جمعرات , 13 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Thursday, 30 April,2026

سیّدنا عبداللہ ابن عمرو رضی اللہ عنہ

   بن عوف۔یہ ان لوگوں میں سے ہیں جو قبیلئہ عرنیہ کے لوگوں میں گرفتار کرلئے گئے تھے جنھوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے  ؂۱     کوقتل کیاتھا۔یہ واقدی کا بیان ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

جعفر دمغانی

حضرت مولانا جعفر بن عبداللہ دمغانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

سیّد وارے شاہ رحمتہ اللہ علیہ

  آپ کا نام سردارعلی عرف وارے شاہ تھا۔آپ سید فضل الدین بن سیّد حیدرشاہ ہاشمی رحمتہ اللہ علیہ کے دوسرے بیٹے تھے۔صاحب حسن خلق تھے۔گاہ بگاہ پشاور کادَورہ بھی کیاکرتے۔اپنی مملوکہ زمین میں کاشتکاری کیاکرتے۔پَتلاجسم تھا۔داڑھی کو مہندی لگاتے تھے۔ اولاد آپ کا نکاح سیّد ہ زینب بی بی بنت سیّد فضل الدین ہاشمی رحمتہ اللہ علیہ سے ہواتھا۔آپ کی صرف ایک بیٹی ہوئی۔سیّد ہ فضل بی بی نام۔منکوحہ صاحبزادہ سید محمد بن فضل الدین ہاشمی مَندرانوالہ۔ یارِ طریقت آپ کا ایک مرید صاحبزادہ نورحسین بن سیّد حیات محمد ہاشمی ساکن مَندرانوالہ ہے۔ تاریخ وفات سیّد وارے شاہ کی وفات سوموار۔ساتویں جمادی الاوّل ۱۳۵۸ھ؁ میں ہوئی۔ مدفون گورستانِ نوشاہیہ۔ مادۂ تاریخ                "باغ دلکشا"۔ (سریف التواریخ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

مولوی شاہ عبدالغنی لاہوری

حضرت مولوی شاہ عبدالغنی لاہوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

سیّد گامے شاہ رحمتہ اللہ علیہ

  آپ کانام غلام محمد المعروف گامے شاہ تھا۔آپ سیّد فضل الدین بن سید حیدرشاہ رحمتہ اللہ علیہ کے فرزنداکبرتھے۔بیعت و خلافت شیخ گوہر شاہ بن شیخ ماہی شاہ سلیمانی رنملوی رحمتہ اللہ علیہ سے تھی۔ سادہ مزاجی آپ کی طبیعت بالکل سادہ تھی۔کاشتکاری کیاکرتے۔علم طب سے قدرے مَسّ تھی۔پیسوں آنوں کے ہی نسخے بتاتے۔حق تعالےٰ شفاکردیتا۔آپ کاجسم بھاراتھا۔داڑھی کو مہندی لگاتے تھے۔ اولاد آپ کا نکاح سیّدہ بیگم بی بی بنت سیّد فضل الدین ہاشمی رحمتہ اللہ علیہم سے ہوا۔ اُن کے بطن سے کوئی اولاد نرینہ نہیں ہوئی۔صرف ایک بیٹی سیّد ہ چنن بی بی نام ہوئی۔جو سیّد نواب علی بن سیّد میراں بخش ہاشمی رحمتہ اللہ علیہ ساکن چک نمبر۱۴تحصیل پھالیہ کے نکاح میں ہے۔ یاران طریقت آپ کے خاص مریدیہ تھے۔ ۱۔عمردین بن الٰہ دین کسّر                 &nbs۔۔۔

مزید

سیّد سلطان علی شاہ سنگھوئی والہ رحمتہ اللہ علیہ

  آپ سیّد صاحبزادہ المعروف اکبر علی شاہ بن سیّد حیدرشاہ کے فرزند دلبنداور مرید و خلیفہ تھے۔آپ بڑے صاحب رعب و اقبال تھے۔علاقہ پوٹھوہارمیں آپ کا عام شہرہ تھا۔سنگھوئی میں سکنونت رکھتے اپنے والد کا عرس بڑی دھوم دھام سے کیاکرتے۔ اولاد آپ کے ایک ہی فرزند سیّد ملک شاہ رحمتہ اللہ علیہ تھے۔ یاران طریقت آپ کے خواص مریدتھے۔ ۱۔سیّد بڈھے شاہ بن سیّد فضل الدین ہاشمی برادرعم زاد رحمتہ اللہ علیہم               رَن مل       ضلع گجرات ۲۔سیّد ملک شاہ فرزند رحمتہ اللہ علیہم                           سنگھوئی شریف    جہلم ۳۔حکیم محمد عالم بن میاں غلام حسن حفظانہ رحم۔۔۔

مزید

سیّد پیر محمد رحمتہ اللہ علیہ

  آپ سیّد غلام قادر بن سیّد لطف الدین کے فرزنداکبرتھے۔آپ کی والدہ کا نام سیّد ہ فضل بی بی بنت سیّد فتح الدین بن سیّد خدابخش برخورداری ساہنپالوی رحمتہ اللہ علیہ تھا۔ متعددعلوم سے واقفیت آپ نے ظاہری علم مولاناسیّد غلام قادر بن سیّد عبداللہ برخورداری ساہنپالوی رحمتہ اللہ علیہ سے حاصل کیا۔مختلف علوم میں دسترس پائی۔علم رمل اور اعداد الوفق میں پوری مہارت تھی۔ہرایک اسم کا نقش پُر کرلیتے۔عملیات کے بھی شائق تھے۔ متشرح عالم تھے۔ اشعار خوانی آپ اکثریہ اشعارپڑھاکرتے۔زلیخائے مولوی عبدالحکیم رحمتہ اللہ علیہ ؂ ارےمُلّاں ذراتوں فال پاویں میرے محبوب کی باتیں سناویں زلیخاآکھدی یوسف نوں روکے خداکے واسطے گل سُن کھلوکے تواے یوسف خداسے ڈر نگاہ کر وگرناہیں زلیخا جا سیامر خدانے کِس جنگل بِھیترہمن کو آن ڈالا ہے نہ ساقی ہے نہ دلبرہے نہ شیشہ ہے نہ پیالہ ہے کتابت آپ نے کنزالرحم۔۔۔

مزید

سیّد غلام رسول رحمتہ اللہ علیہ

  آپ سیّد کریم بخش بن سیّد محمد بخش رحمتہ اللہ علیہ کے اکلوتے بیٹے تھے۔خرقہ خلافت شیخ گوہر شاہ بن شیخ ماہی شاہ سلیمانی رنملوی رحمتہ اللہ علیہ سے حاصل کیاتھا۔ تلاوتِ قرآن مجید آپ نے قرآن مجید کی تعلیم مولاناسیدغلام قادربن سیّد عبداللہ برخورداری رحمتہ اللہ علیہ سے پائی۔درگاہِ عالیہ حضرت نوشہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ میں بیٹھ کر تلاوت کلام اللہ شریف کیاکرتے۔ زیاراتِ بزرگاں آپ نے ابتدامیں زمانہ حکومتِ سکھاں بھی دیکھاتھا۔پورانے نوشاہی بزرگوں کی زیارتیں بھی کی تھیں۔سیّد نظام الدین بن سیّد سبحان علی رحمتہ اللہ علیہ اور سیّد شیرشاہ بن سیّد الٰہی بخش رحمتہ اللہ علیہ اور سیّد حیدرشاہ بن سیّد محمد نیک رحمتہ اللہ علیہ  وغیرہ بزرگوں کا دیکھا تھا۔ ساہنپالیہ تارڑوں میں صلح کرانا ۱۹۳۳ء؁ کاواقعہ ہے کہ ساہنپالیہ تارڑوں میں بہت مخالفت ہوگئی۔ قتلوں تک نوبت پہنچ گئی۔بڑے بڑے لوگ صلح کرانےکے واسطے آئ۔۔۔

مزید

سیّد شیرعلی رنملوی صالح پوری رحمتہ اللہ علیہ

  آپ سیّد عطرالدین بن سیّد عظیم اللہ ہاشمی رنملوی رحمتہ اللہ علیہ کے فرزنداصغر تھے۔خلافت و اجازت حضرت سیّد مکھن شاہ بن سیّد حافظ الٰہی بخش مظہر حق برخورداری لاہوری رحمتہ اللہ علیہ سے تھی۔ ذکر قلب کاجاری ہونا آپ اپنے پیرِطریقت کےکمال فرمنبرداراورمؤدب تھے۔اہل شریعت و فقرتھے۔آپ فرماتے تھے۔کہ ایک روز میں اپنے پیرروشن ضمیرکے ساتھ ٹانگہ میں سوار تھا۔حضرت نے راستہ میں مجھ پر ایسی توجہ  فرمائی کہ میراقلب ذاکر ہوگیا۔ اخلاق و عادات آپ مسکین طبع۔غریب پرور۔اہل سخاوت تھے۔موضع رَن مل میں سکونت رکھتے ۔علاقہ شرقپور میں آپ کے ارادت مندوں کاسلسلہ کافی تھا۔وفات بھی اُسی سرزمین میں ہوئی۔ اولاد آپ کا نکاح سیدہ امت الرحیم بنت سیّد امام الدین بن سید نواب الدین ہاشمی رنملوی رحمتہ اللہ علیہم سے ہواتھا۔اس کے بطن سے اولاد ہوئی۔ آپ کا ایک ہی  فرزند صاحبزادہ فضل اعظم نام ہے۔یہ تاریخی عیسوی نام ہے۔۔۔

مزید

سیّد اکبرعلی رحمتہ اللہ علیہ

  آپ سیّد عطرالدین بن سیّد عظیم اللہ رحمتہ اللہ علیہ کے فرزنداکبرتھے۔بیعت و خلافت شیخ گوہرشاہ بن شیخ  ماہی شاہ سلیمانی رنملوی رحمتہ اللہ علیہ سے تھی۔ کرامت گرم سیخ کوران سے پارکرنا منقول ہے کہ ایک دن آپ موضع رَن مل میں لوہاروں کے دکان پر بیٹے تھے۔کرامت کے متعلق گفتگو شروع ہوگئی ۔لوہارنے کہا۔آپ بھی درویش کہلاتے ہیں ۔کوئی کرامت تو دکھائیں۔آپ نے گرم شدہ لوہے کی سیخ اپنے ران سےپارکردی۔ آپ دنیا سے بے اولاد فوت ہوئے۔ یارِ طریقت آپ کے مریدوں سے سائیں غلام محی الدین بن مہر شاہ بن شیخ محمد ہاشم اچھا درویش تھا۔اس کو روضہ سِکھانوالہ متصل شرق پورضلع شیخوپورہ میں موجودہے۔ہرسال میلہ لگتاہے۔ سیّد اکبر علی کی قبرگورستانِ نوشاہیہ میں ہے۔ وفات          ۱۳۳۲ھ؁۔ (سریف التواریخ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید