پیر , 10 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 27 April,2026

خلیفہ الٰہی بخش صاحب

  آپ ذات کے نجار تھے اور پیشہ نجاری کیا کرتے تھے۔ پہلے آپ کو سحر سیکھنے کا بہت شوق تھا۔ حضرت صاحب کی صحبت کی برکت سے وہ شوق جاتا رہا۔ آپ کا اصلی نام اللہ دیا تھا۔جب حضرت صاحب سے بیعت ہوئے۔ تو حضور نے تبدیل کر کے الٰہی بخش رکھا۔ آپ ان پڑھ تھے۔ مگر متقی و صالح تھے۔ ذکر و شغل میں بہت مشغول رہتے تھے۔ حتیٰ کہ درود شریف ہر روز چوبیس ہزار بار پڑھتے۔ خلیفہ عبد اللہ شاہ نے جو میاں صاحب قبلہ کے پیر بھائی تھے آپ کے لیے خلافت کی سفارش کی۔ میاں صاحب نے فرمایا کہ اگرچہ یہ ذاکر شاغل اور مرتاض ہے۔ مگر فیض و نسبت ابھی خلافت کے لائق نہیں۔ تیرے کہنے سے خلافت دیتا ہوں۔ اجازت کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو نسبت و فیضان میں ترقی دی۔ بوجہ فنافی الشیخ آپ کی ظاہری صوررت حضرت صاحب سے بہت مشابہ ہوگئی تھی۔ آپ اکثر سیاحت میں رہا کرتے۔ اور مزارات سے استفاضہ کیا کرتے تھے۔ اس طرح گجرات پنجاب میں پہنچ کر حضرت شاہ دو۔۔۔

مزید

خلیفہ ہاشم شاہ صاحب

  آپ ذات کے پٹھان۔ گندم رنگ۔ قد مائل بدرازی۔ ذاکر شاغل صاحب نسبت تھے۔ ان سے بھی صد ہا لوگوں نے اللہ کا نام پوچھا اور بیعت کی۔ مگر سکوت اور استغراق خلیفہ امیر اللہ شاہ جیسا نہ تھا مزاج ذرا جلال والا تھا۔ ان کا انتقال بھی میاں صاحب قبلہ کے رو برو ہوا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ (مشائخ نقشبند)۔۔۔

مزید

خلیفہ امیر اللہ شاہ صاحب

  آپ اعظم و اشہر و اکبر خلفاء تھے۔ ذات نداف۔ صورت و سیرت میں بعینہ حضرت میاں صاحب علیہ الرحمۃ کے مشابہ تھے۔ چونکہ فنافی الشیخ کے مقام میں تھے۔ اس لیے آپ کی صورت حضرت صاحب سے بہت ملتی تھی۔ جو آپ کو دیکھتا تھا۔ کہتا تھا۔ کہ گویا میاں صاحب ہیں۔ آپ بوڑیہ کے صاحب ولایت اور تہجد گزار تھے۔ مراقبہ کی ایسی مشق تھی کہ صبح سے بیٹھ کر گیارہ بجے اٹھتے تھے۔ سکرت اور استغراق مرشد پاک کے مشابہ تھے۔ درود شریف اور اللہ الصمد کثرت سے پڑھتے تھے۔ توجہ گرم تھی۔ ہتنی کنڈ میں حضرت میاں صاحب کے ساتھ مجاہدہ کیا۔ میاں صاحب قبلہ فرماتے تھے۔ کہ جب امیر اللہ شاہ بیعت ہوا۔ تو ہم نے اس سے کہا۔ کہ دنیا مطلوب ہے یا عقبےٰ۔ تو اس نے کہا کہ مجھے آخرت منظور ہے۔ سو اللہ تعالیٰ نے اسے درویشی دی۔ آپ سخی خلیق بے طمع تھے۔ چنانچہ ایک مرتبہ بوڑیہ میں جو رئیس سکھ رہتا تھا اس کی لڑکی پر جن کا اثر تھا۔ اس بے کہلا بھیجا کہ میں آپ کے۔۔۔

مزید

حضرت شیخ ابو عبدالرحمٰن عبداللہ

حضرت شیخ ابو عبدالرحمٰن عبداللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

حضرت خواجہ سیف الدین قدس سرہ

    ولادت با سعادت: آپ حضرت عروۃ الوثقیٰ کے پانچویں فرزند ہیں۔ آپ کی ولادت با سعادت بقولے ۱۰۴۹ھ میں اور بقول مصنف روضہ قیومیہ ۱۰۵۵ھ میں بمقام سرہند ہوئی۔ آپ علوم ظاہری و باطنی اور کمالات صوری و معنوی اور زہد و تقویٰ و اتباع سنت کے جامع تھے۔ حضرت عروۃ الوثقیٰ آپ کے علو استعداد دیکھ کر ہر دم آپ پر خاص نظر عنایت رکھتے تھے۔ چنانچہ آپ نے عین ایّام شباب میں اپنے والد بزرگوار سے تمام کمالات مجددیہ کے حصول کی بشارت پائی۔ حق گوئی: سلطان وقت اورنگزیب عالمگیر نے حضرت خواجہ محمد معصوم قدس سرہ سے التجا کی کہ اپنا کوئی خلیفہ میری ہدایت و توجہ کے لیے روانہ فرمائیں۔ اس پر حضرت نے اپنی قیومیت کے پینتالیسویں سال اسی صاحبزادے کو دہلی میں بھیج دیا۔ جب حضرت شیخ وہاں پہنچے تو سلطان نے ان کا استقبال کیا اور بڑے اعزاز و اکرام سے ان کو شہر میں لایا اور قلعہ میں لے گیا۔ جب آپ قلعہ کے دروازے پر پہنچے تو دو۔۔۔

مزید

حضرت مولوی کرامت علی جونپوری

حضرت مولوی کرامت علی جونپوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

حضرت شاہ اکرم چشتی

حضرت شاہ اکرم چشتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

حضرت قاضی ہدایت اللہ مشتاق مٹیاری

حضرت قاضی ہدایت اللہ مشتاق مٹیاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سندھی زبان کے نامور انشاء پرداز مولانا قاضی ہدایت اللہ بن محمود بن محمسد سعید صدیقی ۱۲۸۶ھ/ ۱۹۶۹ء کو مردم خیز شہر مٹیاری(ضلع حیدرآباد) میںتولد ہوئے۔ آپ کے جد اعل۹یٰ مخدوم فیروز ٹھٹوی مکہ مکرمہ میں ۸۷۵ھ کو تولد ہوئے اور ۹۰۱ھ کو جام نظام الدین سمہ کے عہد حکومت میں سندھ تشریف لے آئے اور یہیں زندگی رشد و ہدایت میں بسر کی آخر انتقال کیا اور مکلی میں مدفون ہوئے۔ قاضی مشتاق کا ۳۶ ویں پشت میں نسب کا سلسلہ امیر المومنین خلیفۃ المسلمین جانشین مصطفی ، یار غار حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہٗ سے ملتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ آپ صدیقی ہیں کہ کہ میمن ، جیسا بعض نے گمان کیا ہے۔ تعلیم و تربیت : ابتدائی تعلیم مٹیاری میں حاصل کی اور اعلیٰ تعلیم کے لئے مشہور و معروف درسگاہ جامع مسجد مائی خیری حیدرآباد میں داخلہ لیا اور علامۃ الزمان حضرت مولانا م۔۔۔

مزید

ابو سعید چشتی دست رسول

حضرت ابو سعید چشتی دست رسول رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  آپ شیخ نور الدین بن شیخ عبدالقدوس کے بیٹے تھے اور شیخ نظام الدین بلخی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفۂ اعظم تھے پہلے آپ اپنے دادا شیخ عبدالقدوس گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید ہوئے اُن کی وفات کے بعد بلخ میں چلے گئے اور وہاں شیخ نظام الدین کی خدمت میں رہ کر تکمیل پائی۔ مراۃ الاسرار اور سواطع الانوار(اقتباس انوار) کے مصنفین لکھتے ہیں کہ ایک شخص درویشوں کے کمالات کا منکر تھا جس بزرگ کے پاس جاتا کہتا میں طالبِ خدا ہوں محنت و ریاضت میں نہیں کرسکتا مجھے کوئی ایسا بزرگ چاہیے جو اپنی ایک نگاہ سے سب کچھ سکھادے وہ مختلف بزرگوں سے ہوتا ہوا شیخ ابو سعید چشتی کے پاس آیا آپ کے ہاتھ میں اُس وقت ایک ڈنڈا تھا آپ نے فرمایا آتجھے میں اِس ڈنڈے سے خدا تک پہنچاتا ہوں یہ کہہ کر آپ نے ایک ڈنڈا اس کے سر پر مارا عالم ملکوت اُس پر ظاہر ہوگیا دوسرا مارا تو عالمِ جبروت ظ۔۔۔

مزید

فقیہ عصر حضرت مولانا مفتی قاسم یاسینی

فقیہ عصر حضرت مولانا مفتی قاسم یاسینی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ   استاد الاساتذہ ، فقیہ عصر ، حضرت علامہ مفتی محمد قاسم یاسینی بن استاد العلماء حضرت علامہ محمد ہاشم یاسینی ۱۶، ربیع الاخر ۱۳۰۵ھ بروز اتوار صبح کو تولد ہوئے۔ ’’صدر اعظم ‘‘ سے ان کی تاریخ ولادت نکلتی ہے: پرمش از میلاد او کردم سروش ’’صدر اعظم‘‘ گفت تاریخش بگوش ۱۳۰۵ھ تعلیم و تربیت : مفتی محمد قاسم صاحب نے اپنے والد ماجد علامہ محمد ہاشم یاسینی کے پاس درس نظامی کی تکمیل کی۔ اعلیٰ تعلیم اور فتویٰ نویسی کے لئے بر صغیر کے فقیہ اعظم ، امام اہل سنت، علامہ مفتی عبدالغفور ہمایونی قدس سرہ الاقدس کی خدمت عالیہ میں ہمایون شریف میں رہ کر مہارت تامہ حاصل کی۔ بیعت : حضرت خواجہ عبدالرحمن فاروقی ؒ ( ٹکھہڑ ضلع حیدرآباد ) کے دست اقدس پر سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجدد یہ میں بیعت ہو کر سلوک کی منازل طے کی۔۔۔

مزید