فرزند اکبر میاں پیراں بخش بن سلطان بالا بن الٰہی بخش نوشہروی رحمتہ اللہ علیہ آپ ۱۲۹۷ھ میں پیدا ہوئے۔مولوی حافظ محمدرمضان قادری فاضلی رحمتہ اللہ ساکن دَڑوہ نے آپ کا قطعہ تاریخ بنایا۔ آپ کے والد نے ان کو گھوڑا انعام میں دیا۔ قطعہ تاریخ مبارک برمبارک بر مبارک زافضالِ خدا لک باربادا چراغ افروخت اندر فقرِ نوشہ بمدوش حضرت سچیاربادا گُلے خندیداندر باغِ سچیار ہمیشہ خندۂ بے خار بادا کہ میراں بخش پیراں بخش رازو مبارک تہنیت صدباربادا گلِ اقبالِ اودائم شگفتہ بچشمِ دشمنانش خار بادا بعالم بادبااعزازواقبال دُرادولت ہمیشہ یاربادا بعزوحشمت واقبال ودولت زعمرِ خویش برخوردار بادا بگوتاریخِ تولید یش۔ابدا۹۷ الٰہی بخت دے بیدابادا۱۲ دعاگو لائقِ انعام بے شک چہ انعام اسپِ خوش رفتار بادا اولاد آپ کے دو بیٹے ہیں ۔ ا۔صاحبزادہ اللہ دتہ۔ ۲۔صاحبزادہ ف۔۔۔
مزید
آپ میاں میراں بخش بن سلطان بالانوشہروی رحمتہ اللہ علیہ کے فرزند ارجمنداور سجادہ نشین تھے۔ بیعت طریقت آپ کی سید اکرم الٰہی بن سیّد حیدر شاہ ہاشمی رنملوی رحمتہ اللہ علیہ سے تھی۔ اس سے اُوپر شجرہ میاں غلام مصطفےٰ نوشہروی کے ذکرمیں لکھاجاچکاہے۔ اذکار واعمال آپ صاحب علم و عمل تھے۔شریعت کے پابند ۔تلاوت قرآن مجید بلاناغہ کیا کرتے۔نماز باجماعت پڑھنے کی کو شش کرتے۔علم دوست تھے۔علمأ و فضلاکے ساتھ محبت رکھتے ۔ عُرس شریف کے موقعہ پرضروروعظ کروایاکرتے۔ حج وزیارات آپ نے حرمین الشریفین میں جاکر فریضہ حج اداکیااور زیارات مقامات مقدسہ بغداد شریف۔کربلائے معلّےٰ۔نجف اشرف سے بھی مشرف ہوئے۔ استقامت ایک مرتبہ عرس شریف کے موقعہ پررات کو طواف کے بعد درگاہِ سچیاریہ کے پاس آتش بازی کا اکھاڑہ لگا۔قدرت الٰہی سے ایک ہوائی جہاز کاچکرچھوٹ کر خلائق کے ہجوم میں داخل ہوگیا۔خلقت ہرطرف بھاگنے لگی۔میں نے دیکھاکہ۔۔۔
مزید
آپ فرزند اکبرمیاں حشمت علی بن اکبرعلی دڑوہ والہ رحمتہ اللہ علیہ کے تھے۔بیعت و خلافت اپنے حقیقی چچامیاں سلطان شیردڑوہ والہ رحمتہ اللہ علیہ سے رکھتے تھے۔ اخلاص آپ درویش صورت نیک سیرت ۔شاہ قد جسیم تھے۔سرپرٹوپی رکھتے ۔ادب اخلاص میں بلند پایہ تھے۔متعدد مرتبہ مجھ کو ملے۔عزّت واحترام وآداب میں کوئی دقیقہ نہ چھوڑتے۔درگاہ نوشاہیہ میں کئی مرتبہ حاضر ہواکرتے ۔ خاندانی تاریخ آپ کا حافظہ بہت قوی تھا۔اپنے خاندان کی تاریخی روایات کا آپ کو کافی علم تھا۔اپنی یادداشت کی بناپر اپنے بزرگوں کے واقعات بیان کرتے ۔میں نے ۱۳۷۱ھ میں خود آپ کے پاس موضع دَڑوہ جاکرآپ سے حضرات سچیاریہ کے حالات تحریر کیے۔ اولاد آپ کے ایک ہی فرزند صاحبزادہ محمد فاضل موجودہیں۔ صاحبزادہ محمدفاضل کے تین بیٹے ہیں۔صاحبزادہ مظفرعلی۔صاحبزادہ خضر حیات۔صاحبزادہ محمداکرام۔تینوں اس وقت موجود ہیں۔ تاریخ وفات میاں امام علی کی وفات ۱۳۷۔۔۔
مزید
آپ میاں سلطان بالابن الٰہی بخش نوشہروی رحمتہ اللہ علیہ فرزند اکبرتھے۔بیعت طریقت اور خلافت شیخ گوہرشاہ بن شیخ ماہی شاہ سلیمانی رنملوی رحمتہ اللہ علیہ سے تھی۔جن کاذکر چوتھےطبقہ کے نویں باب میں گذرچکاہے۔آپ والد بزرگوارکےبعد سجادہ نشین ہوئے۔ شجرہ بیعت میاں سلطان شیردڑوہ والہ کے حالات میں لکھاجاچکاہے۔ وجد و تاثیر منقول ہے کہ ایک بارتمام اولادحضرت سچیاردرگاہَ حضرت نوشہ گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ پر حاضر ہوئے۔محفل سرورمنعقدہوئی۔دیرتک قوالی ہوتی رہی ۔مگرکسی کو تاثیر نہ ہوئی۔سب کو خیال ہو ا کہ شہنشاہ کے دربارکے سامنے قوالی ہورہی ہے۔پھر وجد کیوں نہیں ہوتا۔ اس وقت آپ جوش سے اُٹھ کردربارشریف کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایاقوالو۔یہ پڑھو۔ "شہربھنبھوروسندیوکُڑیونک نَتھ نہ رکھیوکائی" اورہاتھ سے اشارہ بھی کیا۔اُس وقت اتنی تاثیرہوئی کہ کُل اہل مجلس کو وجدہوگیا۔ توام لڑکے پیداہونےکی دعا میاں محمد ا۔۔۔
مزید
آپ میاں اکبرعلی بن سلطان حاجی دڑوہ والہ کے چوتھے بیٹے تھے۔ معمولات آپ پرہیزگار،اہل تقوٰے تھے۔نماز پنجگانہ پر واظبت رکھتے۔سردیوں کے موسم میں ساری مسجد میں گذاردیتے۔قرآن مجید کی تلاوت کیاکرتے۔ان کاجسم دُبلاپَتلاتھا۔ شادی خانہ آبادی آپ کی شادی ۲۷کتک ۱۹۱۹بکرمی مطابق ۱۹جمادی الاولیٰ ۱۲۷۹ھ کو ہوئی۔ اولاد آپ کے دوبیٹے تھے۔ ا۔میاں اللہ دتہ لاولد۔ ۲۔میاں فیروزعلی۔ ؎ میاں فیروزعلی کے چاربیٹے ہیں۔صاحبزادہ محمد شفیع۔صاحبزادہ محمد عالم۔صاحبزادہ محمد طفیل۔صاحبزادہ نذرمحی الدین موجود ہیں۔ ؎ صاحبزادہ محمد عالم کے چار بیٹے ہیں۔صاحبزادہ محمود اختر۔صاحبزادہ سلمیر احمد۔صاحبزادہ منیر احمد۔صاحبزادہ سعید احمد۔چاروں موجودہیں۔ تاریخ وفات میاں دی۔۔۔
مزید
آپ میاں اکبرعلی بن سلطان حاجی دَڑوہ والہ کے تیسرے بیٹے تھے۔بیعت طریقت سلطان مست بن سلطان ملک نوشہروی سے تھی۔ اخلاق و عادات آپ بڑے بارعب وبااقبال تھے۔سخاوت اور جودوکرم میں بلند پایہ تھے۔چھ ہَل کی زراعت کرتے۔دولتمندواہل جمیعت تھے۔آیندہ روندہ کوروٹی دیاکرتے۔ اولاد آپ کے تین بیٹے تھے۔ ا۔میاں امام علی۔ ۲۔میاں فتح علی۔ ۳۔میاں غلام حسن۔ ؎ میاں امام علی کاذکر آٹھویں باب میں آئےگا۔ ؎ میاں فتح علی کے ایک ہی فرزند میاں نواب علی موجودہیں۔ ؎ میاں نواب علی کے دو بیٹے ہیں۔صاحبزادہ غلام انور۔صاحبزادہ غلام غوث۔دونوں اس وقت موجود ہیں۔ ؎ صاحبزادہ غلام ا۔۔۔
مزید
آپ میاں اکبرعلی بن سلطان حاجی دَڑوہ والہ رحمتہ اللہ علیہ کے دوسرے فرزند تھے۔بیعت وخلافت شیخ گوہر شاہ بن شیخ ماہی شاہ سلیمانی رنملوی رحمتہ اللہ علیہ سے رکھتے تھے۔ شجرہ بیعت آپ مرید شیخ گوہرشاہ سلیمانی کے۔وہ مرید شیخ نظام الدین سلیمانی رحمتہ اللہ علیہ گھنگوالی کے۔ اس سے اُوپرشجرہ میاں غلام حسن بن سلطان مست نوشہروی رحمتہ اللہ علیہ کے ذکرمیں لکھاگیاہے۔ فیضانِ کثیر آپ بڑے صوفی اہل شریعت وطریقت۔صاحب فیضان ظاہری و باطنی تھےنماز باجماعت اداکیاکرتے ۔دنیاوی جاہ وجلال بھی بہت تھا۔ اولاد آپ کے پانچ بیٹے تھے۔ ا۔میاں چراغ علی ۔ ۲۔میاں حسین بخش۔ ۳۔میاں عطامحمد۔ ۴۔حافظ غلام محمد۔ ۵۔میاں شاہ محمد۔ ؎ میاں چراغ علی کے ایک ہر فرزند صاحبزادہ محمدحسین اس وقت ۱۳۷۶ھ میں موجودہیں۔ ؎ صاحبزادہ محمد حسین کے دو ۔۔۔
مزید
آپ میاں اکبرعلی بن سلطان حاجی دَڑوہ والہ کے فرزند اکبرتھے۔بیعت ِ طریقت نوشاہی ہاشمی خاندان میں کسی صاحبزادہ سےتھی۔ خلعت سرداری والد نے آپ کو تمام بھائیوں پر خلعت سرداری عطاکی۔آپ امیر طبع اور ریاست ولیاقت کے اوصاف سےموصوف تھے۔گھوڑیاں ۔اونٹ اور بَھینسیں رکھنے کا آپ کو بہت شوق تھا۔ آپ کی شادی میاں سلطان بالابن الٰہی بخش نوشہروی کی بیٹی ہوئی تھی۔لیکن کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ تاریخ وفات میاں خوشی محمد کی وفات ۱۲۹۴ھ میں ہوئی۔قبرموضع دَڑوہ (اکبرآباد) ضلع گجرات میں ہے۔ قطعہ تاریخ ازمولوی حافظ محمد رمضان قادری امام مسجد دَڑوہ عیاں شددرجہاں دروالہما جہاں شدتیرہ از آلام، غمہا بعالم غم الم گردید بے حد زفوتِ مہَ لقاخوشی محمد یکے مردِکریم ونیک خُوبود نیامد ہمسرش اندرکرم جود تفاخر فقرِ نوشاہی از ویافت فقط جانِ خود اندرراہِ حق باخت قبائے نیک،بختی دربرش ب۔۔۔
مزید
آپ میاں نبی بخش بن سلطان امیر نوشہروی رحمتہ اللہ علیہ کے دوسرے بیٹے تھے۔بیعت و طریقت اور خلافت سید امیر عالم بن سید ایزدبخش ہاشمی رنملوی رحمتہ اللہ علیہ سے تھی۔جن کاذکرتیسرے طبقہ کے آٹھویں باب میں گذرچکاہے۔ شجرہ بیعت آپ مرید سید امیرعالم ہاشمی کے۔وہ مرید شیخ چنن شاہ بن صدق شاہ سلیمانی رسول نگری کے ۔وہ مرید شیخ پُھلے شاہ بن فتح الدین سلیمانی رحمتہ اللہ علیہ رسول نگری کے۔وہ مرید شیخ حمزہ شاہ سلیمانی جوکالوی کے۔وہ مرید اپنے والد شیخ محمد آفتاب سلیمانی کے۔وہ مرید اپنے والد شیخ تاج محمود قلندریہ سلیمانی بھلوالی کے ۔وہ مرید حضرت نوشہ گنج بخش قادری قدس سرہ العزیز کے۔ اشغال واوراد آپ نے ابتدائے احوال میں اسم شریف اللّٰہ الصَّمَدکی دعوت کی۔جلالی و جمالی کی پرہیزات کے ساتھ پچاس لاکھ ختم کیا۔روزانہ بیس ہزار کی منزل ہوتی تھی۔اس کے بعد روزانہ اس کاوظائف کرتےاوراس کے برکات سے متم۔۔۔
مزید
اِن کی کنیت ابو عبد اللہ، نام عثمان، لقب ذو النّورین تھا، والد کا نام عفّان بن ابی العاص بن حارث بن امیّہ بن عبد الشمس بن عبد المناف بن قصیّ القرشی تھا، [۱] [۱۔ مسالک السالکین جلد اوّل ص ۱۰۹] والدہ کا نام امّ حکیم بیضا بنت عبد المطّلب بن ہاشم بن عبد المناف تھا، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حقیقی پھوپھی تھیں، [۱] [۱۔ سفینۃ الاولیا قلمی ۱۲ خزینۃ الاصفیا جلد اوّل ص ۱۳] واقعہ فیل سے چھ سال بعد پیدا ہوئے، حضرت ابو بکر صدّیق رضی اللہ عنہ اور حضرت امیر رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے بعد سب مردوں سے اوّل ایمان لائے، اور حضرت عمرِ فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد یکم محرم ۲۴ھ کو باتفاق صحابہ کرام رضی اللہ عنہ جلوہ افروزِ خلافت ہوئے اور بارہ سال تک ترویجِ دین فرما کر بروز جمعہ بتاریخ بارہویں (۱۲) ذی الحجہ ۳۵ھ باغیوں کے ہاتھ سے تلاوتِ قرآن مجید فرماتے ہوئے شہید ہوئ۔۔۔
مزید