اس لیے مختصر کتاب میں حضرت اقدس کے ان گیارہ خلفاء کا ذکر کیا جاتا ہے آپ کے پہلے خلیفہ حضرت خواجہ ابی احمد بن حضرت خواجہ مودود چشتی ہیں جو اپنے والد ماجد کے جانشین ہوئے۔ آپ برے باعظمت اور صاحب کرامت بزرگ تھے آپ کا وصال ۵۷۷ھ میں خلیفہ ابو العباس احمد بن مستفی جسکا لقب ناصر عباسی ہے کے زمانے میں ہوا۔ آپ سلاطین سلجوق کے بھی ہم عصر تھے۔ (اقتباس الانوار)۔۔۔
مزید
آں موصوف بہ کمالات استقامت ودرستی، قطب الاقطاب، خواجہ ناصر الدین ابو یوسف چشتی قدس سرہٗ بن محمد سمعان جمال معرفت و کمال حقیقت سے آراستہ تھے۔ آپ غایت حضور کی وجہ سے دریائے احدیت میں غرق تھے اور مجاہدات وریاضات، وکرامات میں ثانی نہیں رکھتے تھے۔ آپ اپنے ماموں حضرت خواجہ ابو محمد چشتی قدس سرہٗ کے مرید وخلیفہ تھے۔ آپ کی عمر چوراسی سال تھی۔ حضرت خواجہ ابو محمد چشتی نے آپکی اپنے فرزند کی طرح پرورش فرمائی اور ظاہری وباطنی تربیت فرمائی۔آپ کی عمر چھتیس سال تھی آپ کے ماموں اور پیر ومرشد کا وصال ہوگیا۔ اور آپ ان کی مسند پر بیٹھے۔ اس کے بعد آپ پر ایسے اسرار ورموز منکشف ہوئے کہ بشر کے دہم وہم گمان میں بھی ن ہیں آسکتے۔ آپ صحیح النسب سید حسنی وحسینی ہیں۔ آپ کا نسب نامہ یہ ہے حضرت خواجہ ناصر الدین ابو یوسف بن حضرت خواجہ سمعان بن سید ابراہیم، بن سید محمد بن سید حسن بن ۔۔۔
مزید
شیخ نورالحق محدث دہلوی آپ شیخ نور قطبِ عالم کے نام سے مشہور تھے اور شیخ علاء الحق کے بیٹے مرید اور خلیفہ تھے، ہندوستان کے بہت بڑے ولی اور صاحب ذوق و شوق اور صاحب کرامت بزرگ تھے۔ آپ اپنے والد محترم کی خانقاہ کے جملہ درویشوں اور فقیروں کی خدمت کرتے اور اپنے ہاتھ سے ان کے کپڑے دھویا کرتے اور ان کی ضروریات کے لیے پانی گرم کرکے دیا کرتے تھے، ابتداء میں آپ کے سپرد پانی کا انتظام تھا اتفاق سے ایک دن آپ پانی کے انتظام میں مصروف تھے کہ اچانک ایک فقیرکے پیٹ میں درد ہوا اور وہ سیدھا آبخانہ میں گھس آیا اور اسے اتنا بڑا دست آیا کہ جس سے نور الحق کے تمام کپڑے خراب ہوگئے، اتفاقاً اسی وقت آپ کے والد بزرگوار شیخ علاؤ الحق بھی وہاں سے گزرے تو اپنے فرزند نور الحق کو اس حالت میں دیکھ کر بہت خوش ہوئے اس کے بعد آپ کے سپرد ایک دوسرا کام کردیا گیا کہ اب یہ کام کیا کرو۔ شیخ حسام الدین ما۔۔۔
مزید
حضرت شیخ احمد بن عبدالقادر شافعی کوکنی (ممبئی) رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ۔۔۔
مزید
آپ نصیرالدین محمود دہلوی کے بھانجے، خلیفہ، اور خادِم تھے، شیخ نصیرالدین کی کتاب ’’خیرالمجالس‘‘ اور ملفوظات میں آپ کا ذکر ہے۔ آپ کے ایک مرید نے اپنی کتاب ’’جندائن‘‘ کی ابتداء میں آپ کی مدح و تعریف کی ہے، آپ کی قبر شیخ نصیرالدین کے گنبد کے پائیں والے اُس گنبد میں ہے جو قبرستان کے صحن والے حصہ میں ہے۔ اخبار الاخیار۔۔۔
مزید
آپ کے آباء و اجداد نے مشہد سے آکر ملتان میں سکونت اختیار کی، سلطان فیروز کے زمانہ میں آپ ایک فوجی کی حیثیت سے ملتان سے دہلی تشریف لائے۔ آپ فوج ہی میں تھے کہ سلطان فیروز نے آپ کی بزرگی اور علمی کارناموں کے پیش نظر آپ کو اپنے اس مدرسہ میں جہاں اس نے حوض خاص علائی اور اپنا مقبرہ بنوایا تھا مدرس مقرر کردیا، آپ نے برسوں تک اس مدرسہ میں تعلیم دی اور لوگوں کو علم سے نوازا، آپ جمعرات کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خواب میں زیارت کیا کرتے تھے، آپ نے قاضی نصیرالدین بیضاوی کی مشہور کتاب ’’لب اللبا ب فی علم الاعراب‘‘ کی ایک مفصل شرح بھی لکھی ہے جو ’’یوسفی‘‘ کے نام سے معروف ہے۔ ’’لب اللباب‘‘ ایک مختصر اور مفید کتاب ہے جو ہمارے ہاں دہلی میں بہت مشہور ہے، نیز آپ نے مشہور کتاب منار کی بھی ایک شرح لکھی ہے جو ’&rsq۔۔۔
مزید
آپ بہت بڑے عقلمند تھے، سلطان محمد تغلق کے زمانے میں دہلی سے نارنول میں تشریف لے گئے تھے، ابتدائی زمانہ میں شادی سے پہلے آپ حج کے اِرادہ سے نکلے راستہ میں جب گجرات پہنچے تو ایک مسجد میں دیکھا کہ ایک معتزلی منبر پر اپنے مذہب معتزلہ کے پیش نظر بندوں کے خالق افعال ہونے پر تقریر کر رہا ہے، اس نے اپنی تقریر کے دوران لوگوں سے کہا کہ دیکھو یہ میرا ہاتھ ہے، اگر میں اسے کھولنا چاہتا ہوں تو یہ کھلتا ہے اور اگر مٹھی بند کرنا چاہتا ہوں تو بند ہوجاتی ہے۔ قاضی شمس الدین صاحب کھڑے ہوئے اور آپ نے اس معتزلی سے فرمایا کہ اگر آپ اپنے تمام افعال کے خالق ہیں اور اپنے وجود کے متعلق سب کچھ کرسکتے ہیں تو پھر اپنے ہاتھ کو اپنی پیٹھ پر لے جا کر کیوں نہیں ملا سکے؟ قاضی شمس الدین کا یہ اعتراض حاکم گجرات کو بہت پسند آیا اور اس پسندیدگی کا اظہار اس طرح کیا کہ دارالحرب سے جو لونڈیاں آئی تھیں ان میں سے ایک لون۔۔۔
مزید