پیر , 17 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 04 May,2026

کاتب حروف کے منجھلے چچا سید  السادات نبیرہ سید المرسلین قطب الحق رحمۃ اللہ علیہ

  سید با صفا جگر گوشۂ مصطفے حسن و ملاحت کی کان لطافت و ظرافت کے سر چشمے دریاے پیغمبری کے چمکدار موتی قصر حیدری کے شب چراغ گوہر سید السادات نبیرہ سید المرسلین قطب الحق والدین حسین ابن سید محمد کرمانی ہیں جو کاتب حروف کے منجھلے چچا تھے یہ بزرگ علم و فضل و ایثار ظاہر و باطن کی طہارت اور لطافت طبع میں بے نظیر زمانہ تھے اور عقل کامل فراست وافر رکھتے تھے جب تک زندہ رہے مجردانہ زندگی بسر کی اور متعلقین و نیز تزویج کے تعلق سے مبرار ہے آپ نے سلطان المشائخ کے خلیفہ مولانا فخر الدین زرادی کی خدمت میں علوم دینی کی تحصیل کی اور ہمیشہ مکان کا دروازہ کھلا رکھا جو شخص چاہتا بلا تامل آپ کے مکان میں چلا آتا اور غریب الوطنوں اور حاجتمندوں اور شہر کے باشندوں کو آمد و رفت کرنے سے کوئی مانع و مزاحم نہ ہوتا کیونکہ آپ کے مکان پر کوئی چوبدار اور دربان مقرر نہ تھا حتی کہ لوگ اس مقام تک بڑی جرأت و دلیری سے چلے۔۔۔

مزید

کاتب حروف کے عم بزرگوار سید کمال الدین امیر احمد ابن سید محمد کرمانی

  سید با  وقار سرور ساداتِ روزگار سید کمال الدین امیر احمد ابن سید محمد کرمانی ہیں جو کاتب حروف کے عم  بزرگوار تھے اور  مردی  وجوانمردی میں حیدر ثانی۔ صدق وافر اور فراستِ کامل رکھتے اور درویشوں اور لشکری محتاجوں کو چاندی سونے کی کافی مقدار سِکّے دیتے اگرچہ یہ  بزرگ گاؤں اور  زمین کے مالک تھے اور طبل و  علم برداری کا عہدہ رکھتے تھے لیکن باوجود ان علائق کے تمام تصوفی اوصاف کے ساتھ موصوف تھے۔ عقل کامل رکھتے اور اپنے تمام کاموں کا انجام بمقتضایٔ عقل دیتے تے۔  امیر خسرو خوب فرماتے ہیں۔ کارے نکرد جز بکمالات علم و عقل گوئی کہ صد عمامہ بزیرِ کلاہ داشت سبحان اللہ عجب قوت رکھتے تھے کہ بجز  صدق و راستی کے زبانِ مبارک پر کوئی بات جاری نہیں ہوئی تھی۔ اور یہ تمام فضائل اس تربیت و پرورش کا ثمرہ تھا جو آپ کو سلطان المشائخ کی نظر مبارک میں حاصل ہوئی تھی۔ س۔۔۔

مزید

خواجہ عزیز الدین رحمۃ اللہ علیہ

  فخر زہاد جمال عباد  خواجہ عزیز الملۃ والدین ابن خواجہ ابو بکر مصلّے دار خاص ہیں جو اپنے زمانہ میں علم و تقوی اور ورع و احتیاط  میں لاثانی اور عدیم النظیر تھے۔ اور سلطان المشائخ کی قرابت کے شرف سے مشرف و ممتاز تھے۔ اس بزرگ نے سلطان المشائخ کے چند ملفوظات ایک جگہ مرتب کر کے ایک دیوان میں جمع کیے ہیں اور ان کا نام مجموع الفوائد رکھا ہے۔ اس تالیف میں آپ نے اپنا نام عبد العزیز ابن ابو بکر خواہر زادہ سلطان المشائخ لکھا ہے۔ سبحان اللہ سالہا سال گزر گئے ہیں یہ عزیز الوجود شخص راہ طریقت پر سیدھا چل رہا ہے اور پچپن سے بڑھاپے تک کسی فرض نماز کی تکبیر اولی فوت نہیں ہوئی ہے۔ آپ کا قاعدہ تھا کہ مسجدوں میں گشت لگاتے پھرتے اور جب تک اولی نہ پاتے نیت نہ باندھتے جب آپ عین عالم شباب میں قدم رکھا اور تعلیم و تعلم میں غلو کیا تو جو کچھ آپ حاصل کرتے تھے اسے عمل کے ساتھ مقرون کرتے تھے یعنی آپ کا۔۔۔

مزید

مولانا قاسم رحمۃ اللہ علیہ

  مولانا قاسم جو سلطان المشائخ قدس اللہ سرہ العزیز کے بھانجوں میں سے ایک نہایت نامور  بلند اقبال شخص ہیں۔ خواجہ عمر کے  صاحبزادے اور  خواجہ ابو بکر کے بھتیجے ہیں جو لطائف التفسیر کے مشہور مصنف ہیں۔ آپ تفسیر کے دیباچہ میں فرماتے ہیں کہ رحمت پرور دگار کا امید وار بندہ قاسم جناب سید السالکین برہان العاشقین نظام الحق والدین کے حقیقی بھانجے کا فرزند عرض کرتا ہے کہ جب خدا تعالیٰ نے اس فقیر پر اپنی عنایت سابقہ کی اور اس بیچارہ کو عدم کے پردہ سے عالم وجود میں لایا تو طرح طرح کی نعمتوں کے ساتھ مخصوص کیا جس میں سے بعض نعمتیں جو فلاح دارین کی موجب اور دین و دنیا کی سعادت  کے باعث ہیں۔ منجملہ ان کے ایک یہ ہے کہ اس خاکسار کو سلطان المشائخ قطب الاقطاب عالم کی نظرِ مبارک میں ملحوظ رکھا اور آپ نے اپنے طرح طرح کے باطنی انفاس سے جو حقیقت میں غیب کی کان اور لاریبی علوم کے قرار کی جگہ۔۔۔

مزید

خواجہ ابو بکر رحمۃ اللہ علیہ

  زاہدِ یگانہ عابدِ زمانہ خدا تعالیٰ کا منتخب و بر گزیدہ شرف اختصاص کے ساتھ مخصوص خواجہ ابو بکر مصلی دار خاص ہیں جو سلطان المشائخ کی قرابت کے شرف کے ساتھ مشرف تھے اور خلا ملا میں آپ کی خدمت میں مصروف رہتے تھے اگرچہ آپ کو سلطان المشائخ کی خدمت میں سے کوئی وقت سانس لینے کو نہیں ملتا تھا اور ہر وقت اس میں مصروف و مشغول رہتے تھے۔ لیکن پھر بھی ہمیشہ روزہ سے رہتے تھے بلکہ کئی کئی دن گزر جاتے اور آپ افطار نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ آپ کا شکم مبارک پیٹھ سے لگ جاتا تھا۔ قطع نظر اس کے آپ انتہا درجہ کی مشغولی اور سخت مجاہدہ میں محو رہتے تھے۔ جب جمعہ کے دن سلطان المشائخ کا مصلا نماز  فجر کے بعد کیلوکھری کی جامع مسجد میں لے جایا کرتے تھے۔ جب جمعہ کا دن ہوتا  تھا تو سلطان المشائخ فرمایا کرتے تھے کہ خواجہ ابو بکر میرا مصلّٰی جامع مسجد میں لے گئے ہیں اور مشغول بحق ہیں۔ خواجہ ابو بکر کو سماع ک۔۔۔

مزید

خواجہ تقی الدین نوح رحمۃ اللہ علیہ

  خواجہ تقی الملۃ والدین نوح ہیں جو علم کے ساتھ موصوف اور تحمل و وقار کی طرف منسوب تھے۔ فرشتوں کی سی صفات اپنے میں رکھتے تھے اور  پسندیدہ ذات۔ حضرت سلطان المشائخ کی شرفِ قرابت سے مشرف تھے اور خواجہ رفیع الدین ہارون کے چھوٹے بھائی تھے۔ سلطان المشائخ کی نظر خاص کے ساتھ مخصوص تھے اور جوانی ہی کے زمانہ میں بزرگوں کے اوصاف  حاصل کر لیے تھے۔ کاتبِ حروف اس بزرگ کے فضائل و  مناقب کیونکر لکھ سکتا ہے۔ جبکہ خود سلطان المشائخ نے اس بزرگ کے بارہ میں یوں ارشاد فرمایا ہے کہ یارو! اسے عزیز رکھو کیونکہ یہ نہایت نیک آدمی ہے۔ حافظ قرآن ہے اور  ہر جمعہ کی شب کو ختم کرتا ہے۔ تعلیم و تعلم میں اس کی خواہش بڑھی ہوئی ہے اور علمی حصہ بہت کچھ حاصل ہے باوجود ان پسندیدہ صفات کے کسی سے کچھ غرض نہیں رکھتا ہے اور کسی کی دوستی و دشمنی سے کام نہیں ہے۔ غرض کہ ہر طرح سے نہایت صالح اور نیک بخت ہے یہاں۔۔۔

مزید

خواجہ رفیع الدین  ہارون رحمۃ اللہ علیہ

  خواجہ رفیع الملۃ والدین سلطان المشائخ کے حقیقی بھانجے ہیں جو مکارم اخلاق کے ساتھ موصوف اور جناب سلطان المشائخ کی قربت و شفقت  کے ساتھ مخصوص و معروف تھے اور بچپن کے زمانہ سے بڑھا پے تک سلطان المشائخ کی نظر مبارک میں پرورش پائے ہوئے تھے۔ آپ سلطان المشائخ کی مہربانی و شفقت کی وجہ سے کلام ربانی کے حافظ ہوگئے تھے۔ سبحان اللہ اس شفقت و مہربانی کا کیا کہنا جو سلطان المشائخ کو آپ پر تھی کہ اگر کسی وقت یہ بزرگ کھانا کھاتے وقت دستر خوان پر نہ ہوتے تو سلطان المشائخ با وجود اس قدر بزرگوں کے ہوتے کھانے میں توقف کرتے اور ان بزرگ کے پہنچنے کا انتظار کرتے۔ آپ کے پاس جو تحفے اور ہدیئے آتے ان میں سے کافی حصہ آپ کو بھیجتے او راپنے تمام اقرباء کی فہرست میں اس بزرگ کااول نمبر رکھتے اور اپنے فرزندوں کی جگہ ظاہر و باطن میں آغوش محبت اور سایۂ عاطفت میں پرورش کرتے تھے ہر وقت انہیں دیکھ کر مسکراتے اور ن۔۔۔

مزید

شیخ کبیر الدین رحمۃ اللہ علیہ

  دوسرے شیخ زادے یعنی شیخ کبیر الملۃ والدین کے فضائل خاص میں جو محبت و وفا کے آئینےاور خلفاء  و دلا کے پورے فوٹو تھے یہ بزرگ زادہ شیخ عزیز الدین کے چھوٹے بھائی اور شیخ شیوخ العالم کے نواسے ہیں جنہیں نے ابتدائے جوانی سے دم وفات تک حضرت سلطان المشائخ کے سایۂ عاطفت اور نظر مبارک میں پرورش  پائی اور کبھی آپ کی صحبت سے جدا نہیں ہوئے آپ خانقاہ کی دیوار کے تلے مقام سکونت رکھتے تھے اور ہمیشہ سلطان المشائخ کے ساتھ دستر  خوان پر کھانا کھاتے تھے۔ اگر اتفاقاً آپ دستر خوان بچھتے وقت تشریف نہ رکھتے تو سلطان المشائخ کے حکم سے عبد الرحیم ان بزر گوار کا حصہ ان کے مکان پر پہنچا دیتے۔ ایک دن کا ذکر ہے کہ یہ بزرگوار سلطان المشائخ کی خدمت  میں حاضر تھے اور ایک شخص چند کاک آپ کے سامنے لایا۔ سلطان المشائخ نے اقبال خادم کو بلا کر فرمایا۔ کہ انہیں تقسیم کردو۔ اقبال نے تمام حاضرین جلسہ کو و۔۔۔

مزید

خواجہ عزیز الدین رحمۃ اللہ علیہ

  شیخ زادہ دلکشا والی ولایت والا خواجہ عزیز الملۃ والدین صوفی ہیں۔ ان بزرگوار کی والدہ محترمہ بی بی مستورہ شیخ شیوخ  العالم فرید الحق والدین قدس سرہ العزیز کی صاحبزادی ہیں۔ یہ شیخ زادے بے شمار فضائل اور انگنت معانی و لطائف رکھتے تھے اور حضرت سلطان المشائخ کے روح افزا ملفوظات سے ایک کتاب مرتب کی تھی جسے تحفۃ الابرار فی کرامت الاخیار کے نام سے آج تک شہرت حاصل ہے اور جو سلطان المشائخ کی نظر مبارک سے اکثر اوقات گزری ہے ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ سلطان المشائخ کے حضور میں دستر خوان بچھایا گیا تھا اور تمام حاضرین کھانا کھانے کے لیے بیٹھے تھے۔ مولانا وجیہہ الدین پائلی ان شیخ زادے سے اونچی جگہ بیٹھ گیا۔ سلطان المشائخ نے دیکھا تو فرمایا۔ مولانا! جس طرح میں اس بات کو دوست نہیں رکھتا کہ کوئی مجعد متعمم سے بلند جگہ بیٹھے اسی طرح میں اسے بھی پسند نہیں کرتا کہ کوئی متعمم میرے مخدوم زادوں سے اونچے م۔۔۔

مزید

خواجہ موسیٰ رحمۃ اللہ علیہ

  علم میں مشہور حلم میں مذکور زہد و تقوی کے ساتھ موصوف خواجہ موسیٰ ابن مولانا بدر الدین اسحاق ہیں جو خواجہ محمد امام کے برادر حقیقی تھے۔ ان بزرگوار نے بھی جناب سلطان المشائخ کی نظر مبارک میں پرورش پائی تھی اور تمام علوم میں کمال حاصل کیا تھا اپنے زمانہ کے ذو فنون اور فرزانہ عصر تھے آپ نے اصول فقہ میں بزودی مولانا وجیہہ الدین پائلی سے پڑھی تھی اور کلام ربانی کے حافظ تھے تحقیق سخن میں کوشش کرتے اور طبع فیاض اور  لطافت بہت کچھ رکھتے تھے عربی و فارسی اشعار  و نظم میں پورا حصہ حاصل تھا اور اکثر اوقات پر سوز غزل کہتے تھے جو لوگ علم موسیقی میں مہارت نامہ اور ورک کامل رکھتے تھے خاص کر علم حکمت میں وہ کمال پایا تھا جس کی نظیر اس زمانہ میں باوجود تلاش کے بھی دستیاب نہیں ہوتی تھی او رساتھ ہی تجربات حکمت میں بھی پرلے درجہ کا کمال حاصل تھا اپنے بڑے بھائی خواجہ محمد  امام کی غیبت میں۔۔۔

مزید