۔ابن اسحاق نے ایساہی بیان کیاہے اورابن ہشام نے ان کانسب اس طرح بیان کیاہے فاکہ بن بشربن فاکہ بن زید بن خلدہ بن عامر بن زریق انصاری زریق انصاری زرقی۔زریق قبیلۂ بنی جشم بن خزرج اکبرکی ایک شاخ ہے۔یہ فاکہ بدرمیں شریک تھےجیساکہ ابن اسحاق اورابن کلبی نے بیان کیاہے ۔ان کا تذکرہ ابوعمر اورابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
فتح مصرمیں شریک تھے۔ان کاتذکرہ صحابہ میں کیاگیاہےمگران کی کوئی روایت معلوم نہیں ہوتی۔یہ ابوسعید بن یونس کاقول ہے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے مختصر لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
کندی ۔بعض لوگ ان کو سکونی اوربعض ازدی کہتےہیں۔زنیم ثمالی کے بیٹے ہیں۔ان کا شماراہل حمص میں ہے کنیت ان کی ابواسماء ہے۔سب لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ یہ ثمالی ہیں پس یہ ازدی بھی ہونگےکیونکہ ثمالہ قبیلۂ ازد کی ایک شاخ ہےاوربعض لوگ ان کا نام غطیف بیان کرتے ہیں۔ہمیں ابویاسر بن ابی حبہ نے اپنی سند کے ساتھ عبداللہ بن احمد سے نقل کرکے خبردی وہ کہتے تھےمجھ سے میرے والد نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے حماد بن خالد نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے معاویہ بن صالح نے یونس بن سیف سے انھوں نے غضیف بن حارث سے روایت کرکے بیان کیا کہ وہ کہتےتھے جوباتیں میں بھول گیاوہ بھول گیامگریہ مجھے خوب یادہے کہ میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ نمازمیں اپنا داہناہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھتےتھے۔اورعلاء بن یزید ثمالی نے غضیف سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے کہ میں بچہ تھاانصارکے (باغوں میں جاکران کے) چھوہارےکے درخ۔۔۔
مزید
آپ کی کنیت ابوالحسن اور نیشا پور کے مشائخ میں سے تھے، آپ حضرت سیّد الطائفہ جنید بغدادی، رویم، سمنون اور ابن عطاء رحمۃ اللہ علیہم سے مجالس رکھتے تھے، آپ نے بہت سے مشائخ کی زیارت کی تھی، حدیث، تفسیر، فقہ میں ماہر تھے، ۳۵۹ھ میں وفات پائی۔ سرور ہر دو جہاں سر دفتر علمائے دین سالِ ترحیلش بود، ساجد علی ابن حسین ۳۵۹ھ مقتدائے اولیاء زاہد علی متقی ہم رقم گشت از قلم زاہد علی صوفی ولی ۳۵۹ھ (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔
مزید
اماموں کے سردار، امت کے مقتدا شرلعیت کے معین و مدگار طریقت کے استاد، عارفین کے تاج سالکوں کے رہنما خواجہ ہبیرۃ البصری ہیں۔ آپ نے ارادت کا خرقہ خواجہ حذیفہ المرعشی کی خدمت سے حاصل کیا تھا۔ یہ واجب الاعتصام بزرگ علماء وقت کے مقتدا اولیاء زمانہ کے سرتاج تھے اور خدائے جل وعلا کی معرفت میں تمام مشائخ کبار کے درمیان انتہا سے زیادہ شہرت رکھتے تھے۔ آپ درجات رفیع اور مقامات عالی رکھتے اور عمل فضل میں بے نظیر اقتدار رکھتے تھے۔ (سیر الاولیاء)۔۔۔
مزید
آپ مشائخ نیشاپور میں شمار ہوتے ہیں ابوعلی سقفی عبداللہ منازل ابوبکر شبلی ابوبکر طاہر ابہری، اور حضرت مرتعش رحمۃ اللہ علیہم سے فیض صحبت پایا شیخ عمو رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اگر مجھے شیخ ابوبکر فراز کی زیارت نہ ہوتی تو میں صوفی نہ بن سکتا شیخ عمو نے ایک اور جگہ فرمایا کہ ایک بار میں اپنے دوستوں کے ساتھ سفر حج پر جا رہا تھا جب ہم نیشاپور پہنچے تو دوستوں نے بتایا اس شہر میں حضرت ابوبکر فرما رہتے ہیں آؤ ان کی زیارت کرلیں بعض دوستوں نے مشورہ دیا کہ وہ تو حج پر جانے والوں کو حج سے روک دیتے ہیں، اور کہتے ہیں اپنے والدین کی خدمت کرو، میں چند لمحوں کے لیے رکا، مگر پھر میں نے ارادہ کرلیا کہ آپ کو ضرور ملوں گا میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا سلام عرض کیا آپ نے پوچھا تم کون ہو اور کدھر جانے کا ارادہ رکھتے ہو میں نے بتایا کہ ہر ات سے آیا ہوں اور حج پر جا رہا ہوں آپ نے پوچھا تمہارے والدین زندہ۔۔۔
مزید
آپ کا اسم گرامی محمد بن فضل بن طاتی سختانی الہردی تھا۔ آپ موسیٰ بن عمران صیرنی قدس سرہ کے مرید تھے۔ علوم ظاہر و باطن میں کامل اور زہدو تقوی میں مکمل تھے۔ آخرین عمر میں آنکھوں کی بینائی سے محروم ہوگئے۔ اس حالت میں بھی آپ سے ہزاروں کرامات ظاہر ہوتی تھیں وہ آنکھ والوں سے ہر حالت میں آگے رہے آپ کی زبان حق ترجمان سے جو کچھ نکلتا اللہ تعالیٰ اسے پورا فرمادیتے تھے۔ آپ ۴۱۶ھ میں فوت ہوئے۔ چو رحلت کرد زین دنیائے فانی وصالش اہل دین اہل یقین طاق ۴۱۶ھ جناب شاہ عالی جاہ طاتی ہم اہل حسن عبداللہ طاتی ۴۱۶ھ (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔
مزید
آپ بخارا کے سادات عظام میں سے تھے لاہور کے قدیم مشائخ اور محدثین میں شمار ہوتے ہیں علوم ظاہری اور باطنی میں جامع تھے زہدو تقوی میں بے مثال تھے۔ علم تفسیر و حدیث اورفقہ میں اپنے وقت کے امام تھے ۳۹۵ھ کے آخر میں لاہور وارد ہوئے (یہ وہ زمانہ تھا جب محمود غزنوی کی فتوحات سے لاہور اہل اسلام کا مسکن بن رہا تھا) لاہور آتے ہی آپ نے عام مخلوق کو دعوت اسلام دی۔ تحفۃ الواصلین کے مولّف لکھتے ہیں۔ واعظانِ اسلام میں سب سے پہلے عالم دین تھے جنہوں نے لاہور میں قیام کیا اور عام لوگوں کو نور اسلام سے منور کیا تھا آپ کا وعظ اتنا موثر ہوتا کہ آپ کی مجلس میں بے پناہ لوگ جمع ہوتے اپنے تو اپنے اسلام سے بیگانے لوگ بھی آپ کے وعظ سے متاثر ہوتے آپ کی خوش بیانی کا یہ عالم تھا کہ ہر روز مجلس وعظ میں ہزاروں غیر مسلم دولتِ ایمان حاصل کرتے تھے ایک بار جو ہندو یا دوسرے مذہب کا آدمی آپ کی مجلس میں بیٹھتا کلمہ پڑھے بغ۔۔۔
مزید
آپ لاہور کے فاضل علماء کرام میں سے تھے، آپ استادِ کل مظہر کمالات دینی اور دنیوی ہوئے ہیں، علم و حلم سخا و عطا میں شہرت رکھتے تھے تھدریس و تعلیم میں متقدمین میں سے سبقت لے گئے تھے، ہزاروں لوگ آپ کے وسیلہ جمیلہ سے زیور علم دین سے آراستہ ہوئے، علوم نثر و نظم صرف و نحو منطق و معانی، فقہ و حدیث اور تفسیر میں یکتائے روزگار تھے،علماء کرام میں لاہور شہر میں جس شخص نے علم علم تدریس بلند رکھا وہ آپ کی ذات گرامی تھی، حالانکہ لاہور کا یہ زمانہ بڑا افراتفری کا دور تھا، پنجاب بھر کا کوئی ایسا عالم نہیں تھا جس نے اس چشمۂ فیض سے فیض حاصل نہ کیا ہو، آپ کا سارا خاندان علم و فضل کا سرچشمہ تھا، آپ کے والد حضرت غلام فرید اور آپ کے برادر گرامی مولانا غلام رسول فاضل لاہوری (جن کا ذکرِ خیر سابقہ صفحات میں گزر چکا ہے) بھی تدریس و تعلیم میں یکتائے روزگار تھے۔ آپ کی وفات ۱۲۷۲ھ میں ہوئی تھی، اور مادۂ تاریخ وفا۔۔۔
مزید