکر آج تک پانی نہیں پیا۔ جسکی وجہ سے بعض اوقات اس قدر پیاس کا غلبہ ہوتا ہے کہ اگر دریا پر منہ رکھوں ۔۔۔
مزید