حضرت شیخ جمال الدین احمد جورقانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ شیخ علی لالہ کے مرید تھے آپ کے پیر و مرشد فرمایا کرتے تھے جس شخص نے جمال الدین احمد کی صحبت پائی اسے حضرت جنید بغدادی اور شبلی رحمۃ اللہ علیہما کی صحبت میّسر آگئی۔ایک دن آپ کا ایک مرید آپ کے حجرے میں مراقبے میں مشغول تھا آپ کے آنے کی آواز سُنی تو دل میں کہنے لگا شاید میرے لیے کوئی کھانا لے کر آیا ہے حضرت شیخ جمال الدین احمد نے اس کے دل کی بات معلوم کرلی اپنا جوتا اتار کر کر اس کے سر پر مارنا شروع کردیا اور فرمایا مراقبہ اسے زیب دیتا ہے جس نے ایک ہفتہ تک کھانا نہ کھایا ہو اسے لوگوں کے جوتوں کی آواز سن کر یہ خیال کرنے کی ضرورت نہیں رہتی کو آنے والا میرے لیے کھانا لا رہا ہے۔حضرت شیخ نے ۶۶۹ھ میں وفات پائی۔ حسن دَوراں جمال دین احمدسالِ ترحیل آں جمال جہاںذات او بود ماہتاب جمالکن رقم قطب آفتاب جمال۶۶۹ھ(خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔
مزید
حضرت سعید ناگوری سوالی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ کو سعید ناگوری سوالی بھی کہتے ہیں، سلطان التارکین کا لقب اور ابو احمد کنیت تھی، حضرت معین الدین چشتی اجمیری علیہ الرحمۃ کے جلیل القدر خلفا میں سے تھے، ترک دنیا اور خلوت نشینی میں بڑا اونچا مقام تھا، اللہ کے خاص بندوں میں سے تھے، آپ کی بلند ہمتی دنیا و آخرت سے بھی بلند و بالا تھی اور شخوص ثلثہ کے علاوہ کسی طرف بھی آپ کی نظر محبت نہیں پڑتی تھی، تصوف میں شان بلند اور قواعد طریقت کے بیان میں اونچا مقام رکھتے تھے، آپ سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اولاد میں سے ہیں جو عشرہ مبشرہ میں شمار ہوتے ہیں، آپ ہندوستان کے مقتدمین بزرگوں میں ہیں اور آپ نے بڑی لمبی عمر پائی ہے، خود فرماتے ہیں کہ فتح دہلی کے بعد مسلمان گھرانوں میں سب سے پہلے میری ولادت ہوئی ہے، حضرت معین الدین چشتی کے زمانہ سے شیخ نظام الدین اولیاء کے ابتدائی زمانہ تک آپ حیات رہے ممکن ہے کہ۔۔۔
مزید
حضرت خواجہ حسین ناگوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ حضرت خواجہ حسین ناگوری جامع علوم معنی و صوری ہیں۔ خاندانی حالات: آپ حضرت حمیدالدین ناگوری رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت شیخ وحیدالدین کی اولاد سے ہیں۔ بیعت و خلافت: آپ حضرت شیخ کبیرکےمریداورخلیفہ ہیں۔اپنےپیرومرشدکی خدمت میں ایک عرصے تک گجرات میں رہے،پھراپنےوطن ناگورواپس ہوئے۔ اجمیرمیں آمد: آپ اجمیرآئےاوردربارخواجہ غریب نوازمیں مدتوں حاضررہے،خواجہ غریب نوازکےمزار مبارک کی خدمت میں مشغول رہے،عبادت ومجاہدات کرتےرہے۔ واپسی: خواجہ غریب نوازکاحکم پاکراپنےوطن تشریف لےگئے،وہاں پہنچ کرتعلیم و تلقین میں مشغول رہے۔ سازوسامان: آپ کےپاس جوجائیدادتھی،یعنی مکان کنواں اورباغ دہ آپ نےسرورعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے نام پروقف کردی تھی۔ آپ کےپاس ایک چھکڑاتھا۔جوآپ کی سواری کےکام آتاتھا۔اس چھکڑے کوخودہی ہانکتےتھےاور بیلوں کوجواس میں جوتےجاتے تھے،خود ہی چر۔۔۔
مزید
حضرت ابو سلیمان احمد خطابی (صاحب معالم السنن) رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ۔۔۔
مزید
حضرت مولانا مفتی صالح نعیمی بھٹو رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ صدر العلماء حضرت مولان مفتی محمد صالح نعیمی بن حاجی فیض محمد بن حاجی لال بخش بھٹو نے ۱۳۳۹ھ؍ ۱۹۲۰ء میں گوٹھ آگانی تحصیل و ضلع لاڑکانہ میں تولد ہوئے۔ تعلیم و تربیت: مختلف اساتذہ سے علوم دین حاصل کیا۔ مدرسہ عربیہ قاسم العلوم مشوری شریف میں فقیہ اعظم حضرت خواجہ محمد قاسم مشوری ، مدرسہ شمس العلوم گوٹھ خیر محمد آریجہ میں استاد العلماء مولانا تاج محمد کھوکھر ، گھوٹکی میں مولانا محمد اسماعیل سے اور مدرسہ سراج العلوم خانپور ضلع رحیم یار خان میں سراج الرفقہاء مولانا سراج احمد خانپوری وغیرہ ہم سے مختلف علوم فنون میں استفادہ کیا اور فارغ التحصیل ہوئے۔ دورہ حدیث شریف کے لئے مدرسہ جامعہ نعیمیہ مراد آباد ( انڈیا) تشریف لے گئے جہاں صدر الافاضل ، شیخ الحدیث علامہ سید محمد نعیم الدین مراد آبادی سے حدیث شریف کا درس لیا اور ۱۹۴۶ء میں دستار فضیل۔۔۔
مزید
حضرت حافظ محمد صاحب قادری عمر زئی پشاوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ۔۔۔
مزید
حضرت شیخ حمزہ دہرسوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ شیخ الاسلام بہاؤالدین زکریا کی اولاد میں سے تھے، اور آپ کا سلسلہ میر سید محمد گیسودراز تک پہنچتا ہے۔ آپ بڑے بابرکت، صاحبِ نعمت و کرامت اور دائم العبادت بزرگ تھے، اوقات کے بہت پابند تھے، آپ کی عمر بھی بہت طویل تھی، سلطان بہلول کے زمانہ سے اسلام شاہ کے دَور سلطنت تک زندہ رہے، اوائل عمر میں آپ نے کسی سلطان کے ہاں ملازمت بھی کی تھی، کہتے ہیں کہ ایک رات اس کے محل کی آپ نگرانی کررہے تھے کہ اچانک آپ کے دل میں خیال آیا کہ مجھے اس کا کام کرنا چاہیے جو میری حفاظت کرتا ہونہ اس کا جس کی میں حفاظت کروں، اس خیال کے آنے کے بعد آپ خواجہ معین الدین کے پاس اجمیر چلے گئے اور وہاں جاتے ہی ایک دیوانے سے ملاقات ہوگئی جس کا نام بھی معین الدین ہی تھا چنانچہ آپ نے انہی سے فیض حاصل کیا اور علاوہ ازیں شیخ احمد مجدی کی صحبت سے بھی فیضیاب ہوئے تھے اور اس کے بعد اجمیر سے اپ۔۔۔
مزید
حضرت مولانا محمد عبداللہ جھنگوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مولانا محمد عبد اللہ بن احمد یار (رحمہما اللہ تعالیٰ )۱۲،محرم ، ۱۵ ستمبر(۱۳۴۰ھ/ ۱۹۲۱ئ) کو لنگر انہ چک ۲۳۷،نزد محمد ی شریف ، ضلع جھنگ میں پیدا ہوئے ۔ محمدی شریف مین قرآن پاک پڑھنے کے بعد ابتدائی کتابیں پرھیں ، بعد ازاں بھیرہ ضلع سرگودھامیں مولانا سعید الرحمن ہزاروی سے علمی استفادہ کیا ، پھر موضع قفری (ضلع سرگودھا) میں مولانا خدا بخش سے درس نظامی کی آخری کتابیں حمد اللہ شرح لم ، مسلم الثبوت اور توضیح تلویح وغیرہ پڑھیں پھر کچھ عرصہ محمدی شریف جا کر پڑھتے رہے ، درس ھدیث کے لئیمرکش علم و عرفان بریلی شریف گئے اور حضرت شیخ الحدیث مولانا ابو الفضل سردار احمد قدس سرہ العزیزسے اکتساب فیض کیا ۔ سلسلۂ عالیہ چشتیہ میں شیخ الاسلام حضرت خواجہ محمد قمر الدین سیالوی مدظلہ العالی کے مرید تھے۔ تکمیل علوم کے عد مدرسہ ضیاء شمس الاسلام ، سیال شریف ( ضلع۔۔۔
مزید
مولوی حکیم محمد قطب الدین جھنگوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مناظر جلیل،طبیب حاذق حضر ت علامہ مولانا حکیم محمد قطب الدین ابن مولوی احمد بخش موضع پر کوٹ سدانہ (ضلع جھنگ) میں پیدا ہوئے،ابتدائی تعلیم والد ماجد سے حاصل کی بعد ازاں صرف ونحو کے امام مولانا حافظ جمالاللہ رحمہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں گھوٹہ(ضلع ملتان) میں حاضر ہوئے اور صرف سے لے کر عبد الغفور (حاشیۂ شرحی جامی) اور متن متین تک کتابیں پڑھیں، حضرت حافظ صاحب کے وصال کے بعد دہلی چلے گئے اور طبیہ کاج دہلی میں داخل ہوئے۔یکم رمضان المبارک، ۱۳جولائی(۱۳۳۳ھ؍۱۹۱۵ئ) کو فاضل طب و جراحت کی سند اور تمغہ حاصل کر کے واپس پنجاب تشریف لائے۔ آپ کو طالب علمی کے دور ہی سے تقریر و مناظرہ سے دلچسپی تھی۔ قیام دہلی کے دوران مسلمانان دہلی نے فوارہ کے مقام پر مخافلین اسلام کے اعتراضات کے جوا دینے کے لئے آپ ہی کو منتخب کیا ہوا تھا۔ آپ نے دہلی،آگرہ وغیر وہ ۔۔۔
مزید
حضرت مولانا کلیم اللہ مچھا نوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جامع معقول و منقول مولانا کلیم اللہ مچھیانوی ابن مولانا غلام قادری (م۱۲۹۳ھ) ابن جیون رحمہم اللہ تعالیٰ تیر ہویں صدی ہجری کے ربع اول میں گا کھڑہ (گجرات) میں پیدا ہوئے،وڑائچ زمیند ر برادری تعلق رکھتے تھے،انکے والد ماجد متجر عالم اور بہترین طبیب تھے جدا امجد مولانامحمد حیات بھی اپنے دور کے نامور عالم تھے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم والد ماجد سے حاصل کی،پھر مولانا محمد اسمٰعیل ،ساکن خنوائی کی خدمت میں کئی سال رہ کر اکتساب علم کیا۔دیگر اساتذہ میں مولانا بد الدین ساکن گوکیلی(م۱۲۸۶ھ)،مولانا شاہ نواز ساکن بھروکی،مولانا ھافظ نور الدین چکوڑی (م۱۳۰۲ھ) اور مولانا سید احمد ساکن شاہ دیول (م۱۳۰۲ھ) کے اسماء ملتے ہیں۔ آپ تحصیل علوم کے بعد ۱۸۵۲ء میں گا کھڑہ سے منتقل ہو کر مچھیانہ (گجرات) میں قیام پذیر ہو گئے اور درس و تدریس،تصنیف و تالیف اور تبلیغ کا کام شروع ۔۔۔
مزید