حضرتِ سلطاں محمد مظہرِ فیضِ اتم حامئیِ اہلِ معاصی ساقیِ جامِ قِدَم آشنائے بحرِعرفاں مہبطِ نورِ الٰہ مخزنِ سِرّالٰہی معدنِ لطف و کرم چہرۂ نورانیِ شاں ہمچوماہِ چاردہ دُورکردازلطفِ ایشاں دردوعالم محترم گرکسےباشدذلیل از رنجِ دہربیوفا مے شودازلطفِ ایشاں دردوعالم محترم نیست اشرف رازآسیب حوادث روزگا ازنگاہِ لطفِ پاکش بیم جورداشتلم آپ میاں محمد اکرم بن میاں عبدالجلیل نوشہروی رحمتہ اللہ علیہ کے بڑے بیٹے اور مرید و خلیفہ و سجادہ نشین تھے۔آپ کا شہرہ دُوردُورتک تھا۔قندھاراور ہندوستان سے خلقت آکر مستفید ہوتی تھی خلائق زقندھارو ہندوستاں بیایندبہرِ زیاراتِ شاں حق کی طرف رجوع آپ امیرانہ طبع اور خوبصورت تھے۔جو شخص آپ کو دیکھتا فریفتہ ہوجاتا۔ایک دن بعالم شباب گھوڑے پرسوارہوکرشکارکوجارہے تھے۔سامنے سے سکّھوں کی ایک فوج آتی ملی۔اُن کا افسرسِکھ آپ پ۔۔۔
مزید
حضرت اکرم برہِ قربِ حق بُردزمیدانِ سعادت سبق ازلطفِ پیر بمعراجِ قرب برزنہ ٔ عشق فگندہ دہق مصحفِ آیاتِ الٰہی مدام خواندہ تمامی ورقاً باورق مادرِ ایّام نزادہ دگر ثانی شاں ماند برنجِ رتق اشرف خاکِ درشاں سُرمہ کن تابرتنِ توبودازجاں رمق آپ میاں عبدالجلیل بن حضرت سچیار نوشہروی رحمتہ اللہ علیہ کے اکلوتے بیٹے تھے۔بیعت وخلافت بلاواسطہ اپنے جد بزرگوار حضرت شیخ پیر محمد سچیاررحمتہ اللہ علیہ سے رکھتے تھے۔ مولوی محمد اشرف فاروقی رحمتہ اللہ نے مناقب نوشاہی میں اور مولوی حاجی سید غلام نبی حسینی جالندھری رحمتہ اللہ علیہ نے مثنوی اسراروارثی میں آپ کواپنے داداکامرید لکھاہے۔ اخلاق وعادات آپ صاحب خلق عظیم۔حلیم الطبع۔مستجاب الدعوات ۔حسین و جمیل تھے۔ آپ کے چہرہ سے تجلّیاتِ نورچمکتے تھے۔یادِ الٰہی میں محو و مستغرق رہتے۔صوفیائے معاصرین میں عالی مرتبہ تھے۔ ۔۔۔
مزید
مظہرِ نورِ الٰہی حضرت عبدالجلیل یافت قرب لِی مع اللّٰہپیش حق بے قال وقیل سینۂ بے کینہ اش کانونِ نارِ عشق بود گمرہانِ دو جہاں راذاتِ پاکِ اودلیل آشنائے بحرِ عرفاں واقفِ لوح وقلم بانئے کارِ دوعالم درسخاوت بے عدیل یکدم ازیادِ خداہرگزنمے بودے جدا صرف کردے دا؟رہِ حق از کثیروازقلیل! از حسابِ روزِ محشر نیست بیم ازہیچ رُو زانکہ لطفِ پاک ایشاں باشد اشرف راکفیل؟ آپ حضرت شیخ پیر محمد سچیارنوشہروی رحمتہ اللہ علیہ کے اکلوتے بیٹے اور مریدو خلیفہ و سجادہ نشین تھے۔ حرارتِ عشق منقول ہے کہ جس وقت حضرت سچیار رحمتہ اللہ علیہ کاوقت وفات قریب ہوا تو آپ کوبلاکراپنے سینہ پر لٹایااور اپنی نعمت باطنی سے بہرہ ورکیا۔اُس دن سے آپ کو عشقِ الٰہی کی حرارت اس قدر بڑھ گئی کہ گرمی شوق سے ہر وقت جسم جلتارہتااور اضطراب وبیقراری غالب رہتی۔ روزانہ دو آدمی پانی کی مشکیں بھرکرآپ پر ۔۔۔
مزید
درمناقب حضرتِ پیر محمد پاک ذات روضۂ والائے شاں در حضرتِ نوشہرہ واں آنانکہ جائے درحرمِ کبریاکنند مِس وجودرا۔بنظر کیمیا کنند گوتندذاتِ حق نتواں گفت شاں ولیک درکسوتِ بشرشدہ کارخداکنند وقتیکہ طورِ عشق شود جلوہ گاہِ شاں علوی بشوق از اَرِنِی مرحباکنند مرجع جہان ومعبدِ آفاق درگہش تاچشم ہم زنی ہمہ حاجت رواکنند بحرِ فیوض ومنبعِ احسان وکانِ عشق بیگانہ رابہ نیم نگاہ آشنا کنند دربرمدام خلعتِ معشوقیں درست حق دار د آرزوکہ چہ ہست وچہاکنند نرودکسے زمعتقعدانش بدوزخے چوں در حضور حق زعنایت صلاکنند کافر بہ بُت پرستی وزاہد بصوم وحج شاں راہِ حق بگوشۂ ابرواداکنند وقتیکہ چشم مست کشانیدازخمار مگسِ شکستہ پر بتوجہ ہما کنند بینند یک بیک ہمہ دیدار حق عیاں آنانکہ خاکِ پاک ورش تویتاکنند روشن چوماہِ چاردہ سیمائے شارشود رنداں کہ پیش ورگہ۔۔۔
مزید
المعروف بابا خیرشاہ بن میاں عمر بخش بن میاں پیر بخش بن میاں جان محمد بن میاں غلام رسول بختاوری بھڑیوالہ۔ آپ کی بیعتِ طریقت سیّد غلام حسن بن سیّد قطب الدین نوشاہی برخورداری رحمتہ اللہ علیہ ساہنپالوی سے تھی۔ عادات و اخلاق آپ حلیم الطبع ۔مؤدب درویش صورت تھے۔مؤلف کتاب ہذافقیر سیّد شرافت عفی عنہ ۱۳۴۷ھ میں بمعہ اپنے اہل خانہ مستورات کے درگاہ حضرت پاک صاحب رحمتہ اللہ علیہ زیارت کے لیے حاضرہوئے۔آپ نے ساتھ ہوکر ہم کو سب مقابرو مقامات کی زیارت کروائی ۔بالخصوص یہ زیارتیں۔ ۱۔حضرت پاک صاحب اور شیخ الٰہ داد کے مزارات روضہ اقدس میں۔ ۲۔شیخ برخوردار (برادر پاک صاحب رحمتہ اللہ علیہ )کامزار۔ ۳۔والدۂ حضرت پاک صاحب رحمتہ اللہ علیہ کامزار۔ ۴۔اہلیہ حضرت پاک صاحب رحمتہ اللہ علیہ اور اہلیہ حضرت الٰہ داد کے مزارات۔ ۵۔دختران حضر ت پاک صاحب کے مزارات۔ ۶۔مائی پرائی مطربہ کا مز۔۔۔
مزید
خلف اکبرمیاں الٰہی بخش بن میاں محمد بخش بن میاں جان محمد بخش بختاوری رحمتہ اللہ علیہ۔ارادت اور بیعت آپ کی حاجی شمس الدین بن شیخ قطب الدین سلیمانی رحمتہ اللہ علیہ چاوہ والہ سے تھی۔ جدامجد کی دعا آپ کو بچپن میں آپ کے دادا میاں محمد بخش بختاوری نے دعادی تھی کہ جوں جوں تم جوان ہوگے۔تمہار اعشق بھی جوان ہوگا۔چنانچہ عشق اور ذوق میں کمال ہوئے۔جب آپ کو وجد ہوتا۔آٹھ پہر تک مدہوش رہتے۔آپ کے پاؤں میں رَسّہ ڈال کر درخت پرنشان کیاجاتا۔اگراس پر افاقہ نہ ہوتاتو حضرت پاک صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے روضہ شریف کے آس پاس زمین پر گھسیٹاجاتا۔بہت دیرکے بعد افاقہ ہواکرتا۔ وجد و ذوق میاں مہرشاہ بن امام بخش بختاوری سے منقول ہے کہ ایک رات آپ نے چاہ خانقاہ والہ جُوتاہواتھااورخود بیلچہ لے کر کیارہ میں پانی لانے گئے اُس وقت بھڑی خورد سے قوالوں کے گانے کی آواز آئی۔آپ کو وجد ہوگیا۔جوش کی حالت می۔۔۔
مزید
خلفِ اکبرمیاں امیربخش بن جان محمد بن میاں غلام رسول بختاوری بھڑیوالہ۔آپ کی بیعت طریقت شیخ غلام حسن بن شیخ بڈھاسلیمانی بھلوالی رحمتہ اللہ علیہ سے تھی۔انہیں سے خلافت پائی۔ معمولات آپ مسکین طبع درویش مردعزیزالوجودتھے۔آپ نے اوائل میں دوچلے کئے وہاں سے بہت کچھ فوائد حاصل ہوئے۔اکثر خاموش رہتےروزانہ سرگی کے وقت اُٹھ کر نوافل تہجد اداکرتے۔کلمہ طیّبہ اوردرود شریف ہزارہ معہ اسم اعظم غوثیہ اور درود تاج کا وظیفہ کیاکرتے۔ ذکر پاس انفاس میں ہروقت مشغول رہتے۔نماز پنجگانہ پر مواظبت رکھتے۔شجرہ شریف خاندان نوشاہی مصنّفہ مولوی محمد اشرف فاروقی روزانہ ایک مرتبہ پڑھاکرتے جس کا شروع یہ ہے رب داایہ اسم ذات وِردرکھادنے راتی اکدم غافل نہ تھیواں رہاں نِت چتاردا تاثیر نگاہ آپ جس وقت کسی کو بیعت کرتے۔اُسی وقت نظرتوجہ سے اُ س کے دل میں عشق کابیج بودیتے۔ذوق وشوق ووجد آپ کی نظر ک۔۔۔
مزید
المعروف امام شاہ ۔خلف ثانی میاں پیر بخش بن میاں جان محمدبن میاں غلام رسول بختاوری رحمتہ اللہ علیہ صاحبِ فقر درویشی تھے۔ شجرہ بیعت آپ کی بیعت طریقت باباگلاب بادشاہ کن کوٹلی بال گوبندسے تھی۔وہ مرید بابا رمضان شاہ ساکن جَوڑا سیاناں کے۔وہ مرید باباعظیم شاہ کوٹلی والہ کے ۔وہ مرید میاں غلام رسول بن خدابخش بختاوری کے۔ قصیدہ شریف کا فیضان آپ نے ابتدائے احوال میں قصیدہ غوثیہ اکتالیس روز تک پانی میں کھڑے ہوکر پڑھا۔اس سے آپ کو بہت فیض ہوا۔ کرامات ایک مرید کو فیض عطاکرنا آپ کے بیٹے میاں مہرشاہ سے منقول ہے کہ آپ کے مُرید سوایا مراسی ساکن چبّہ سندھواں نے عرض کیاکہ مجھے فیض عطافرماویں ۔آپ نے فرمایا۔ہمارے مرید غوثاترکھان کو چالیس روز مُٹھیں بھرو۔تم کو فیض مل جائے گا۔چنانچہ اُس نے یہی معمول بنالیا۔ چالیسویں روز غوثاکسی کام سے چلاگیا۔سوایاعشأ کے بعد اپنے معمول پر وہاں گیا ۔تواُس کو نہ پا۔۔۔
مزید
آپ میاں محمد بخش بن جان محمد بختاوری رحمتہ اللہ علیہ کے چوتھےبیٹے اور مرید و خلیفہ تھے۔علم و حلم و یمن وبرکت والے تھے۔ تصوّف کاشوق آپ کتب تصوّف کامطالعہ رکھتے ۔خصوصاً کتاب آب حیاتی مصنّفہ حضرت سیّد عم بخش نوشاہی برخورداری رسول نگری رحمتہ اللہ علیہ کے مطالعہ کابہت شوق تھا۔ مولوی بدرالدین بن مولوی کرم الٰہی خوشنویس ساکن گاجرگولہ نے آپ کے لیے خط نسخ سے آب حیاتی لکھی تھی۔جس کا دستخط یہ ہے۔ "الحمدللہ۔تمت تمام شد آب حیاتی بتاریخ ۲۴ ماہ جمادی الثانی۱۳۱۹ھ مطابق ۸ ماہ اکتوبر۱۹۰۱ء موافق ۲۴ماہ اسوج ۱۹۵۸بکرمی بروزمنگلوار وقت پیشی انجام یافت انتظام یافت۔حسب فرمائیش میاں عمدۃ السالکان طریقِ نوشاہی مقبول الٰہی صاحبزادہ خجستی آئیں میاں رکن الدین زاداللّٰہ اشفاقھماز خاندان پاک رحمان ساکن بھڑی شریف بقلم شکستہ رقم بندہ گندہ بدرالدین ولد میاں کرم الٰہی مرحوم ساکن گاجرگولہحرسھااللّٰہ تعالٰی عن۔۔۔
مزید
آپ میاں محمد بخش بن جان محمد بختاوری رحمتہ اللہ علیہ کے تیسرے بیٹے اور مرید تھے۔ غیبی عطیہ ایک روز آپ درگاہِ عالیہ رحمانیہ میں بیٹھے تھے۔محمد لوہارکوکہاتمباکو پاؤ۔اُس نے دُھواں پر جاکرااپ کا صافہ کھولاتو تمباکو میں ایک روپیہ تھا۔اس نےچُھپاکر سوراخ میں دے دیا اور تمباکوپاکرلے آیا۔آپ دیر تک پیتے رہے۔جب وہ چلم ختم ہوگئی توپھرکہا۔نیا تمباکو پاؤ۔جب اُس نے دوبار ہ صافہ کھولا۔پھربھی روپیہ میں موجودتھا۔آپ نے کہا ۔بھائی اگرہزاردفعہ بھی نکالوگےتویہ عطیہ غیبی موجودہی رہے گا۔پھروُہ نادم و شرمندہ ہوا۔ کتاب خوانی آپ کو علم فقہ سے دلچسپی تھی۔کتاب انواع العلوم مصنّفہ مولوی عبداللہ لاہوری کامطالعہ رکھتے۔کتاب روشندل پنجابی منظوم قلمی کے ایک نسخہ سے ثابت ہوتاہےکہ وہ کسی کاتب نے آپ کے واسطے لکھی تھی۔اُس کا دستخط یہ ہے۔ "تمام شدایں کتاب روشندل برائے میاں قطب الدین فقیر ولد میاں محمد بخش سا۔۔۔
مزید