آپ میاں سلطان امیر بن محبوب شاہ بن محمد اکرم نوشہروی رحمتہ اللہ علیہ کے تیسرے بیٹے تھے۔ بیعت وخلافت میاں سلطان مُلک بن سلطان محمد نوشہروی رحمتہ اللہ علیہ سے حاصل تھی۔ نوشاہی دیدار آپ ظاہری علم میں بھی اچھی دسترس رکھتے تھے۔فقرمیں آپ کی منزلت خاص تھی۔تصوّف اور شرع کے پابند تھے۔ایک مرتبہ آپ کو حضرت نوشہ گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ کی زیارت ظاہری آنکھوں سے ہوئی۔ ایک مخالف کو سزا آپ کے بیٹے میاں محمد الدین مرحوم سے منقول ہے کہ ایک بار آپ ڈھوسریالی میں گئے۔سوہنداخاں ارائیں کی زوجہ نے عرض کیاکہ اگرہم کو دودھ مل جائے توآپ کو کھیر کِھلائیں ۔آپ نے دُعاکی۔حق تعالےٰ نے اِ ن کو دوبھینسیں عطافرمائیں ۔دوسرے سال آپ بمعہ قوالاں وہاں گئے تواس نےکھیرپکائی۔پھراس کو خیال آیا کہ یہ تو سب مراسی لوگ ہی کھاجائیں گے۔میرے بچّوں کے لیے تونہیں بچے گی۔اُس نے کھیرچھپاکررکھ دی۔اور آپ کے واسطے مسور کی دال پ۔۔۔
مزید
آپ میاں سلطان ملک بن سلطان محمد نوشہروی رحمتہ اللہ کے پانچویں فرزند اور مریدو خلیفہ تھے۔ قرآن مجید کے حافظ تھے۔علم و فضل بھی اچھاتھا۔شریعت و طریقت کے پابند تھے۔عملیات میں خاصی دسترس رکھتے تھے۔خصوصاً عمل حُب آپ کے پاس مجرب تھا۔ اولاد آپ کے تین بیٹے تھے۔ ۱۔میاں چراغ علی۔ ۲۔میاں فضل علی المعروف پیر فضل۔ ۳۔میاں باغ علی۔ ؎ میاں چراغ علی امیرانہ مزاج درویش خیال تھے۔ان کا ایک درویش سائیں حَسّے شاہ نام تھا۔ دنیا سے لاولد فوت ہوئے۔ ؎ میاں فضل علی المعروف پیر فضل بن حافظ حسن محمد۔باشریعت ۔صوفی مشرب تھے۔ درود شریف ہزارہ کاوِرد رکھتے ۔۱۳۵۳ھ میں انتقال کیا۔مادۂ تاریخ "مرغوب ال۔۔۔
مزید
آپ میاں سلطان ملک بن میاں سلطان محمد نوشہروی رحمتہ اللہ علیہ کے دوسرے بیٹے تھے۔ بیعت و خلافت حضرت شیخ بڈھابن شیخ فیض بخش سلیمانی بھلوالی رحمتہ اللہ علیہ سے تھی۔جن کا ذکرچوتھے طبقہ کے ساتویں باب میں گذرچکاہے۔ مشایخ صحبت آپ کے ہمشیرہ زادہ سید اکبرشاہ خوارزمی سوہدروی رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے تھےکہ ماموں میاں سلطان مست رحمتہ اللہ علیہ کو متعدد بزرگوں سے فیض حاصل ہواتھا۔ ازاں جُملہ ۱۔میاں سلطان علی بن میاں عبدالغفور جھنگی والہ رحمتہ اللہ علیہ۔ ۲۔سیدبُھلے شاہ خوارزمی رحمتہ اللہ علیہ ساکن ریاست جموں۔ ۳۔سائیں مستان شاہ ہندوستانی رحمتہ اللہ علیہ ۔ ۴۔سید حافظ قل احمد پاکذات نوشاہ ِثانی برخورداری ساہنپالوی رحمتہ اللہ علیہ۔ آپ ان سب بزرگوں کے فیض صحبت سے مشرف ہوئے اور کمال کو پہنچے۔ ۱؎یہ اصل قلمی مکتوب صاحبزادہ غلام سرورکیانی ایم اے کے کتب خانہ میں بمقام دڑوہ موجود ہے۱۲۔ ۲؎میاں الٰہی بخش نو۔۔۔
مزید
آپ میاں پیر بخش بن میاں سلطان محمد نوشہروی رحمتہ اللہ علیہ کے فرزنداکبراور مرید و خلیفہ وسجادہ نشین تھے۔آپ فنون سپہ گری و شہسواری وجوانمردی میں اپنے بزرگوں سے سبقت لے گئے تھے۔ شاہانہ جلسوں میں خلعتیں حاصِل کرتے۔ سِکّھوں کی ملازمت آپ کےزمانہ میں سِکّھوں کی حکومت تھی ۔آپ اُن کے لشکرمیں بعہدۂ کمیدان ملازم تھے۔سِکھ سردارآپ کی بڑی قدر کرتے تھے۔کتاب عمدۃ التواریخ مصنّفہ لالہ سوہن لعل سُوری کنجاہی اور کتاب عبرت نا مہ میں مصنّفہ مفتی علی الدین لاہوری رحمتہ اللہ علیہ میں جو سِکّھوں کے عہد کی معتبرتاریخیں ہیں۔فتوحات سکّھاں میں جابجاآپ کانام بنام "میاں الٰہی بخش کمیدان"تحریر ہے۔آپ نے جنگوں میں کافی حِصّہ لیاہے۔ سکّھوں کی قدردانی اُس زمانہ میں غارتگری کا بازار گرم تھا۔طوائف الملوکی تھی۔سِکھ آپ کے جان ومال کی حفاظت کرتےتھے۔چنانچہ اِس مکتوب سے ظاہر ہوتاہےجو کسی افسربالا۔۔۔
مزید
آپ میاں سلطان شاہ بن میاں محمد اکرم نوشہروی رحمتہ اللہ علیہ کے تیسرے بیٹے اور مرید و خلیفہ تھے۔اہل عبادت وریاضت تھے۔ ۱؎میاں سلطان ملک نوشہروی رحمتہ اللہ علیہ کاکچھ ذکر شریف التواریخ کی تیسری جلد موسوم بہ تذکرۃ النوشاہیہ کے پانچویں حِصّہ عوارف الانوار میں لکھاجائےگا۔شرافت دَڑوہ میں وَرود آپ کی تربیّت بمقام حاجی والہ ضلع گجرات ہوئی۔جب جوان ہوئے۔تو بمقام دَڑوہ آکر ایک حجرہ بنایااوراس میں مصروف عباد ت رہنے لگےاوراپنی سکونت سے بھی اُسی جگہ کو نوازا۔ صاحب سنگھ کا مُرید ہونا منقول ہے کہ ایک مرتبہ سردارصاحب سنگھ حاکم قلعہ اسلام گڑھ بمعہ میاں پیر بخش بن میاں سلطان محمد نوشہروی رحمتہ اللہ علیہ کے شکارسے واپس آتاہواآپ کے سلام کو حاضر ہوا۔آپ کے انوارولایت کودیکھ کرمریدہوگیااورتین سوبیگہہ زمین معافی دے گیا جاگیرات آپ کو متعدد جگہوں پر جاگیریں ملی ہوئی تھیں۔وہ زمینیں معاف تھیں۔۔۔۔
مزید
بسلطانِ مُلک از حضورِ الاہ رسید ہ بسے رتبہ بے اشتباہ آپ میاں سلطان محمد بن میاں محمد اکرم نوشہروی رحمتہ اللہ علیہ کے تیسرے بیٹے تھے۔اجازت و خلافت شیخ چوغطے شاہ فقیر نوشاہی رحمتہ اللہ علیہ سے رکھتے تھے۔جن کاذکر کتاب ہذاکی تیسری جلد موسوم بہ تذکرۃ النوشاہیہ کے چھٹے حِصّہ میں آئے گا۔ تعلیم آپ جب سن تمیز کوپہنچے تووالد نے آپ کو موضع لنگے برلب دریائے چناب میاں وڈا رحمتہ اللہ علیہ کے درس میں داخل کیا۔آپ نے وہاں سے قرآن مجید قرأ ت کے ساتھ پڑھا اور فارسی درسی کتابوں پر بھی عبورکیا۔ واقعہ بیعت منقول ہے کہ ابتدائے شباب میں آپ بڑے امیرانہ مزاج تھے۔ریشمی لباس پہنتےاور ہاتھوں میں سنہری کڑے ہوتے تھے۔شہسواری اور نیزہ بازی کا شوق تھا۔ایک مرتبہ آپ علاقہ سیالکوٹ میں بمعہ درویشوں کے گئے۔مریدوں نے آپ کی گھوڑیاچَرنے کے لیے کھلی چھوڑ دین۔انہوں نے سکّھوں کے کھیت کا اجاڑاکیا۔توس۔۔۔
مزید
آپ میاں سلطان محمد بن میاں محمد اکرم نوشہروی رحمتہ اللہ علیہ کے دوسرےبیٹے اورمریدو خلیفہ اور سجادہ نشین تھے۔آپ نوجوان ۔شاہزور۔فنونِ سپاہ گری کے واقف بہادری اور شجاعت میں بے مثل تھے۔ ملازمت سکھاں آپ نے اوائل میں سردارصاحب سنگھ اسلام گڑھی کے ہاں ملازمت اختیار کی تھی۔سپاہ گری کے جوہر دکھاکرموردِ الطاف و انعامات رہےاورخلعت پائی۔ جاذبہ الٰہی آخر محبّت الٰہی نے کشش کی توآپ ملازمت چھوڑ کرآباؤاجدادکے راستہ پر گامزن ہوئےاوردرویشی میں مقام راسخ پایا۔ بیویاں اوراولاد آپ کی چار بیویاں تھیں۔جن سے پانچ بیٹے ۔بتفصیل ذیل پیداہوئے۔ ۱۔مسمات بخت بھری قوم چبھہ راجپوت ساکن کوٹ کمیلہ ریاست جمّوں ۔ان کے بطن سے تین بیٹے میاں سلطان علی اور میاں سلطان اشرف اور میاں سلطان بھاگن لاولدپیداہوئے۔ ۲۔مسمات نوربھری قوم کھوکھرساکن وزیرآباد ۔ان کے بطن سےایک فرزند میاں الٰہی بخش پیداہوئے۔جن کاذکر چھٹے باب۔۔۔
مزید
آپ میاں محمد اکرم بن میاں عبدالجلیل نوشہروی رحمتہ اللہ علیہ کے تیسرے فرزند اور مرید وخلیفہ تھے۔ اخلاقِ حسنہ آپ اپنے زمانہ میں ولایت کےنشان۔صاحب دردوذوق و شوق۔اہل راز و نیاز تھے۔بحر توحیدمیں مستغرق رہتے۔مسکینوں غریبوں کی خدمت کرتے۔حلیم الطبع۔مشفق رحیم و کریم تھے۔توحید کی رنگت آپ کے چہرہ پر نمایاں تھی۔خدا کے مقبول بندوں سے تھے۔ حاجی والہ میں ورود آپ اپنے سُسرال کے گاؤں حاجی والہ ضلع گجرات میں چلے گئے۔اوروہیں سکونت اختیارکی۔ اولاد آپ کانکاح مسمات بیگم بی بی دختر ملک محمد غازی اعوان ساکن حاجی والہ سے تھا۔اُن کے بطن سے اولاد ہوئی۔ آپ کے پانچ بیٹے تھے۔ ۱۔میاں سلطان سکندر۔ ۲۔میاں سلطان صاحب جی لاولد۔ ۳۔میاں سلطان حاجی۔ ۴۔میاں سلطان عالم۔ ۵۔میاں سلطان فضل۔ ؎ میاں سلطان سکندر۔علم ظاہر وباطن میں یگ۔۔۔
مزید
آپ میاں محمد اکرم بن میاں عبدالجلیل نوشہروی رحمتہ اللہ علیہ کے تیسرے فرزند اور مرید وخلیفہ تھے۔ اخلاقِ حسنہ آپ اپنے زمانہ میں ولایت کےنشان۔صاحب دردوذوق و شوق۔اہل راز و نیاز تھے۔بحر توحیدمیں مستغرق رہتے۔مسکینوں غریبوں کی خدمت کرتے۔حلیم الطبع۔مشفق رحیم و کریم تھے۔توحید کی رنگت آپ کے چہرہ پر نمایاں تھی۔خدا کے مقبول بندوں سے تھے۔ حاجی والہ میں ورود آپ اپنے سُسرال کے گاؤں حاجی والہ ضلع گجرات میں چلے گئے۔اوروہیں سکونت اختیارکی۔ اولاد آپ کانکاح مسمات بیگم بی بی دختر ملک محمد غازی اعوان ساکن حاجی والہ سے تھا۔اُن کے بطن سے اولاد ہوئی۔ آپ کے پانچ بیٹے تھے۔ ۱۔میاں سلطان سکندر۔ ۲۔میاں سلطان صاحب جی لاولد۔ ۳۔میاں سلطان حاجی۔ ۴۔میاں سلطان عالم۔ ۵۔میاں سلطان فضل۔ ؎ میاں سلطان سکندر۔علم ظاہر وباطن میں یگ۔۔۔
مزید
آپ میاں محمد اکرم بن میاں عبدالجلیل نوشہروی رحمتہ اللہ علیہ کے دوسرے بیٹے اور مریدو خلیفہ تھے۔ہردم یادِ خدا میں محو اورنشہ توحید میں سرشار رہتے ۔سوائے سخت ضرورت کے کلام نہ کرتے ۔ ذکرہُو میں دائمی اشتغال تھا۔ مسکین پروری منقول ہے کہ آپ زیادہ تر حالت سکرمیں رہتے تھے۔اپنی زراعت سے جو غلّہ آتا۔وہ فقیروں درویشوں کوتقسیم کردیاکرتے تھے۔چھوٹے بچّوں کو دانے بُھنا کر دیاکرتے۔ تا کہ وہ چباکرخوش ہوں۔ کرامات نماز کے لیے بیدارکرنا شیخ پیر کمال لاہوری رحمتہ اللہ علیہ کتاب تحائف قدسیہ میں لکھتے ہیں کہ ایک رات میں غفلت کی نیند سویاہواتھا۔خواب میں زیارت ہوئی۔آپ نے فرمایااُٹھ اور فجر کےسلام کومحفوظ رکھ۔میں بیدارہواتودیکھا کہ فجر کی نماز کا وقت اخیرہوچکاتھا۔میں نے جلدی سے وضو کرکے نمازاداکی۔پھر فوراً سورج نکل آیا۔اُس وقت آپ کی عمر چودہ سال تھی۔ اولاد کے حق میں دعاکرنا منقول ہے کہ آپ کے بھت۔۔۔
مزید