علّامہ مولانا قاضی وہاج صاحب، خطیب دربار حضرت بابافرید علیہ الرحمۃ، پاکپتن شریف، پنجاب، پاکستان ۔۔۔
مزید
حضرت علّامہ شوکت علی سیالوی، مدرّس جامعہ غوثیہ جامع العلوم، خانیوال ۔۔۔
مزید
حضرت علّامہ مفتی عبد الحمید چشتی، مدرّس جامعہ غوثیہ جامع العلوم ،خانیوال ۔۔۔
مزید
پیر سید عبدالوہاب بن سید عبدالحمید سالوی آپ بڑے مشائخ اور کبیر اولیاء میں شمار ہوتے تھے۔ بچپن میں اپنے باپ کے ساتھ ایک حوض میں نہارے تھے۔کوئی شخص پانی میں سے سے ظاہر ہوا۔ اور آپ کو کھینچ کر لے گیا اور گم ہوگیا ایک عرصہ کے بعد آپ اسی حوض سے برآمد ہوئے مگر کمالات و کرامات کے خزانے لے کر آئے۔ ایک بار آپ کے والد اپنے شاگردوں کو ہدایہ پڑھا رہے تھے آپ اپنے ہم عمر لڑکوں کے ساتھ کھیل رہے تھے ہدایہ میں ایک مشکل مقام آیا۔ جہاں آپ کے والد رک گئے۔ آپ نے دور ہی سے اپنے والد کو اس مشکل سے نجات دلادی جوان ہوئے تو رجال الغیب کے ساتھ ہم مجلس رہتے ان حالات میں بھی کتابوں کا مطالعہ جاری رکھتے ایک دن آپ اپنے کتاب خانہ میں میں مطالعہ میں مشغول تھے کہ ایک شخص عیسائی لباس میں ظاہر ہوا اور کتابوں کی طرف اشارہ کرکے کہنے لگا یہ کیا ہے؟ اور تم کس شغل میں مشغول ہو۔ یہ بات سنتے ہی آپ نے کتابوں اور مطالعہ کو ترک ۔۔۔
مزید
اِن کی اولاد سے سادات بنو میمون، بنو الجوائی، بنو طقسط، بنو المحترق، اشتریون، بنومکانسیہ، بنو عرام، بنو عجیبہ، بنو الصّایم، بنو معلاج، بنوابی الغنایم، بنو احمد، بنو طبیق، بنو عکّہ، بنو علون، بنو فوارِس، بنو عیلان، بنو الاعرج، بنو جلال، بنو شقائق، بنو خزعل، بنو مہنا، حاحدہ، جمامزہ، عقیقیون، بنو الموسوس، منقدیون، آلِ عدنان، بنو الکرش، بنو الفیل، بنو المضیرہ، بنو الفوطم، وغیرہم بلادِ مغرب، مصر، واسط، عراق، کرخ، مدینہ طیّبہ، بلخ، حلہ، دمشق، رَے، شیراز وغیرہ میں آباد ہیں۔ [۱] [۱۔ روضۃ الشہداء ۱۲] (شریف التواریخ)۔۔۔
مزید
آپ میاں جیواشاہ بن میاں ابراہیم المعروف عبدالرحیم کے فرزنداوراپنے چچامیاں محمدزمان کے مُرید تھے۔حضرت سیّد صبغتہ اللہ بن سیّد ابن یمین برخورداری ساہنپالوی سے بھی آپ کوارادت تھی۔ اُن سے بھی فیض حاصل کیا۔ مکتوب سیّد صبغتہ اللہ ایک مرتبہ سید صبغتہ اللہ نوشاہی برخورداری رحمتہ اللہ علیہ نے آپ کے اور میاں کریم بخش بن نورشاہ کے نام ایک مکتوب بھیجا۔کہ ہم نےجے سنگھ گھنیہ سے ایک تحریربنام میگھ سنگھ لکھواکرتم کوبھیج دی ہے۔لہذامیگھ سنگھ سے بیس من غلّہ وصول کرلیں۔آپ کا مکتوب یہ ہے۔ "خادم الفقراومیاں مرادبخش ۱؎ومیاں کرم بخش ازیں جناب میاں صبغتہ اللہ بعددعواتِ خیریت مشہورباداحوال ایں جائے بخیروخیریتِ ایشاں مطلوب ۔دریں وِلایاں راقصدِ لاہورمصمم افتادہ است و کاغذجے سنگھ گھنیہ بطرف میگھ سنگھ باجازت اونویسانیدہ فرستادہ شد۔بایدکہ بیست من غلّہ کہ در کاغذ مسطور است از سنگھ مومٰی الیہ وصول کنانیدہ نزد خ۔۔۔
مزید
آپ میاں محمد زمان بن میاں ابراہیم المعروف عبدالرحیم رحمتہ اللہ علیہ کے دوسرے بیٹے اور مریدو خلیفہ تھے۔ سیروسیاحت نسبت جذبہ آپ پرغالب تھی۔بحالتِ مجذوبی پھرتے پھراتےموضع مَنج میں جو دریائے راوی پرایک گاؤں ہے۔چلے گئے۔والدکاانتقال بعدمیں ہوا۔آپ کے بیٹے میاں امام شاہ رحمتہ اللہ علیہ نےجاکر آپ کواطلاع دی توآپ واپس آئے۔ زُہد آپ دنیااور اہل دنیاسے کنارہ کش رہتے۔تمام کاروباردنیاوی اولاد پر چھوڑدئیے۔خود یادِ الٰہی میں رہتے۔لوگوں کو کم مریدبناتے۔ اولاد آپ کے دو بیٹے تھے۔ ۱۔میاں مبارک شاہ۔ ۲۔میاں امیرشاہ لاولد۔ (سریف التواریخ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید