ہفتہ , 15 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Saturday, 02 May,2026

سیّد نورحسن سہروالہ بقولِ دیگر نورحسین رحمتہ اللہ علیہ

  آپ سیّد قادربخش بن سیّد فقیراللہ بن سیّد محمد سعیددُولارحمتہ اللہ علیہ کے فرزند اصغر تھے۔ شجاعت آپ بڑے جواں مرد۔بہادر۔دلیر۔صاحبِ شجاعت تھے۔مقابلہ میں دشمنوں کوہزیمت دکھاتے۔اُس وقت سکّھوں کی حکومت تھی۔جابجاڈاکے پڑتے تھے ۔آپ بھی مسلح رہتے اورڈاکؤں سے مقابلہ کیاکرتے۔ خانہ جنگی آپ کے زمانہ میں ساداتِ ہاشمیہ کے درمیان جاگیر درگاہ کے متعلق تنازعہ شروع ہوگیا۔اسی کش مکش میں لڑائی ہوگئی۔اثنائے جنگ میں آپ کے پاس بندوق تھی۔آپ نے سیّد نظام الدین بن سیّد سبحان علی ہاشمی رحمتہ اللہ علیہ کو گولی کانشانہ کیا۔امراالٰہی سے وہ بچ گئے اور ان کا ایک درویش ماراگیا۔ گرفتاری اور ضمانت اس قتل کےمقدمہ میں آپ گرفتارہوگئے۔چوہدری الٰہ داد بن غازی نمبردار ساہنپالیہ اورچوہدری دائم بن قطب نمبردار ساہنپالیہ نے ایک ہزار روپیہ کی ضمانت دے کر آپ کو چُھڑایا۔ مفرورہونا آپ ضمانتی ہوتے ہی بھاگ کر ریاست جمّوں وکشم۔۔۔

مزید

سیّد محمد بخش مندرانوالیہ رحمتہ اللہ علیہ

  آپ کا نام محمدبخش مشہورمحمد شاہ تھا۔آپ سیّد فتح الدین بن سیّد عبدالرسول کے چھوٹے فرزند اور خلیفہ تھے۔مستجاب الدعوات تھے۔ کرامات ایک مرید کو اولاد کی دعا آپ کے مُرید فتح دین کے ہاں اولاد نہیں تھی۔آپ نے فرمایا۔ تم اپنےبھائی قطباکی بیوہ سے نکاح کرو۔توخداتعالےٰ تم کو لڑکادےگا۔اُس نے ایساہی کیا۔تواس کے ہاں لڑکاپیداہوا۔جس کا نام اللہ دتہ رکھاگیا۔ گھوڑی مرنے کی خبردینا آپ کے مریدبھاگ نامی کی گھوڑی کو کیڑے پڑ گئے۔اس نے عرض  کیا۔آپ نے کہااُس پر فلاں دوائی ڈالو۔کیڑے مرجائیں گے۔اُس نے علاج کیا۔مگرکوئی فائدہ نہ ہوا۔اُس نے عرض کہ کیڑے تو نہ مرے ۔آپ نے کہااچھاگھوڑی مرجائے گی۔چنانچہ دوسرے دن گھوڑی مرگئی۔ اپنی وفات کی اطلاع دینا آپ نے آٹھ پہرپہلے خبردے دی کہ کل ہمارادنیاسے کوچ ہے۔ دنیاسے لاولد فوت ہوئے۔ یارانِ طریقت آپ کے خواص مرید یہ تھے۔ ۱۔سیّد پیراں دتہ بن سیّد بوٹے شاہ ہاشمی رحمت۔۔۔

مزید

سیّد بوٹے شاہ مندرانوالیہ رحمتہ اللہ علیہ

  آپ سیّد فتح الدین بن سیّدعبدالرسول رحمتہ اللہ علیہ کے بڑے بیٹے تھے۔اپنے دادا کو بھی دیکھاتھا۔ آپ مندرانوالہ میں اپنی ملکیت زمین میں کاشتکاری کیاکرتے۔سادہ مزاج تھے۔چارپائی کھڑی کر کےاُس کاسایہ کرلیتے۔اُس کے نیچےبیٹھ کر اپنے فصل کی گوڈی کیاکرتے۔کوآں؟ جوتاہواتھا۔ اُس کی گاہدی پر بیٹھے ہو فوت ہوگئے۔ اولاد آپ کے چاربیٹے تھے۔ ۱۔سیّد پیراں دتہ  رحمتہ اللہ علیہ۔ ۲۔سیّد اللہ دتہ  رحمتہ اللہ علیہ۔ ۳۔سیّد حسین شاہ رحمتہ اللہ علیہ ان کاذکر ساتویں باب میں آئے گا۔ ۴۔سیّد حسن محمد لاولدرحمتہ اللہ علیہ۔ ؎         سیّد پیراں دتہ ؒ کے دو بیٹے تھے۔سیّد فضل الدین عُرف فضل شاہ۔سید سردارمحمد عُرف  سردارشاہؒ۔ ؎         سیّد فضل شاہ کے ایک فرزندصاحبزادہ سیّد محمد اس وقت موجود ہیں سلمہ اللہ ۔ ؎  &nb۔۔۔

مزید

سیّد شیرشاہ رحمتہ اللہ علیہ

  آپ سیّدالٰہی بخش بن سیّد عبدالرسول رحمتہ اللہ علیہ کے فرزنداصغر تھے۔خرقہ خلافت شیخ امام شاہ وزیرآبادی رحمتہ اللہ علیہ سے حاصل کیا۔وہ مریدشیخ قادرپیرسوہدروی رحمتہ اللہ علیہ کے۔وُہ مُرید شیخ محمد سوہدروی رحمتہ اللہ علیہ کے۔وہ مُرید شیخ پیرمحمد سچیارنوشہروی رحمتہ اللہ علیہ کے۔وہ مرید حضرت نوشہ گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ کے۔ واقعہ ولادت منقول ہے کہ جب آپ پیداہوئے توآپ کے والد بزرگوار سفرمیں گئے ہوئے تھے۔جب گھرآئے تو پوچھاکہ لڑکے کا کیانام رکھاہے۔اہل خانہ نے کہا شیرشاہ!انہوں نے فرمایا۔شیرکی دونوں آنکھیں کون برداشت کرے گا۔چنانچہ اسی وقت آپ کی ایک آنکھ بند ہوگئی۔ مرشد کی تلاش آپ کو شروع سےہی  یادِحق کاشوق تھا۔بیعت ہونے کی غرض سے بھلوال شریف پہنچے۔حضرت شیخ بڈھا بن شیخ فیض بخش سلیمانی رحمتہ اللہ علیہ سے التماس کی۔اُنہوں نے فرمایا۔صبح تم کو بتائیں گے۔رات کو خواب میں آپ کو شیخ امام۔۔۔

مزید

سیّد حیدرشاہ رحمتہ اللہ علیہ بقول دیگرغلام حیدر

  آپ سید نیک محمد بن سیّد عبدالرسول بن سیّد محمد سعید دُولاہاشمی رحمتہ اللہ علیہ کے دوسرے بیٹے تھے۔ قابلیت آپ بڑے داناو مدبّر صائب الرائے تھے۔دنیاوی امورمیں آپ بڑی قابلیّت رکتھے تھے۔ سب لوگ آپ کے مشوروں پر عمل کرتے۔آپ نے اپنے داداکودیکھاتھا۔زراعت پیشہ کرتے۔رنمل میں سکونت تھی۔ اولاد آپ کے چار بیٹے تھے۔ ا۔سیّد صاحبزادہ المعروف اکبرعلی شاہ رحمتہ اللہ علیہ ۔ان کا ذکر ساتویں باب میں آوے گا۔ ۲۔سیّد فضل الدین صاحب رحمتہ اللہ علیہ۔ ۳۔سیّدراجے شاہ رحمتہ اللہ علیہ ۔ ۴۔سیّد کرم الٰہی صاحب رحمتہ اللہ علیہ ان کاذکرساتویں باب میں آوےگا۔ ؎         سیّد فضل الدین رحمتہ اللہ علیہ کے چار بیٹے ہوئے۔سیّد گامے شاہ رحمتہ اللہ علیہ۔           سیّدوارے شاہ رحمتہ اللہ علیہ۔سیّد محمد علی رحمتہ اللہ علیہ ۔اِن تینوں کا ذ۔۔۔

مزید

سیّد سکندرشاہ چک سادہ والہ رحمتہ اللہ علیہ

  آپ سیّد شاموں شاہ بن سیّد عبدالرسول ہاشمی رحمتہ اللہ علیہ کے چھوٹے بیٹے تھے۔صاحب علم و حلم تھے۔فارسی علم ادب میں خاصی مہارت رکھتے تھے۔سخن شناس۔علمأکےقدردان تھے۔ مکتوب آپ کا ایک مکتوب  دستیاب ہواہے۔جوآپ نے کسی دوست ناظرمحمود کے نام لکھاتھا۔ تبرکاً نقل کیاجاتاہے۔ "عالی شان خیرخواہ ناظرمحمودمسرور باشند۔ازفقیرسکندرشاہ نوشاہی دریں وقت بصوبِ شمانگارش میرود کہ بموجب عریضہ شماکہ درحصول مال و مواشی زمیندارانِ وڑائچانوالہ وچھوہرانوالہ بطرف مہربان ذیشان یک جہتی ویک رنگی عنوان دیوان صاحبِ دیوان چرن داس جی نگارش رفتہ بودچنانچہ دریں حصول مہربان ذیشان ِ موصوف آدم خود فرستادہ نزدشماخواہد رسید۔بائیدکہ آنچہ مال مواشی علاقہ دیوان صاحب موصوف باشدآں راسُپردو تفویض زمینداران آنہانمودہ وآنچہ مال مواشی علاقہ کُنجاہ باشد آں رابدریافت نمایندکہ درمیان علاقہ ایں جانب و علاقہ مشفق مہربان موصوف سرم۔۔۔

مزید

سیّد لطف الدین رحمتہ اللہ علیہ

  آپ سیّد شاموں شاہ بن سیّد عبدالرسول ہاشمی رحمتہ اللہ علیہ ساکن چک سادہ کے بڑے بیٹے تھے۔ نیک خو۔پارساخدایادتھے۔موضع رنمل میں سکونت رکھتے۔زراعت پیشہ کیاکرتے۔ اولاد آپ کے چاربیٹے تھے۔ ۱۔سیّد غلام قادررحمتہ اللہ علیہ۔ ۲۔سیّد فیض بخش رحمتہ اللہ علیہ ۔ ۳۔سیدمعظم الدین عرف موجدین رحمتہ اللہ علیہ ۔ ۴۔سید عالم الدین۔ ؎         سید غلام قادر کا نکاح سیدہ فضل بی بی بنت سیّد فتح الدین بن سیّد خدابخشؒ برخورداری           ساہنپالوی سے ہوا۔ان کے دوبیٹے تھے۔سیّد پیرمحمدؒ۔سیّد اللہ دتہؒ۔ ؎         سیّد پیرمحمد رحمتہ اللہ علیہ کا ذکرآٹھویں باب میں آوےگا۔ ؎         سیّداللہ دتہ ؒتاش کھیلنے کے شوقین تھے۔ان کا ایک بیٹا صاحبزادہ نورمحمد ن۔۔۔

مزید

حضرت محیاۃ رضی اللہ عنہا

بنت امر القیس الکلابیہ معلوم نہیں اِن کے بطن سے کون اولاد ہوئی۔ محمد اصغر کی والدہ امّ ولد تھی۔ غرضکہ آپ کی بیبیوں اور سراری میں صرف دس امّہات الا و لاد تھیں، اور آپ کی وفات کے وقت آپ کی چار بیبیاں حضرت امامہ رضی اللہ عنہا حضرت اسماء رضی اللہ عنہا حضرت امّ البنین رضی اللہ عنہا حضرت لیلیٰ رضی اللہ عنہا موجود تھیں۔ [۱][۱۔ مسالک السّالکین جلد اوّل ص ۱۸۲] (شریف التواریخ)۔۔۔

مزید

سیّدمحمد بخش رحمتہ اللہ علیہ

  خلف الرشید سیّد محمد جعفربن سیّد عبدالرسول بن سیّد محمد سعید دولارحمتہ اللہ علیہ آپ کو بیعت طریقت اوراجازت حضرت سیّد فتح محمد بن سیّدضیأ اللہ برخورداری رسول نگری رحمتہ اللہ علیہ سے تھی۱؎۔ اولاد آپ کے دوبیٹے تھے۔ ا۔سیّد کریم بخش رحمتہ اللہ علیہ ۔ ۲۔سیّدرحیم بخش رحمتہ اللہ علیہ آپ کی تین بیٹیاں تھیں۔ ۱۔سیّدہ عظیم بی بی ۔منکوحہ سیّد صاحبزادہ بن سیّد حسن محمدہاشمی رحمتہ اللہ علیہم۔ ۲۔سیّدہ رحیم بی بی۔منکوحہ سیّد فیض بخش بن سیّد لطف الدین ہاشمی رحمتہ اللہ علیہم۔ ۳۔سیّدہ امام بی بی ۔یہ سیّد الٰہ دین بن سیّد فتح الدین برخورداری ساہنپالوی سے منسوب تھیں۔ وہ حج کو چلے گئے اور مفقود الخبرہوگئے۔اس لیے انہوں نے بعد میں کسی سے نکاح نہیں کیا اورتارکہ مجردہ ہی عمر بسرکی۔ وفات  ۱۲۳۵ھ؁۔     (شریف التواریخ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

سیّدمحمد بخش رحمتہ اللہ علیہ

  خلف الرشید سیّد محمد جعفربن سیّد عبدالرسول بن سیّد محمد سعید دولارحمتہ اللہ علیہ آپ کو بیعت طریقت اوراجازت حضرت سیّد فتح محمد بن سیّدضیأ اللہ برخورداری رسول نگری رحمتہ اللہ علیہ سے تھی۱؎۔ اولاد آپ کے دوبیٹے تھے۔ ا۔سیّد کریم بخش رحمتہ اللہ علیہ ۔ ۲۔سیّدرحیم بخش رحمتہ اللہ علیہ آپ کی تین بیٹیاں تھیں۔ ۱۔سیّدہ عظیم بی بی ۔منکوحہ سیّد صاحبزادہ بن سیّد حسن محمدہاشمی رحمتہ اللہ علیہم۔ ۲۔سیّدہ رحیم بی بی۔منکوحہ سیّد فیض بخش بن سیّد لطف الدین ہاشمی رحمتہ اللہ علیہم۔ ۳۔سیّدہ امام بی بی ۔یہ سیّد الٰہ دین بن سیّد فتح الدین برخورداری ساہنپالوی سے منسوب تھیں۔ وہ حج کو چلے گئے اور مفقود الخبرہوگئے۔اس لیے انہوں نے بعد میں کسی سے نکاح نہیں کیا اورتارکہ مجردہ ہی عمر بسرکی۔ وفات  ۱۲۳۵ھ؁۔     (شریف التواریخ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید