وبن عثمان بن عبداللہ بن عمروبن مخزوم قریشی مخزومی۔کنیت ان کی ابوسعید ہے۔ انھوں نےنبی صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھاتھایہ سعید بن حریث کے بھائی تھے۔یہ اورحضرت خالد بن ولید اورابوجہل بن ہشام عبداللہ میں جاکر مل جاتے ہیں۔یہ عمروکوفہ میں رہتےتھے وہیں انھوں نے ایک گھربنالیاتھا۔یہ پہلے قریشی ہیں جنھوں نے کوفہ میں گھربنایا تھا۔انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث کی روایت کی ہےجب آپ کی وفات ہوئی تو ان کی عمربارہ برس کی تھی اوربعض لوگوں کابیان کہ غزوہ بدرکےسال میں یہ اپنی والد ہ کے شکم میں آئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سر پرہاتھ پھیراتھااوران کو خریدوفروخت میں برکت کی دعادی تھی۔چنانچہ انھوں نے بہت مال کمایااور کوفہ میں یہ سب سے زیادہ مالدارتھے سب لو گ ان کےپاس آیاکرتےتھےاوران پر اعتبار رکھتے تھےاوران سےمحبت رکھتےتھے جنگ قادسیہ میں شریک تھےاوروہاں ان سے بڑے کارنمایاں ہوئے۔ہمیں ابوا۔۔۔
مزید
بن مصطلق ام المومنین جویریہ کے بھائی تھے۔ان کا شمار اہل کوفہ میں ہے۔یہ ابن مندہ اورابونعیم کاقول ہے اوران دونوں نے روایت کی ہے کہ عمروبن حارث مذکورنے کہارسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی اورآپ نے کوئی درہم ودینارنہیں چھوڑانیز ابن مسعود کی قراءت والی حدیث بھی روایت کی ہے۔ہمیں ابوبکریعنی محمد بن عبدالوہاب بن عبداللہ بن علی انصاری اورابومحمد یعنی عبدالعزیزبن ابی طاہربرکات بن ابراہیم خشوعی وغیرہماسے روایت کر کےخبردی وہ کہتےتھے ہمیں علی بن حسن بن ہبتہ اللہ نے خبردی وہ کہتےتھے ہمیں ابوالقاسم بن سمرقندی اورابوعبداللہ یعنی محمد بن طلحہ بن علی بن یوسف رازی نے خبردی وہ دونوں کہتےتھےہمیں ابومحمد یعنی عبداللہ بن محمد بن ہزار مرد صریقنی نے خبردی وہ کہتے تھے ہم سے علی جعدنے بیان کیاوہ کہتےتھے ہمیں زبیرنے ابو اسحاق سے انھون نے عمروبن حارث خزاعی سے جو حضرت جویریہ بنت حارث کے بھائی تھےروایت۔۔۔
مزید
بن بلیل۔اوربعض لوگوں نے بیان کیاہے کہ ان کانام عمروبن عمیرہے کنیت ان کی ابولیلیٰ تھی انصاری ہیں ان کے نام میں اختلاف ہے بعض لوگ داؤد کہتےہیں اوربعض لوگ سفیان اور بعض لوگ یساراوربعض لوگ اوس اوربعض لوگ بلال ان کا تذکرہ کنیت کے باب میں اور عمروبن عمیرکے نام میں انشاء اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ آئے گااحد میں اوراس کے بعد کے غزوات میں شریک تھے پھرصفین میں حضرت علی کے ساتھ شریک ہوئے ابن کلبی نے بیان کیاہے کہ یہ مہاجرین سےتھےان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔طائف میں فروکش تھے۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں حاضرہوئے تھے ان سے ان کے بیٹےعثمان نے روایت کی ہے۔بعض لوگوں نے ان کانام عبداللہ بیان کیاہے مگر صحیح عمروہے۔ولید بن مسلم نے عبداللہ بن عبدالرحمن بن یعلیٰ طائفی سے انھوں نے عثمان بن عمروبن اوس سےانھوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے وہ کہتےتھے کہ میں قبیلہ ثقیف کے وفد کے ساتھ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں حاضرہواتھاحضرت روزانہ بوقت شب ہماری فرود گاہ میں تشریف لایاکرتےتھے اورہم سے باتیں کیاکرتے تھےایک روز وقت معمول سے کچھ دیر کر کےتشریف لائے اورفرمایاکہ آج میراوظیفہ دیرمیں ختم ہوا۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
حضرت علی بن موفق بغدادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اسمِ گرامی: آپ کا اسمِ گرامی علی بن موفق۔کنیت: ابو الحسن تھی۔ تحصیلِ علم: علی بن موفق رحمۃ اللہ علیہ نے منصور بن عمار ، احمد بن ابی الحواری اوردیگرسے اساتذہ سے اکتسابِ علم کیا۔ سیرت وخصائص: حضرت علی بن موفق بغدادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک ولیٔ کامل عابد ،زاہد اور ایک نیک سیرت شخص تھے۔آپ عراق اور بغداد کے معروف بزرگان دین میں سے تھے۔ حضرت شیخ ذوالنون مصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے محبت رکھتے تھے۔ بہت سے سفر کیے اپنی عمرمیں ستر بار حج بیت اللہ کیا۔ ایک دن حج کے موقعہ پر آپ کو خیال آیا کہ میں ہر سال حج پر آتا ہوں اور واپس چلا جاتا ہوں۔ مجھے یہ معلوم نہیں ہوا کہ میں کیا ہوں اور کس شمار میں ہوں۔ رات کو اللہ تعالیٰ نے خواب میں ارشاد فرمایا: یاد رکھو !جسے گھر بلاتے ہو وہی تمہارے گھر آتا ہے۔ اگر تم کسی کو گھر نہ ب۔۔۔
مزید
بن ابی زکریا۔ان کا ذکرصحابہ میں کیاگیاہےمگرصحیح نہیں ہے۔ان کی حدیث ابوضمرہ یعنی انس بن عیاض نے حارث بن ابی ثابت سے انھوں نے عمربن عبیداللہ سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سےایک مرتبہ نمازمغرب میں سہوہوگیاتھاان کاتذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید