آپ شیخ قطب الدین بن شیخ محمد غوث صاحب چاوہ والہ رحمتہ اللہ علیہ کےفرزندارجمندتھے۔خرقہ خلافت و اجازت شیخ غلام حسن بن شیخ بڈھاصاحب سلیمانی بھلوالی رحمتہ اللہ علیہ سے حاصل کیا۔ تعلیم آپ نے ابتدأ میں قرآن مجید حفظ کیااور قدرے تعلیم ظاہری بھی پائی ۔ اسرارطریقت و حقیقت سے واقف تھے۔ اخلاق و عادات آپ خلیق ،حلیم الطبع،شریعت کے پابندتھے۔عبادات و طاعات میں یکتا تھے۔ حرمین شریفین کے حج و زیارت سے مشرف ہوئے۔ فیض صحبت کا حصول آپ ہرسال عُرس بِھڑی شاہ رحمان پر حاضرہواکرتے۔وہاں حضرت مولانا سیدحافظ قُل احمد صاحب پاک ذات نوشاہِ ثانی برخورداری ساہنپالوی رحمتہ اللہ علیہ کی ملاقات و زیارت سے مستفیض ہاکرتے اور قرآن مجید کا دَورکیاکرتے۔اُن کی صحبت سراپابرکت سے فیض حاصل کیاکرتے۔ سورۂ یٰسٓ کی اجازت دینا ایک مرتبہ سائیں علم الدین فقیر نوشاہی برقندازی ساکن کرنب بلوچ ضلع راولپنڈی نے آپ کی خدمت میں عرض ۔۔۔
مزید
آپ شیخ غلام حسن بن شیخ بُڈھاصاحب سلیمانی بھلوالی رحمتہ اللہ علیہ کے فرزنداصغر اورسجادہ نشین تھے۔بیعت و خلافت اپنے بڑے بھائی شیخ غلام حسین صاحب موتیانوالہ سےپائی۔ تاریخ ولادت آپ کی ولادت ۱۲۹۶ھ میں ہوئی۔ جذب وجلالیت آپ کی طبیعت میں جذب وجلالیت بہت تھا۔کسی کو سامنے کُھلم کُھلا گفتگو کرنے کی جرأت نہ ہوتی تھی۔اورادِ قادریہ سے واقف تھے۔آپ کو اپنے والد صاحب کی دُعاتھی۔ جوکچھ زبان سے نکالتےخداوند عزاسمہٗ پُوراکردیتا۔کئی بے اولادوں کو آپ کی دعاسے اولاد ہوئی۔ آپ بڑے درازقد ۔بھاراجسم۔لحیم۔شحیم تھے۔چہرہ بارعب تھا۔اَن پڑھ تھے۔موٹی زبان میں گفتگو کیاکرتے۔ منصب سجادگی جب آپ کے والدشیخ غلام حسن صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی وفات ہوئی ۔تو اُن کے بعد خلافت و سجادگی کے متعلق دونوں بھائیوں کاآپس میں تنازعہ ہوگیا۔شیخ فضل حسین صاحب بڑاہونے کی حیثیت سے سجادگی کاحق زیادہ رکھتےتھے۔مگرآپ نے مقدّمہ کرکے م۔۔۔
مزید
آپ شیخ غلام حسن بن بڈھاصاحب بھلوالی رحمتہ اللہ علیہ کے تیسرے فرزنداورمریدوخلیفہ تھے۔ آپ کی والدہ کا نام بیگم بی بی تھا۔جومسمّی قادی ساکن چاوہ شریف کی بیٹی تھی۔ کتابی شوق آپ صاحب علم تھے۔عربی اورفارسی زبان میں خاصی مہارت رکھتے تھے خاندانی کتابوں کے مہیّاکرنے کا شوق تھا۔جالندھر بستی دانشمندوں سے۔شاہ عبدالغفور صاحب برقندازی رحمتہ اللہ علیہ کے جانشینوں کے گھرسے کتاب مرأۃ الغفوریہ قلمی لے آئے۔جومیاں امام بخش لاہوری رحمتہ اللہ علیہ کی تصنیف ہے۔ کتاب کلید گنج الاسرار وغیرہ کتابوں کا بستہ سفروحضرمیں اپنے پاس رکھتے۔ تعمیری کارنامے آپ کو عمارت کرانے کا بہت شوق تھا۔مندرجہ ذیل عمارات آپ کی سعی و اہتمام کا نتیجہ ہیں اورآپ کی بہترین یادگارہیں۔ ۱۔روضہ اقدس حضرت سخی شاہ سلیمان نوری قادری رحمتہ اللہ علیہ اپنے والد صاحب کے بعد آپ نے تعمیرکروایا۔ ۲۔درگاہِ سلیمانیہ کے پاس مسجد پختہ تعمیرک۔۔۔
مزید
آپ کا نام غلام حسین لقب موتیانوالہ تھا۔شیخ غلام حسین بن شیخ بڈھاصاحب بھلوالی رحمتہ اللہ علیہ کے فرزنداکبراورمریدوخلیفہ تھے۔ تاریخ ولادت آپ نے ۱۲۶۷ھ مطابق ۱۸۵۱ء موافق ۱۹۰۷بکرمی میں ولادت پائی۔ ریاضت و مجاہدہ آپ نے عمربھرمیں ریاضات ومجاہدات بہت کئے ۔کشمیر کے پہاڑوں میں کئی چلّےکئے۔خلوت گزینی اختیارکی۔صاحب رعب و اقبال تھے۔ شیرکا سلام کرنا آپ اکثر علاقہ پونچھ میں رہاکرتے۔کہاجاتاہے کہ ایک مرتبہ شیرآپ کے سلام کو آیا۔ طریق ملامتیہ کی روش آپ طریق ملامتیہ اختیارکئے ہوئےتھے۔بعض اوقات شراب بھی پی لیاکرتے۔ فائدہ یادرہے کہ شراب قطعاً حرام ہے۔جن بزرگوں کے متعلق کتابوں میں مذکورہےکہ وہ کسی حالت میں شراب پی لیاکرتے تھے۔یہ اس کی حِلّت کی دلیل نہیں ہوسکتا۔بلکہ وہ لوگ خود بھی اس کو حلال نہیں سمجھتے تھے۔ان کا پینابطورمعالجہ یا ازقبیل فمن اضطرّ غیرباغٍ ولاعاد فلااثمہ علیہ سمجھاجاسکتاہے۔ ۔۔۔
مزید
آپ شیخ احمد جی مجذوب بن شیخ بڈھا صاحب بھلوالی رحمتہ اللہ علیہ کے اکلوتے بیٹے تھے۔بیعت و خلافت اپنے عم حقیقی شیخ غلام حسن بن شیخ بُڈھاصاحب رحمتہ اللہ علیہ سے تھی۔ عادات و اخلاق طبیعت میں آباو اجداد کی طرح نسبت جذبہ غالب تھی۔لوگوں کو نیکی کی ترغیب دیتے۔اعمال صالحہ میں مشغول رہتے۔اہل علم کی مجلس میں بیٹھناپسند فرماتے۔خدایاد تھے۔ اولاد آپ کے دو بیٹے تھے۔ ۱۔شیخ فقیر بخش صاحب رحمتہ اللہ علیہ احسن الاخلاق تھے۔اِن کا ایک فرزند شیخ میراں بخشصاحب اس وقت اپنے آباواجدادکے جانشین ہیں۔گھنگوال میں سکونت رکھتے ہیں۔ پنجابی میں اشعار بھی کہہ لیتے ہیں۔میں بُھلّنہار تخّلص کرتے ہیں۔اس وقت ۱۳۱۹ھ مطابق ماہ پھاگن ۱۹۵۸ بکرمی میں موجودہیں۔ ۲۔شیخ غلام محمد صاحب رحمتہ اللہ علیہ عارضہ ذات الجنب سے منگلوار ۲ ذیقعد ۱۳۱۹ھ مطابقماہ پھاگن ۱۹۵۸بکرمی کو انتقال کیا۔کوئی اولاد باقی نہیں۔ یارانِ طریقت آپ ک۔۔۔
مزید
آپ شیخ شرف الدین بن شیخ ناصرالدین صاحب ساہنپالوی رحمتہ اللہ علیہ کے تیسرے بیٹے تھے۔ بیعتِ طریقت شیخ خیرالدین بن شیخ چراغ دین صاحب سلیمانی جوکالوی رحمتہ اللہ علیہ سے تھی۔ اخلاق وعادات آپ نیک کردار ،متدین بارعب تھے۔ساہن پال شریف سے رہائش منتقل کرکے موضع چاوہ شریف ضلع سرگودھا میں چلے گئےاور وہاں کسب حلال پیشہ زراعت کیا کرتے تھے۔ مکتوب آپ کا ایک مکتوب یہاں درج کیاجاتاہے۔جو آپ نے چاوہ شریف سے اپنے بڑے بھائی شیخ شاہ محمد صاحب ساہنپالوی رحمتہ اللہ علیہ کے نام طاعون کے دنوں میں ارسال کیاتھا۔ "بخدمت شریف برادرم شیخ شاہ محمدصاحب زادعنایتکم السلام علیکم۔یہاں بفضلِ خدا تادمِ ترقیم خطِ ہذا خیریت ہے اور خیریت آپ کی خداوند کریم سے نیک مطلوب۔اگر آپ چاوہ میں آسکیں تو بہتراور اگر فیض احمد آوے تو بہتر۔ضروربصد ضرور ایک دفعہ آکرمل جاویں۔سب برادری کی خیریت سے بذریعہ ڈاک مطلع کریں۔تاکہ دل کو تسلّ۔۔۔
مزید
آپ شیخ شرف الدین بن شیخ ناصرالدین صاحب ساہنپالوی رحمتہ اللہ علیہ کے دوسرےبیٹے تھے۔ بیعت و خلافت شیخ گوہر شاہ بن شیخ ماہی شاہ صاحب سلیمانی رنملوی رحمتہ اللہ علیہ سے حاصل تھی۔ اخلاق وعادات آپ نیک نہاد۔درویش مرد۔مسکین طبع۔حلیم مزاج تھے۔زیادہ گفتگوکو پسند نہ فرماتے۔دنیااوراہل دنیاسے کوئی سروکارنہ رکھتے روزانہ صبح کے وقت موضع اگرویہ اور سارنگ کی اور عصر کے وقت ساہنپال کی گدائی کیا کرتے۔آپ کی ہردروازہ پریہ صداہوتی تھی۔ "فضل سائیں دا"۔ اولاد آپ کے ایک ہی فرزند شیخ محمد عالم صاحب رحمتہ اللہ علیہ تھے۔ یارطریقت آپ کا ایک مریدخوشی محمد بافندہ ساکن اگرویہ تھا۔ تاریخ وفات شیخ شاہ محمد کی وفات بعارضہ اسہال،منگلوار کی رات۔وقت نیم شب۔دوسری جمادی الاخریٰ ۱۳۵۱ھ میں ہوئی۔مزار گورستانِ نوشاہیہ میں ہے۔ مادۂ تاریخ ہے۔ آیت شریف "غُفرَانَک۔۔۔
مزید
آپ شیخ شرف الدین بن شیخ ناصرالدین صاحب سلیمانی ساہنپالوی رحمتہ اللہ علیہ کے فرزند اکبر تھے۔خلافت واجازت شیخ خیرالدین بن شیخ چراغ دین صاحب سلیمانی جوکالوی رحمتہ اللہ علیہ سے تھی۔ چلّہ کشی آپ نے ابتدائے احوال میں دریائے چناب پراپنے پیر روشن ضمیر کے حکم سے ایک بندچلہ کیا۔چالیس دن کے بعد نکلے۔آثار قبولیّت سے مزین تھے۔ اخلاق و عادات آپ درویش سیرت ۔شریعت کے پابندتھے۔کافی لوگ آپ سے ہدایت کو پہنچے۔صاحب عزّ واقبال متبرک وجود اہل ارشاد تھے۔ یارانِ طریقت آپ کی صلبی اولاد تونہیں ہوئی۔البتہ روحانی اولاد باقی ہے۔آپ کے خواص مرید یہ تھے۔ ۱۔حاجی شیخ مرادعلی بن شیخ محمد الدین صاحب سلیمانی رحمتہ اللہ علیہ جوکالیاں ضلع گجرات ۲۔سائیں نواب علی بن شیخ محمد الدین صاحب رحمتہ اللہ علیہ جوکالیاں ضلع گجرات ۳۔شیخ حاکم شاہ بن شیخ فرمائش د۔۔۔
مزید
آپ شیخ احمد شاہ بن شیخ جیون شاہ صاحب مانگہ والہ رحمتہ اللہ علیہ کے چھٹے بیٹے تھے۔بیعت و خلافت شیخ محمداحسن بن شیخ احمد جی صاحب مجذوب سلیمانی گھنگوالی رحمتہ اللہ علیہ سے تھی۔ عادات و اطوار آپ بلند قامت،تنومندجسیم تھے۔آپ کے چہرہ سے رعب و جلالیت مترشح ہوتی تھی۔منہ پر بات کردینااور کسی سے خوف نہ کرناآپ کا شیوہ تھا۔آپ کے وجد کی حالت قابل مشاہدہ ہوتی تھی۔کچھ ارادت مندوں کاحلقہ بھی تھا۔روزانہ گھوڑے پر سوار ہوکرگردونواح کے دیہات کی سیر کیاکرتے۔ اولاد آپ کے سات بیٹے تھے۔ ا۔شیخ رسول شاہ صاحب لاولد۔ ۲۔شیخ محبوب شاہ صاحب لاولد۔ ۳۔شیخ نواب شاہ صاحب لاولد۔ ۴۔شیخ لال حسین صاحب موجود۔ ۵۔صاحبزادہ محمد حسین اگرویہ میں موجودہیں۔گانے بجانے کے شوقین ہیں۔ ۶۔شیخ غلام حسین صاحب لاولد۔ ۷۔ شیخ عنایت حسین صاحب لاولد۔ ؎ شیخ لال حسین صاحب موضع اگرویہ میں اپن۔۔۔
مزید
آپ شیخ احمد شاہ بن شیخ جیون شاہ صاحب مانگہ والہ رحمتہ اللہ علیہ کے پانچویں فرزند تھے۔ارادت و بیعت آپ کی حافظ حاجی شیخ شمس الدین بن شیخ قطب الدین صاحب سلیمانی رحمتہ اللہ علیہ ساکن چاوہ شریف سے تھی۔ عادات واطوار آپ ملنگ صورت تھے۔سرمُنڈاہواہوتا۔ہمیشہ سربرہنہ رہاکرتے۔اکثر سیرو سیاحت میں مصروف رہتے۔چہرہ سے درویشی کے آثار نمایاں تھے۔سات سال تک خوشاب شریف میں درگاہ عالیہ حضرت مخدوم شاہ معروف صاحب چشتی قادری رحمتہ اللہ علیہ پرر ہے اور اپنے سر پر ٹوکری اُٹھاکرروضہ اقدس کی تعمیری خدمات انجام دیں۔کبھی کبھی آپ بِھڑی شریف میں مجاورانِ درگاہِ رحمانیہ میں رہاکرتے۔ اجابت دعا عوام النّاس حتی الوسع آپ کو خوش رکھنے کی کوشش کرتے۔تاکہ بددعائیہ الفاظ نہ بول دیں۔کیونکہ آپ کی بددعاکاسریع الاجابت ہونالوگوں کے اعتقاد میں تھا۔ شاہ محمد چٹھہ ساکن اگرویہ کے ہاں اولادنہیں تھی۔آپ کی دعاسے اُس کالڑکابہاول ۔۔۔
مزید