بن مطلب بن عبدمناف بن قصی۔قریشی مطلبی ۔کنیت ان کی ابومحمد تھی۔اوربعض لوگ ابوسائب بیان کرتے ہیں ان کی والدہ عبداللہ بن سبع بن مالک بن جنادہ کی بیٹی تھیں قبیلۂ بنی عنزہ بن اسد بن ربیعہ بن نزارسے۔یہ اوررسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم واقعۂ فیل کے سال میں پیداہوئے تھے۔اس کو ابن اسحاق نے مطلب بن عبداللہ بن قیس سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے ان کے داداقیس بن محزمہ سےروایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم ایک سال کی پیدائش ہیں ہم دونوں واقعۂ فیل کے سال میں پیداہوئےتھے۔یہ ان مولفتہ القلوب میں سے تھے جن کااسلام آخرمیں بہت اچھاہوگیاتھا۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حنین میں سو اونٹ نہیں دیے اورخیبر میں ان کو پچاس وثق دیے تھے ان کی آواز بہت بلندتھی کعبہ کےپاس کھڑے ہوکریہ چیختے تھےتوان کی آواز کوہ حراپرسنائی دیتی تھی۔ان سے ان کےدونوں بیٹے روایت ک۔۔۔
مزید
بن انس ۔کنیت ان کی ابوصرمہ تھی۔ان کاذکرقیس بن صرمہ کے نام میں ہوچکاہے۔ان کا تذکرہ ابوعمراورابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
ان کے والد عمروبن قیس بن زید بن سواد بن مالک بن غنم بن مالک بن نجار انصاری خزرجی ہیں یہ دونوں غزوۂ احد میں شریک ہوئےتھے ہمیں عبیداللہ بن احمد نے اپنی سند کے ساتھ یونس بن بکیرسے انھوں نے ابن اسحاق شہدائے احد کے ناموں میں لکھاہےکہ بنی سواد بن مالک بن غنم سے عمروبن قیس اوران کے بیٹے قیس بھی تھے۔ان کاتذکرہ عمروکے نام میں اس سے زیادہ ہوچکاہے قیس کی شرکت بدرمیں اختلاف ہے ابن کلبی نے ان کو شرکائے بدرمیں شمارکیاہے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
حبابن امرأ القیس بن ثعلبہ بن حبیب بن ذبیان بن عوف بن انماربن ذنباع بن مازن بن سعد بن مالک ابن زید بن افصیٰ بن سعد بن ایاس بن حرام بن جزام جذامی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں حاضرہوئےتھے اپنی قوم کے سردارتھےنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بنی سعد بن مالک پرسردارمقررفرمایاتھا۔ان کاتذکرہ ابن دباغ نے ابن کلبی سے ابوعمرپر استدراک کرنے کے لیے روایت کیاہے حالاں کہ ان کاتذکرہ ابوعمرنے لکھاہےاورکہاہے کہ بعض لوگ ان کو قیس جذامی کہتےہیں۔اوربعض لوگ قیس بن زید شام میں رہتےتھے۔پس کوئی وجہ استدراک کی نہیں ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید