جمعہ , 14 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Friday, 01 May,2026

میاں محمد بخش بختاوری رحمتہ اللہ علیہ

  آپ میاں جان محمد بن میاں غلام رسول بختیاری رحمتہ اللہ علیہ کے بڑے بیٹے تھے۔بیعت و خلافت میاں کرم شاہ بن میا ں لال شاہ ساکن گاجرگولہ سے رکھتے تھے۔وہ مرید آپ کے دادا میاں غلام رسول بن خد ابخش بختاوری کے تھے۔ آپ صاحب جذبہ و عشق ذوق و شوق تھے۔جوش کے وقت جوکچھ منہ سے فرماتے وہی ہوجاتاتھا۔ کشفی نگاہ آپ کے بیٹے کاشتکاری کرتے تھے۔ایک روزشام کے وقت ان کی ایک گائے گم ہوگئی۔ساری رات تلاش کی اور دن کوبھی دوپہرتک ڈھونڈتے رہے۔مگرکوئی سراغ نہ ملا۔آپ بحالت ضعیفی گھرمیں بیٹھے تھے۔بیٹوں نے آکر خبرکی۔آپ نے مراقبہ کیااورفرمایاکہ اس وقت وہ فلاں ٹیلہ پر چَررہی ہے۔چنانچہ وہ گئے تو وہیں سے مِل گئی۔ دولت مندی کی دعا ایک دن آپ گھرسے چل کر درگاہِ شریف حضرت پاک صاحب رحمتہ اللہ علیہ پرجارہے تھے۔بوجہ ضعف و نقاہت کے راستہ میں بیٹھ کردم لینے لگے۔میاں کرم الدین بن وزیر شاہ زمانی نے جو نوجوان تھے۔آپ کو کاند۔۔۔

مزید

میاں جان محمد بختاوری رحمتہ اللہ علیہ

  آپ امام العاشقین ۔سلطان الکاملین۔برگزیدہ وقت تھے۔میاں غلام رسول بن خدابخش بختاوری رحمتہ اللہ علیہ کے فرزند اکبراور مرید و خلیفہ تھے۔صاحب ذوق و شوق تھے۔ فضلائے سادات کو مریدکرنا ایک مرتبہ آپ موضع چک کُپّا ضلع سیالکوٹ میں تشریف لے گئے۔وہاں دوبزرگ سیّدنورشاہ اور میرمحمد شاہ نام علمائے وقت سے ممتازتھے۔آپ کی مجلس میں وجد و رقص کے متعلق احتساب کرنے آئے۔آپ نے ایسی نگاہ کی کہ اُن کو وجد ہوگیااور تڑپنے لگے۔ آپ نے اُن کودرخت پرنشان کردیا۔دیرتک معکوس حال کرتےرہے۔آخر افاقہ ہونے پر مُرید ہوگئے۔ پھرآپ نے فرمایاکہ یہاں تمہارے مکان پر ہر سال جیوڑے کا وجد ہواکرےگا۔ چنانچہ زمانہ تا حال پندرھویں ہاڑ کو وہاں سال بسال میلہ ہوتاہے اور سماع و وجدو رقص عام ہوتاہے۔ اولاد آپ کے تین بیٹے تھے۔ ۱۔میاں محمد بخش۔ ۲۔میاں پیربخش۔ ۳۔میاں امیربخش۔ ؎         میاں محمد ب۔۔۔

مزید

میاں غلام رسول بختاوری رحمتہ اللہ علیہ

  آپ میاں خدابخش بن میاں محمد بختاور بھڑیوالہ رحمتہ اللہ علیہ کے فرزند یگانہ تھے۔خلافت و اجازت اپنے دادامیاں محمد بختاوربن میاں شکرعلی رحمتہ اللہ علیہ سے رکھتے تھے۔ مراتب سلوک آپ صاحب جذبہ و سلوک وفقروریاضت و عبادت تھے۔آپ کا سلسلہ فقر علاقہ دوآبہ اور مانجھہ میں اکثرپایاجاتاہے۔ اولاد آپ کے دو بیٹے تھے۔ ۱۔میاں جان محمد۔ ۲۔میاں خان محمد لاولد۔ نوٹ:۔         آپ نے ایک عورت سے نکاح کیاتھا۔پہلے شوہر سے اُس کا ایک بیٹابنام خدا یارساتھ آیااورآپ کے گھر میں پرورش پائی۔جب وہ جوان ہواتوآپ نے اس کی شادی کردی۔اس کے ہاں ایک لڑکاشرف الدین نام پیداہوا۔آگئے اُس کا بیٹاگوہرشاہ نام متولد ہوا۔اُس نے میاں غلام رسول کی حقیقی اولاد کے ساتھ ملکیّت زمین کی شرکت کا دعوٰی کردیا۔چناچہ عدالت کی طرف سے وہ شخص حِصّہ زمین اور وراثت ِ جدی سے محروم کیاگیااور پھرچندعرصہ ۔۔۔

مزید

میاں خدابخش بختاوری رحمتہ اللہ علیہ

  آپ میاں بختاور بن میاں عبدالکریم المعروف شکرعلی رحمانی بھڑی والہ کےاکلوتے بیٹے تھے۔ بیعت وخلافت بھی اپنے والد سے رکھتے تھے۔ ایک شجرہ میں آپ کانام خدابخش بن فتح الدین بن بختاور لکھاہواپایاگیاہے۔واللہ اعلم اولاد آپ کے ایک ہی فرزند میاں غلام رسول تھے۔ میاں خدابخش کا مزار گورستانِ رحمانیہ میں ہوا۔ وفات          ۱۲۰۹ھ؁۔ (سریف التوایخ)۔۔۔

مزید

میاں محمد بختاور رحمتہ اللہ علیہ

  آپ میاں شکرعلی بن شیخ الٰہ داد بھڑیوالہ رحمتہ اللہ علیہ کے اکلوتے فرزند تھے۔والدہ کانام حضرت فتح خاتون تھا۔جو حضرت شیخ عبدالرحمٰن پاک صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی بیٹی تھیں۔ بیعت و خلافت حضرت سید عمربخش نوشاہی برخورداری رسول نگری رحمتہ اللہ علیہ  نے کتاب مناقباتِ نوشاہیہ میں اور مولوی حکیم کرم الٰہی فاروقی رحمتہ اللہ علیہ نوشاہی بیگووالیہ نے کتاب گلزار فقرامیں ۔آپ کو حضرت پاک صاحب کے خلیفوں کی فہرست میں درج کیاہے۔جس سے ثابت ہوتاہےکہ آپ اپنے ناناصاحب کے بلاواسطہ مریداور خلیفہ تھےاور مقاماتِ جذب وسلوک طے کرکےخلافت پائی تھی۔ کشف باطنی منقول ہے کہ جب آپ کے خالہ زاد  بھائی میاں محمد زمان رحیمی رحمتہ ا للہ علیہ نے درگاہِ رحمانیہ میں چلہ کاٹااورفیض یاب ہوئے۔توآپ نے ازراہ کشف آگاہ ہوکرفرمایاکہ نعمت باطنی یہ مجھ سے زیادہ حاصل کرگئے ہیں۔آپ سر پر نوشاہی ٹوپی رکھاکرتے تھے۔ کاشتکاری ۔۔۔

مزید

صاحبزادہ علی محمد زمانی رحمتہ اللہ علیہ

  خلف الرشیدمیاں حیات محمد بن میاں جان محمد بن میاں امیر شاہ بن میاں قادر بخش بن میاں کرم شاہ بن میاں شاہ بن میاں محمد زمان بن میاں ابراہیم المعروف عبدالرحیم بھڑیوالہ رحمتہ اللہ علیہ۔ یہ صاحبزادہ صاحب مؤلف کتاب ہذافقیرسیّد شریف احمد شرافت علوی،عباسی ،قادری،نوشاہی برخورداری ساہنپالوی کی بیعت تھے۔ عادات و اطوار صاحب علم و حلم ۔اچھے اخلاق والے نیک طبیعت تھے۔اپنے کاروبار اور برادرانہ معاملات میں لائق تھے۔میرے ساتھ بہت محبت وارادت و عقیدت رکھتے تھے۔شریعت کے پابند تھے۔ایک مرتبہ وہابیوں نے بھڑی شریف میں شورش کی ۔توصاحبزادگان رحمانیہ نے درگاہِ عالیہ میں ایک جلسہ کرایا۔جس پرعلمائے حنفیہ کومدعوکیا۔صاحبزادہ صاحب خود ہمارے پاس آکر مجھ کو بھی ہمراہ لے گئے۔ اولاد صاحبزادہ صاحب کی شادی مسمات عنایت بیگم دخترڈاکٹر سردارعلی بن میاں غلام نبی فقیرنوشاہی اولادِ میاں ہرنی شاہ شرقپوری رحمتہ اللہ علیہ کے سا۔۔۔

مزید

میاں اللہ دتہ زمانی رحمتہ اللہ علیہ

  آپ میاں محمد الدین بن میاں پیر بخش المعروف پیر شاہ زمانی رحمتہ اللہ علیہ کےپانچویں فرزند اور مریدوخلیفہ تھے۔صاحب ذوق وشوق تھے۔ مشرب توحید آپ بڑے متین و مہذب طریقہ کے پابندتھے۔درویشی  اخلاق رکھتے۔ فقرائےخاندان سے نیک سلوک کرتے۔آپ کے سر پر دستارسبزرنگ ہوتی۔داڑھی کو مہندی لگایا کرتے۔آ پ کے چہرہ سے آثار بزرگی عیاں تھے۔فقیر سید شرافت عفی عنہ جب کبھی درگاہ رحمانیہ پر حاضر ہواکرتا۔تو آپ بڑی محبت اور شفقت سے پیش آیاکرتے۔عزت واحترام کرتے۔اپنے آباو اجداد کے حالات کتاب ہذامیں درج کروائے۔اپنے کاغذات خاندانی و دستاویزات کا ملاحظہ کروایا۔ اولاد آپ کے ایک ہی فرزند میاں غلام حسین ہیں۔یہ اپنےوالد کے جانشین ہیں۔ متواضع حلیم الطبع فقیر صورت نیک سیرت ہیں۔آجکل ۱۳۷۹ھ؁ میں بعمر چھپن سال موجود ہیں۔ ان کے دو لڑکے ہیں۔صاحبزادہ غلام مصطفےٰ رحمتہ اللہ علیہ ۔صاحبزادہ محمد یوسف رحمتہ اللہ علیہ ۔ ص۔۔۔

مزید

حاجی الحرمین الشریفین میاں امام الدین زمانی رحمتہ اللہ علیہ

  خلف اکبرمیاں کرم الدین بن میاں وزیر شاہ بن میاں قاد ر بخش بن میاں کرم شاہ بن میاں محمد زمان آپ کی بیعتِ طریقت حاجی شیخ شمس الدین بن شیخ قطب الدین سلیمانی چاوہ والہ سے تھی۔ اخلاق کریمانہ آپ نہایت متواضع و مؤدب اور شریف الطبع تھے۔عرس شریف کے روز نوویں جیٹھ کو آپ بھنڈارہ کی تقسیم پر مقررہوتے۔نہایت احتیاط اور باقاعدگی سے اس کو انجام دیتے۔ اولادِ حضرت نوشہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ اوراولادِ حضرت سخی بادشاہ رحمتہ اللہ علیہ کا بہت احترام کرتے۔اپنے بزرگوں کاپوراپورانمونہ تھے۔ شریعت کی پابندی اپنے معاصرین صاحبزادگانِ رحمانیہ میں سے شریعت کی پابندی کو خاص ملحوظ رکھتے۔عمرکے آخری سالوں میں زیارت حرمین الشریفین زادھمااللّٰہ شرفاً وتعظیماً سے بھی مشرف ہوآئے۔نماز روزہ پر مواظبت رکھتے۔آپ کی گفتگو نہایت شیریں ہوتی تھی۔سِلائی کاکام کرکے روزی حلال حاصل کرتےتھے۔اپنی برادری کے بہت افراد کویہ کا م سِکھ۔۔۔

مزید

میاں علم الدین زمانی رحمتہ اللہ علیہ

آپ میاں پیر بخش المعروف پیرشاہ بن میاں امام شاہ زمانی بھڑیوالہ رحمتہ اللہ علیہ کے دوسرے بیٹے تھے۔آپ کی بیعت طریقت بابارُلدوشاہ فقیر ساکن نوشہرہ خوجیاں سے تھی۔وہ مرید آپ کے دادا میاں امام شاہ بن میاں نورشاہ کا تھا۔ مکتوب آپ کو زبان فارسی کابھی کچھ محاورہ تھا۔آپ کا ایک مکتوب یہاں درج کیاجاتاہے۔جو آپ نے سفر میں سے اپنے والد کے نام ارسال کیاتھا۔ "ابویصاحب مہربان دام ظلہٗ ۔بعدازادائے آداب بندگی معروض آنکہ از خدمت رخصت شدہ درشہر جَنڈیالہ بخیریت رسیدہ ام وبخدمت  جناب مولاناصاحبنامیاں صاحب محبت اللہ جیو ملازمت میدارم ہر وقت نہایت شفقت و مہربانی بحال بندہ میدارور؟خداتعالےٰآں صاحب جیوراہمیشہ خوش دارد۔ فقط زیادہ آداب ۔عریضہ نیازعلم الدین از مقام جنڈیالہ شیرخاں۔۲۷بھادوں"۔ اس مکتوب سے ظاہر ہوتاہے کہ آپ کو میاں محبت اللہ اویسی جنڈیالوی رحمتہ اللہ علیہ سے بھی کچھ فیض حاصل تھا۔ اولاد آپ ک۔۔۔

مزید

میاں محمدالدین زمانی رحمتہ اللہ علیہ

  آپ میاں پیربخش المعروف پیرشاہ بن میاں امام شاہ زمانی رحمتہ اللہ علیہ کے فرزنداکبرتھے۔بیعتِ طریقت اپنے دادامیاں امام شاہ بن میاں  زمانی رحمتہ اللہ علیہ سے تھی۔بعد میں اپنے والد سے بھی فیض پایااورخلافت سے مشرف ہوئے۔ فیصلہ متعلقہ حصص درگاہ آپ کے زمانہ میں اولادمیاں محمد بختاور میں سے میاں پیر بخش بن جان محمدبختاوری وغیرہ نے دعوٰی دائر کردیا۔کہ ہم کودربار حضرت پاک صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے چڑھاوامیں سے نصف حصّہ ملناچاہیئے۔جس میں آپ بمعہ دوسرے برادران ہم جدی     اولادِ میاں عبدالرحیم کے مدعاعلیہم تھے۔آپ نے پورانی مثلیں پیش کیں۔تواُن کا دعوٰی خارج ہوگیا۔مقدمہ آپ کے حق میں ہوا۔حضرات بختاور یہ کو تیسراحِصّہ ملا۔فیصلہ کی عبارت درج ذیل ہے۔ "دعوائے استقرار حق آمدنی چڑھاوا خانقاہ شاہ رحمٰن مرحوم بحصہ نصفا نصف برائے دوام بموجب حقوق معانی متعلقہ خانقاہ دیہہ مدعیان کا ۔۔۔

مزید