آپ سیّد سلطان محمود بن سیّد قدم الدین رحمتہ اللہ علیہ کے چھوٹے بیٹے تھے۔بیعت و خلافت شیخ غلام حسن بن شیخ بڈھاسلیمانی بھلوالی رحمتہ اللہ علیہ سے رکھتے تھے۔ آپ نے کوئی اولاد صلبی نہیں چھوڑی۔آپ کے ایک مرید میاں غلام حسن بن میاں سلطان مست نوشہروی رحمتہ اللہ علیہ قابل ذکرہیں۔جوحضرت سچیار صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی اولادسے تھے۔ وفات ۱۲۸۶ھ۔ (سریف التواریخ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
آپ سیّد سلطان محمود بن سیّد قدم الدین ہاشمی رحمتہ اللہ علیہ کے بڑےبیٹے تھے۔ تاریخ ختنہ آپ کی سنت ختنہ یکم بھادوں ۱۸۸۹بکرمی مطابق پنجشنبہ ۱۹ ربیع الاوّک ۱۲۴۸ھ میں ہوئی۔ تاریخ شادی آپ کی شادی چھبیسویں ہاڑ۱۹۰۱بکرمی مطابق سہ شنبہ۲۲جمادی الاخریٰ ۱۲۶۰ھ میں ہوئی۔ آپ کے ہاں کوئی اولاد نہیں ہوئی۔شادی ہونے کے ایک سال بعد آپ جوانی میں ہی فوت ہوگئے۔ تاریخ وفات سیّد سلطان صوبہ کی وفات آٹھویں ساون ۱۹۰۲بکرمی مطابق چہارشنبہ ۱۸ رجب ۱۲۶۱ھ میں ہوئی۔گورستانِ نوشاہیہ میں دفن ہوئے۔ مادہ تاریخ ہے "فرصت یافت"۔ (سریف التواریخ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
خلف الرشید سیّد شاہ مغل بن سیّد غلام محمد بن سید سلطان محمد بن سیّد محمد سعید دُولاہاشمی رحمتہ اللہ علیہ۔ آپ کی بیعت طریقت شیخ غلام حسن بن شیخ بڈھاسلیمانی بَھلوالی رحمتہ اللہ علیہ سے تھی۔ بقولِ صحیح سیّد فتح محمدبن ضیأ اللہ رسول نگری رحمتہ اللہ علیہ کے مُرید تھے۔(مناقبات نوشاہیہ) اولاد آپ کے تین بیٹے تھے۔۱۔سیّد نورعلی رحمتہ اللہ علیہ۔ ۲۔سیدسلطان علی رحمتہ اللہ علیہ ۔ ۳۔سیّد نبی بخش رحمتہ اللہ علیہ (متوفی ۲ جمادی الاخرےٰ ۱۳۳۲ھ)۔ ؎ سیّدنورعلی ؒ کے دو بیٹے تھے۔سیّد برکت علیؒ۔سیّد سردارعلیؒ۔ ؎ سیّد برکت علیؒ کے چاربیٹے ہیں۔سیّد ولایت حسین ؒ۔سیّد عنایت حسین۔سیّد منظور حسینؒ۔سید محمد سعید۔چاروں اس وقت موجودہیں۔رَن مل میں سکونت رکھتے ہیں۔ ؎ &nbs۔۔۔
مزید
آپ کا اصلی نام غلام حسین المعروف حسین شاہ تھا۔آپ سیّد بوٹے شاہ بن سیّد فتح الدین مندرانوالیہ رحمتہ اللہ علیہ کے تیسرے بیٹے تھے۔بیعت و خلافت اپنے چچاسیّد محمد بخش المعروف محمد شاہ رحمتہ اللہ علیہ سے رکھتے تھے۔ آپ کے چار بچّے ہوئے۔مگروہ بچپن میں ہی انتقال کرگئے۔ یارانِ طریقت آپ کے خاص مریدیہ تھے۔ ۱۔سیّدفضل شاہ بن سیّدپیراں دتہ ہاشمی برادرزادہ آنجناب رحمتہ اللہ علیہم مَندرانوالہ ضلع سیالکوٹ ۲۔سردارشاہ بن پیراں دتہ ہاشمی برادرزادہ آنجناب رحمتہ اللہ علیہم مَندرانوالہ ضلع سیالکوٹ ۳۔سیّد علی محمد بن سیّد اللہ دتہ ہاشمی برادرزادہ آنجناب رحمتہ اللہ علیہم مَندرانوالہ ضلع سیالکوٹ ۴۔سیّد نبی بخش بن سیّد اللہ دتہ ہاشمی برادرزادہ آنجناب رحمتہ اللہ علیہم مَندرانوالہ&nb۔۔۔
مزید
آپ کانام بنے شاہ المعروف مستی شاہ تھا۔آپ سیّد شیرشاہ بن سیّد الٰہی بخش کے اکلوتے بیٹے اور مرید و خلیفہ تھے۔ تعلیم آپ نے قرآن مجید اور فارسی ادب کی کتابیں مولاناسیّد غلام قادر بن سیّد عبداللہ شاہ رحمتہ اللہ علیہ برخورداری سےپڑھیں۔ آداب شناسی آپ بڑے مؤدب وحسن اخلاق والے تھے۔آپ میں آداب شناسی اِس حد تک تھی کہ اگرسادات برخورداریہ میں سے کسی بچّہ کو بھی دیکھ لیتے۔توتعظیم کے لیے اُٹھ کھڑے ہوتے اورفرماتےکہ یہ ہمارے بڑے باباصاحب کی اولاد ہیں۔اس لیے ان کی تعظیم لازمی ہے۔ پیرخانہ کی تعظیم آپ کاسلسلہ طریقت حضرت سچیارصاحب سے ملتاتھا۔جب کبھی عُرس نوشہرہ پرجاتے تو پاپیادہ جایاکرتے۔سوارہوکرجانے کو خلاف ادب سمجھتے۔ کرامت مچھر کو دفع کرنا سیّد عمر حیات بن سیّد غلام حسین برخورداری چنبھلی رحمتہ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ آپ ایک دفعہ موضع بَبّر ضلع گوجرانوالہ میں تشریف لے گئے۔۔۔۔
مزید
آپ کانام کرم الٰہی صاحب تھا۔آپ سیّد حیدرشاہ بن سیّد محمد نیک رحمتہ اللہ علیہ کے چوتھے بیٹے تھے۔ بیعت وخلافت شیخ غلام حسن بن شیخ بڈھاسلیمانی بھلوالی رحمتہ اللہ علیہ سے تھی۔جن کا ذکر طبقہ چہارم۔آٹھویں باب میں آئے گا۔ اخلاق آپ درویشانہ اخلاق رکھتے۔رحمدل اور مہربان تھے۔چونکہ افیون کھانے کے عادی تھے۔ اس لیےآپ لوگوں کی زبان میں "افیمی" مشہورتھے۔ اولاد آپ کانکاح سیّد امیربی بی بنت سیّد علم الدین بن سیّد علی محمد برخورداری ساہنپالوی رحمتہ اللہ علیہ سے تھا۔ان کے بطن سےکوئی اولاد نرینہ نہیں ہوئی۔صرف دوبیٹیاں ہوئیں۔پہلی کا نام سیدہ حسن بی بی ہےمنکوحہ سیّد حبیب اللہ بن سیّد اقبال علی برخورداری ساہنپالوی دوسری سیّد ہ حسین بی بی زوجہ سیّد فضل شاہ ساکن مندرانوالہ رحمتہ اللہ علیہ ۔ یارانِ طریقت آپ کے خواص مُرید یہ تھے۔ ۱۔میاں غلام مصطفےٰ بن میاں سلطان مست سچیاری رحمتہ اللہ علیہ ۔۔۔
مزید
آپ سیّد سکندرشاہ بن سیّد شاموں شاہ رحمتہ اللہ علیہ کے چوتھے بیٹے تھے۔خرقہ خلافت و اجازت شیخ گوہرشاہ بن شیخ ماہی شاہ سلیمانی رنملوی رحمتہ اللہ علیہ سے حاصل کیا۔ اوصاف پاک آپ بزرگ سیرت ۔خدایاد۔نیک طینت درویش باصفاتھے ۔آپ سےبہت لوگ فیضیاب ہوئے۔ اولاد آپ کے چار بیٹے تھے۔ ۱۔سیّد بالے شاہ رھمتہ اللہ علیہ۔ ۲۔سیّد حسین شاہ رحمتہ اللہ علیہ۔ ۳۔سیّد حیدر شاہ رحمتہ اللہ علیہ ۔ ۴۔سیّد محمدشاہ رحمتہ اللہ علیہ ۔ ؎ سیّد بالے شاہ رحمتہ اللہ علیہ (متوفی ۱۳۴۳ھ)دِتے شاہی فقیروں کے سلسلہ میں مرید ہوگئےتھے۔اس لیے نوشاہی فقیروں میں شمارنہیں تھے۔ان کاایک لڑکاسیّد مولابخش نام تھاجو لاولد فوت ہوا۔ ؎ س۔۔۔
مزید
آپ سیّد محمد بخش بن سیّد محمد جعفررحمتہ اللہ علیہ کے دوسرے بیٹے تھے۔پاک بازدرویش تھے۔ کاشتکاری کرتے تھے۔ اولاد آپ کے چار بیٹے تھے۔ ۱۔سیّد فضل الدین رحمتہ اللہ علیہ ۔ ۲۔سیّد بوٹے شاہ لاولدرحمتہ اللہ علیہ۔ ۳۔سیّد باغ علی رحمتہ اللہ علیہ۔ ۴۔سیّد غلام حسن لاولدرحمتہ اللہ علیہ۔ ؎ سیّد فضل الدین رحمتہ اللہ علیہ کا ایک بیٹا سیّدعلی محمد نام تھا۔جو لاولد فوت ہوا۔ ؎ سیّد باغ علی رحمتہ اللہ علیہ کے ایک فرزند سیّد رحمت علی رحمتہ اللہ علیہ تھے۔ جن کا ذکر نویں باب میں آئے گا۔سیّد رحیم بخش رحمتہ اللہ علیہ کی تین بیٹیاں تھیں۔ ۱۔سیّدہ حسن بی بی رحمتہ اللہ علیہ منکوحہ سیّد غلام رسول بن سیّد کریم بخش ہاشمی رحمتہ اللہ علیہ۔ ۲۔سیّد ہ عالم بی بی ۔۔۔
مزید
آپ سیّد محمد بخش بن سیّد محمد جعفرہاشمی رحمتہ اللہ علیہ کے بڑے بیٹے تھے۔خرقہ خلافت سیّد فتح محمد بن سیّد ضیأاللہ برخورداری رسول نگری رحمتہ اللہ علیہ سے حاصل کیا۔سخاوت و شجاعت کے اوصاف سے موصوف تھے۱؎۔ اولاد آپ کے ایک فرزند سیّد غلام رسول رحمتہ اللہ علیہ تھے۔ آپ کی دوبیٹیاں تھیں۔ ۱۔سیّدہ رسول بی بی رحمتہ اللہ علیہ منکوحہ سیّد راجے شاہ بن سیّد حیدرشاہ ہاشمی رنملوی رحمتہ اللہ علیہ۔ ۲۔سیّدہ فضل بی بی منکوحہ میاں غلام حسن بن میاں قطب الدین حفظانہ رسول نگری رحمتہ اللہ علیہ۔ سیّد کریم بخش کی قبرگورستان نوشاہیہ میں ہے۔ وفات ۱۲۸۹ھ۔ ۱؎مناقبات نوشاہیہ ۱۲ سیّد شرافت (سریف التواریخ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
فرزنداکبرسیّد عظیم اللہ بن سیّد خان ملک بن سیّد براہم شاہ ہاشمی رحمتہ اللہ علیہ ۔آپ نے بیعتِ طریقت شیخ گوہرشاہ بن شیخ ماہی شاہ سلیمانی رنملوی رحمتہ اللہ علیہ سے کی تھی۔ رسم ختنہ آپ کی سنّت ختنہ یکم ساون ۱۸۸۶ بکرمی مطابق پنجشنبہ ۱۴ محرم ۱۲۴۵ھ کو ہوئی۔ وظائف آپ مقبولِ خدا۔متبرک وجودتھے۔عصرکے بعد مغرب تک وظائف میں مشغول رہتے۔کسی سے دنیاوی کلام نہ کرتے۔۱۲۷۲ھ میں علاقہ جمّوں میں چلے گئے۔ کرامات گاؤں کوحکام کی دَستبُرد سے بچانا منقول ہے کہ باشندگانِ رَن مل نے ایک دفعہ خدمت میں عرض کیاکہ ہمیشہ شاہی فوج کے ڈیرے ہمارےگاؤں کے پاس لگاکرتے ہیں۔ جس سے ہم کو تکلیف پہنچتی ہے۔آپ نے فرمایاآج کے بعد کبھی یہاں ڈیرہ نہ کریں گے۔چنانچہ اُس روز سے کبھی رنمل کے پاس کوئی ڈیرہ نہیں اُترا۔ مَوہری کا دم کرنا منقول ہے کہ اگرکسی کے ہاتھ پر مَوہری نکل آتی۔توآپ کسی طاقتور آدمی کو اُس کا ہاتھ پکڑوا۔۔۔
مزید