جمعرات , 13 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Thursday, 30 April,2026

سیّدنا عبدالرحمٰن بن اشیم انماری رضی اللہ عنہ

   ہیں۔اوربعض نے بیان کیاہے کہ انصاری ہیں ابوعمرنے کہا ہے کہ میں ان کوانصار کا حلیف سمجھتاہوں۔سلمہ بن دروان نےکہاہے کہ میں نے انس بن مالک اورسلمہ بن اکوع اور عبدالرحمٰن بن اشیم کوجوبنی انمار سے تھے دیکھا ہے یہ سب لوگ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے اپنے سفیدبالوں میں خضاب نہ لگاتے تھے۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

حضرت عون ابنِ علی المرتضٰی رضی اللہ عنہا

کر بلا میں بدر بن سیّار اور صالح بن سیّار کو قتل کیا، اور خالد بن طلحہ کے ہاتھ سے شہید ہوئے۔ [۱] [۱۔ تصویر کر بلا بحوالہ ریاض الشہادت ۱۲ شرافت] (شریف التواریخ)۔۔۔

مزید

حضرت یحییٰ ابنِ علی المرتضٰی رضی اللہ عنہا

لا ولد فوت ہوئے۔ (شریف التواریخ)۔۔۔

مزید

حضرت عمرو اطرف ابنِ علی المرتضٰی رضی اللہ عنہا

انہوں نے ستتر (۷۷) سال کی عمر میں وفات پائی، بعض کا بیان ہے کہ مصعب بن زبیر رضی اللہ عنہ کی طرف سے مختار ثقفی کے ساتھ جنگ کرتے ہوئے شہید ہوئے۔ ان کا ایک لڑکا محمد نام تھا، اسی سے نسل چلی ہے، ان کی اولاد بلخ، خراسان بغداد، ملتان وغیرہ میں پانی جاتی ہے۔ ان کی اولاد میں سے قاسم الملقّب بہ ملک طالقان مشہور شخص گذرا ہے بن محمد بن عبد اللہ بن محمد بن عمر و اطرف رضی اللہ عنہ۔ [۱] [۱۔ نسبنامہ رسول مقبول ۲؍ ۱۲] (شریف التواریخ)۔۔۔

مزید

سیّد غلام محی الدین رحمتہ اللہ علیہ

  آپ سیّد جلال الدین بن سیّد برہان شاہ چک ساوہ والہ رحمتہ اللہ علیہ کے اکلوتے بیتے اور مُرید وخلیفہ تھے۔صاحب علم و عبادت تھے۔زیادہ ترموضع بَنبانوالہ ضلع سیالکوٹ میں سکونت رکھتے۔وہاں آپ کے معتقدین کا فی تھے۔ قصیدہ رُوحی آپ قصیدہ رُوحی کاوِرد رکھتے۔کسی کاتب نے آپ کو قصیدہ لکھ کردیا۔اس پر دستخط اِ س طرح شعروں میں کیا ہے؂ قصیدہ کیتالکھ تمام عاجزایس فقیر غلام! ناں کائی مسجد ناں کائی جا وچہ وچالے ہے دریا ناں کو سجن ناں کوئی بیلی غوطے لیندی جان اکیلی اللہ فضل کریسی چا اوہو بخشے سب گناہ نال وسیلے اُس سرکار آپ چالنگھیسی پار! واسطے محی الدین غلام کیتا تحفہ لِکھ تمام والد اس داشاہ جلال اللہ کیتافضل کمال ساکن بنبانوالے جان ہردم رکھے رب امان پَڑھ پَڑھ کریوایہ دعا تنگی چاونجاخدا عاجزا یہ فقیر وچارا اوسےداہے کُل سہارا تاریخ وفات سی۔۔۔

مزید

سیّد فضل شاہ

  آپ سیّد برہان شاہ بن سیّد کرم شاہ چک ساوہ والہ کے چھوٹے بیٹے اور مرید و خلیفہ تھے۔اپنے خاندان کی جدی نیابت اپنے بھائی سیّد جلا ل الدین کے بعدآپ کو ملی۔ اخلاق وعادات آپ خوش خلق۔فیض رسان۔لوگوں کونفع پہنچانے والے تھے۔سچائی راست گوئی آپ کا شیوہ تھا۔آپ کی عادت تھی ۔کہ ہر سال ماہ ہاڑ میں غلّہ خریدلیتے اور جب موسمِ سرمامیں غریب لوگ غلّہ کے لیے تنگ ہوجاتے۔توآپ ان کو اُدھاردانے دے دیتے۔اکثر لوگ بیاہ شادیوں کے موقعہ پر آپ کے پاس حاضر ہوتے۔توآپ ان کی امدادکرتےاورقرضہ دے دیتے۔پھرآہستہ آہستہ جوں جوں مقروضوں سے بَن آتالیتے رہتے۔کسی کو تنگ نہ کرتے۔اگر سمجھتےکہ مقروض زیادہ نادارہے تو بعض اوقات قرضہ بخش دیتے۔ہرحاجت مند کی تکلیف کو رفع کرنے کی کوشش کرتے۔ اولاد آپ کے دو بیٹے ہوئے۔ ۱۔سیّد بڈھے شاہ۔یہ لاولد فوت ہوئے۔ ۲۔حاجی الحرمین پیرمعصوم شاہ۔یہ صاحب علم اور شریعت کے پابند ہیں۔مذہب اہل سن۔۔۔

مزید

سیّدجلال شاہ رحمتہ اللہ علیہ

  مظہرنورخدائے ذوالجلال قطب ِعالم حضرت سیّد جلال آپ موردِ فیوضِ سبحانی۔کاشف اسرارِ رحمانی ۔بزرگ وقت قطب زمان تھے۔سیّد برہان شاہ بن سید کرم شاہ چک سادہ والہ رحمتہ اللہ علیہ کے فرزندثانی تھے۔ بیعتِ طریقت آپ کی بیعتِ طریقت شیخ محمد بخش معمارگجراتی رحمتہ اللہ علیہ سے تھی۔ان کی خدمت میں کافی عرصہ گذارا۔وہ پیشہ معماری کرتے تھے۔اس لیے آپ نے بھی اُن کی محبت سے فن معماری سیکھ لیا۔ شجرہ بیعت آپ کے پیر طریقت شیخ محمد بخش معمار گجراتی متوفی ۱۲۷۵ھ؁ کو دو نسبتیں حاصل تھیں۔ایک قادری نوشاہی خاندان سے۔دوسری نقشبندی مجددی خاندان سے۔ ۱۔یہ مرید شیخ کلیم اللہ گجراتی کے۔وہ مرید سید حافظ الٰہی بخش مظہر حق نوشاہی برخورداری کے۔وہ مرید اپنے والد سید حافظ نوراللہ کے ۔وہ مرید اپنے والد سید حافظ محمد حیات ربانی کے۔وہ مرید اپنے والد سید حافظ جمال اللہ فقیہ اعظم کے۔وہ مریداپنے والدسید حافظ محمد برخورد۔۔۔

مزید

سیّد شرف شاہ

  آپ سید برہان شاہ بن سید کرم شاہ چک سادہ والہ رحمتہ اللہ علیہ کے فرزنداکبراورمریدوخلیفہ تھے۔ بڑےخدایاد۔صاحب ریاضت ومجاہدہ تھے۔ معمولات آپ نصف شب کے وقت اُٹھ کرغسل کرکے مسجد میں جاتے اور نوافل تہجد اداکرکے سورۂ مزمل شریف بلند آواز سے پڑھاکرتے۔ کرامات آپ سیف زبان تھے۔جوکچھ فرماتے ظہور میں آجاتا۔ توام لڑکے پیداہونے کی دعا منقول ہے کہ جومسافر مسجدمیں آتا۔اس کی خدمت کیاکرتے۔ ایک دن چند مسافرآگئے۔آپ کے گھرسے طعام خرچ ہوچکاتھا۔روٹیاں لینے کے واسطے میراں ماچھن کے تنورپرگئے۔آگے وہ رورہی تھی۔اُ س نے عرض کیا۔میراایک بچہ تھا۔وہ آج مرگیاہے۔ میں نے تنورنہیں تپایا۔آپ نےفرمایاآج جتنے جوڑے روٹیاں ہم کو دےگی ۔اتنے ہی جوڑے خدا تعالیٰ تجھ کولڑکے عطافرمائےگا۔وہ تین جوڑے روٹیاں لے آئی۔آپ نے دعافرمائی اس کے گھر چھ لڑکے پید ا ہوئے۔ہرمرتبہ توام ہی پیداہوئے۔ دریاسے پایاب گذرنا منقول ہے کہ ایک ب۔۔۔

مزید

سیّد بڈھے شاہ

  ابنِ سیدحسین شاہ بن سید سکندرشاہ بن سید غلام شاہ بن سید فضل شاہ بن سید احمد بن سید فیض اللہ۔ آپ کی بیعت طریقت حضرت سیّد عمربخش بن محمد بخش نوشاہی برخورداری رسولنگری رحمتہ اللہ علیہ سے تھی۔جن کا ذکرطبقہ دوم کے ساتویں باب میں گذرچکاہے۔ پیر کی محبّت آپ کو اپنے پیرسے کافی محبت اورعقیدت تھی ۔عشق میں سرشار تھے۔ ادب  وتعظیم میں عالی مرتبہ تھے۔ اولاد آپ کے ایک فرزند سیّد وسوندھی شاہ تھے۔ ؎         سیّد وسوندھی شاہ کے چار بیٹے ہیں۔سید پیرشاہ۔سید خادم شاہ۔سیّد عنایت شاہ۔ سیّد سردار شاہ ۔چاروں موجود ہیں۔ تاریخ وفات سید بڈھے شاہ کی وفات سولہویں ربیع الاول ۱۳۴۴ھ؁ میں ہوئی۔قبر گورستانِ صالحیہ میں سنگِ مرمرسے بنی ہوئی ہے۔ قطعہ تاریخ سَید بڈھے شاہ آں پروردۂ صدق و صفا سروباغِ مصطفےٰ نورِ نگاہ مرتضےٰ سنہ ہجری سیزدہ صد چاروچل بودآنکہ رفت ش۔۔۔

مزید

سید شرف شاہ سمائل اوان والہ رحمتہ اللہ علیہ

  آپ سیّد جِھناں شاہ بن سید بوٹے شاہ چک سادہ والہ رحمتہ اللہ علیہ کے تیسرے بیٹے مریداور خلیفہ تھے۔ اخلاق و کمالات آپ شریعت کے پابند۔پرہیزگار۔اہل دل خدایاد تھے۔سخاوت وشجاعت میں لاثانی تھے۔مسافروں کے واسطے ضیافت کاسامان  فراخ رکھتے۔درود شریف ہزارہ کا وظیفہ عام تھا۔ سورۂ مزمّل شریف کےعامل تھے۔شب بیدار تھے۔ذکر حق میں اس حد تک محویت تھی۔ کہ اگر کوئی شخص کلام کرتاتوفرماتے پھربات کرو۔مجھے یاد نہیں رہی۔اربابِ باطن سے تھے۔خضر صورت مسیحا سیرت تھے۔سمائل اوان ضلع سیالکوٹ میں سکونت رکھتے تھے۔صاحبِ کرامات تھے۔ گہرے پانی سے پایاب گذرنا ایک بار آپ دادووالی سے سمائل اوان کو جارہےتھے۔راستہ میں نالہ ایک بڑے زور سے جاری تھا۔وہاں کے ماچھی سناہی پر لوگوں کو پار لنگھاتے تھے۔آپ راستہ سے مغرب کی طرف ہوکر پایاب گذرگئے۔علی  محمد نے بچشمِ خود دیکھاتو سب لوگ سلامی ہوئے۔ ایک شخص کو مجذوب بنانا ایک ب۔۔۔

مزید